🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حق مہر کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 886
وعن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏من أعطى في صداق امرأة سويقا أو تمرا فقد استحل» .‏‏‏‏ أخرجه أبو داود،‏‏‏‏ وأشار إلى ترجيح وقفه.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کسی نے مہر میں عورت کو ستو یا کھجوریں دے دیں اس نے حلال کر لیا۔ اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور اس کے موقوف ہونے کی طرف اشارہ کیا ہے اور ترجیح بھی اسی کو دی ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 886]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، النكاح، باب قلة المهر، حديث:2110.* ابن رومان مستور وثقه ابن حبان وحده وفيه علة أخري.»

تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
2110
من أعطى في صداق امرأة ملء كفيه سويقا أو تمرا فقد استحل
بلوغ المرام
886
من أعطى في صداق امرأة سويقا أو تمرا فقد استحل
بلوغ المرام کی حدیث نمبر 886 کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 886
تخریج:
«أخرجه أبوداود، النكاح، باب قلة المهر، حديث:2110.* ابن رومان مستور وثقه ابن حبان وحده وفيه علة أخري.»
تشریح:
یہ حدیث دلیل ہے کہ جب نکاح کرنے والے مرد و عورت کسی مقدار مہر پر راضی ہو جائیں ‘ خواہ وہ قلیل ہو یا کثیر‘ جبکہ اس کی قیمت ہو تو یہ جائز ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 886]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2110
مہر کم رکھنے کا بیان۔
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی عورت کو مہر میں مٹھی بھر ستو یا کھجور دیا تو اس نے (اس عورت کو اپنے لیے) حلال کر لیا۔‏‏‏‏ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے عبدالرحمٰن بن مہدی نے صالح بن رومان سے انہوں نے ابوزبیر سے انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے موقوفاً روایت کیا ہے اور اسے ابوعاصم نے صالح بن رومان سے، صالح نے ابو الزبیر سے، ابو الزبیر نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اس میں ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک مٹھی اناج دے کر متعہ کرتے تھے ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن جریج نے ابو ال۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2110]
فوائد ومسائل:
نکاح متعہ خیبر سے پہلے حلال تھا، بعد میں بھی کچھ اوقات میں حلال رہا۔
مگر فتح مکہ کے موقع پر کلیتا حرام کر دیا گیا۔
یہ قصہ نزول حرمت سے پہلے کا ہو سکتا ہے اور اس میں اصل بات کم سے کم مہرکا ذکر ہے جو کہ شرعی حلال نکاح لازمی جزو ہے۔
متعہ کے باقی امور منسوخ کرکے حرام قراد دیے جا چکے ہیں۔
(مزید دیکھے. فوائد حدیث نمبر2073)
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2110]