🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حج کا طریقہ اور دخول مکہ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 617
وعن أبي الطفيل قال: رأيت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يطوف بالبيت ويستلم الركن بمحجن معه ويقبل المحجن. رواه مسلم.
سیدنا ابوطفیل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت اللہ کا طواف کرتے دیکھا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نوکیلے سرے والی چھڑی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی، (اس) سے حجر اسود کو چھوتے اور اس چھڑی کو بوسہ دیتے تھے۔ (مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 617]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الحج، باب جواز الطواف علي بعير وغيره، حديث:1275.»

تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
3077
يطوف بالبيت يستلم الركن بمحجن معه يقبل المحجن
سنن أبي داود
1879
يطوف بالبيت على راحلته يستلم الركن بمحجنه يقبله
سنن ابن ماجه
2949
يطوف بالبيت على راحلته يستلم الركن بمحجنه يقبل المحجن
بلوغ المرام
617
الركن بمحجن معه ويقبل المحجن
بلوغ المرام کی حدیث نمبر 617 کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 617
617 لغوی تشریح:
«بمحجن» میم کے نیچے کسرہ ہے۔ ٹیڑھے سرے والا ڈنڈا۔ خمدار چھڑی۔

فوائدومسائل:
➊ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر ہجوم زیادہ ہو اور حجراسود کو بوسہ دینا مشکل یا ناممکن نظر آئے تو چھڑی لگا کر اس چھڑی کو چوم لے۔
➋ مسند احمد میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تو طاقتور اور زور آور آدمی ہے۔ حجر اسود تک رسائی حاصل کرنا تیرے لئے دشوار کام نہیں ہے، مگر دھکم پیل سے کمزوروں کو اذیت اور تکلیف ہوتی ہے، اس لئے اگر تمہیں فارغ وقت میسر آ جائے تو ہاتھ سے چھو لیا کرو، بصورت دیگر حجر اسود کے سامنے کھڑے ہو کر «لا اله الاالله والله اكبر» ہی کہہ لیا کرو۔ [مسند احمد: 1 28]
➌ اس حدیث سے معلوم ہو رہا ہے کہ مناسک حج ادا کرتے ہوئے دوسروں کو تکلیف و اذیت دینا جائز نہیں
➍ اگر حجر اسود کا استلام صرف ہاتھ کے اشارے سے ہو تو ہاتھ کو چومنا نہیں چاہیے کیونکہ ہاتھ اور چھڑی وغیرہ کو اس لئے بوسہ دیا جاتا ہے کہ وہ حجر اسود کے ساتھ لگ چکے ہوتے ہیں۔

راوئ حدیث: حضرت ابوالطفیل رضی اللہ عنہ، ان کا نام عامر بن واثلہ کنانی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کے آٹھ سال پائے۔ 100 ہجری میں مکہ مکرمہ میں وفات پائی۔ اور قول کے مطابق 102 ہجری میں وفات پائی۔ اور ایک قول ان کی وفات کے بارے میں 110 ہجری کا بھی ہے۔ روئے زمین پر بسنے والے صحابہ رضی اللہ عنہم میں سب سے آخر میں فوت ہونے والے یہ خوش قسمت صحابی ہیں۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 617]