🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن ٹیکسٹ کی صورت میں حاصل کریں۔ مزید تفصیل کے لیے رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. باب فى الدعوة إلى الإسلام قبل القتال:
جنگ کرنے سے پہلے اسلام کی دعوت دینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2479
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَمَّرَ رَجُلًا عَلَى سَرِيَّةٍ أَوْصَاهُ: "إِذَا لَقِيتَ عَدُوَّكَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَادْعُهُمْ إِلَى إِحْدَى ثَلَاثِ خِلَالٍ أَوْ ثَلاثِ خِصَالٍ فَأَيَّتُهُمْ مَا أَجَابُوكَ إِلَيْهَا، فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَكُفَّ عَنْهُمْ ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ، فَإِنْ هُمْ أَجَابُوكَ فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَكُفَّ عَنْهُمْ، ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى التَّحَوُّلِ مِنْ دَارِهِمْ إِلَى دَارِ الْمُهَاجِرِينَ، وَأَخْبِرْهُمْ إِنْ هُمْ فَعَلُوا أَنَّ لَهُمْ مَا لِلْمُهَاجِرِينَ، وَأَنَّ عَلَيْهِمْ مَا عَلَى الْمُهَاجِرِينَ، فَإِنْ هُمْ أَبَوْا، فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّهُمْ يَكُونُونَ كَأَعْرَابِ الْمُسْلِمِينَ، يَجْرِي عَلَيْهِمْ حُكْمُ اللَّهِ الَّذِي يَجْرِي عَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَلَيْسَ لَهُمْ فِي الْفَيْءِ وَالْغَنِيمَةِ نَصِيبٌ إِلَّا أَنْ يُجَاهِدُوا مَعَ الْمُسْلِمِينَ. فَإِنْ هُمْ أَبَوْا أَنْ يَدْخُلُوا فِي الْإِسْلامِ، فَسَلْهُمْ إِعْطَاءَ الْجِزْيَةِ، فَإِنْ فَعَلُوا، فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَكُفَّ عَنْهُمْ، فَإِنْ هُمْ أَبَوْا، فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ وَقَاتِلْهُمْ. وَإِنْ حَاصَرْتَ أَهْلَ حِصْنٍ، فَإِنْ أَرَادُوكَ أَنْ تَجْعَلَ لَهُمْ ذِمَّةَ اللَّهِ وَذِمَّةَ نَبِيِّهِ، فَلَا تَجْعَلْ لَهُمْ ذِمَّةَ اللَّهِ، وَلَا ذِمَّةَ نَبِيِّهِ، وَلَكِنْ اجْعَلْ لَهُمْ ذِمَّتَكَ وَذِمَّةَ أَبِيكَ، وَذِمَّةَ أَصْحَابِكَ، فَإِنَّكُمْ إِنْ تُخْفِرُوا بِذِمَّتِكُمْ وَذِمَّةِ آبَائِكُمْ، أَهْوَنُ عَلَيْكُمْ مِنْ أَنْ تُخْفِرُوا ذِمَّةَ اللَّهِ وَذِمَّةَ رَسُولِهِ. وَإِنْ حَاصَرْتَ حِصْنًا فَأَرَادُوكَ أَنْ يَنْزِلُوا عَلَى حُكْمِ اللَّهِ، فَلَا تُنْزِلْهُمْ عَلَى حُكْمِ اللَّهِ، وَلَكِنْ أَنْزِلْهُمْ عَلَى حُكْمِكَ، فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي أَتُصِيبُ حُكْمَ اللَّهِ فِيهِمْ أَمْ لا، ثُمَّ اقْضِ فِيهِمْ بِمَا شِئْتَ".
سلیمان بن بریدہ نے اپنے باپ سے روایت کیا انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کو کسی پلٹن کا سردار بناتے تو اسے وصیت کرتے تھے کہ جب تمہاری مشرک دشمن سے ملاقات ہو تو انہیں تین میں سے ایک بات کی دعوت دو، ان تینوں خصلتوں میں سے وہ جو بھی مان لیں اس کو قبول کر لو اور ان سے لڑائی نہ کرو، وہ تین باتیں یہ ہیں: ان کو اسلام کی دعوت دو، اگر وہ اس پر راضی ہوں تو تم قبول کر لو اور ان سے باز رہو (یعنی ان کے جان و مال کو تلف نہ کرو)، پھر ان سے کہو کہ وہ اپنے ملک سے مہاجرین کے ملک میں منتقل ہو جائیں اور انہیں بتاؤ کہ اگر وہ ایسا کریں گے تو جو (حق فائدہ) مہاجرین کے لئے ہے وہ ان کو بھی ملے گا، جو سزائیں (قصور کے بدلے) مہاجرین کو دی جاتی ہیں وہی ان کو بھی دی جائیں گی، اور اگر وہ ہجرت کرنے سے انکار کر دیں تو ان کا حکم مسلم دیہاتیوں کا سا ہوگا اور الله کا حکم جو مسلمانوں پر جاری ہوتا ہے وہ ان پر جاری ہوگا اور ان کو مالِ غنیمت یا بلا جنگ کے حاصل شدہ مال میں سے کوئی حصہ نہیں ملے گا سوائے اس حالت کے کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ جہاد کریں، اور اگر وہ اسلام لانے سے انکار کریں تو ان سے کہو کہ جزیہ ادا کریں، اگر وہ جزیہ دینے پر راضی ہوں تو قبول کر لو اور ان سے باز رہو (ان کے قتل یا مال سے کیونکہ وہ ذمی ہو گئے اور ان کا جان و مال محفوظ ہو گیا)، اور اگر وہ جزیہ دینے سے بھی انکار کریں تو اللہ سے مدد طلب کر کے ان سے لڑائی کرو اور اگر تم کسی قلعہ کا محاصرہ کرو اور قلعہ کے لوگ تم سے الله اور اس کے رسول کا ذمہ طلب کریں (یعنی امان مانگیں) تو اللہ اور اس کے رسول کا ذمہ نہ دو بلکہ اپنا، اپنے باپ اور اپنے ساتھیوں کا ذمہ دیدو، اس لئے کہ اگر تم اپنا ذمہ یا اپنے باپ دادوں کا ذمہ توڑ ڈالو تو یہ اس سے آسان ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول کا ذمہ توڑ ڈالو، اور اگر تم کسی قلعہ کا محاصرہ کرو پھر قلعہ والے یہ چاہیں کہ اللہ کے حکم پر وہ قلعہ سے نکل آئیں گے تو اس شرط پر انہیں نہ نکالو بلکہ اپنے حکم پر ہی انہیں نکلنے کو کہو، اس لئے کہ تم نہیں جانتے تم اللہ کے حکم پر چل سکو گے یا نہیں، پھر اس کے بعد جس طرح چاہو ان کا فیصلہ کر لو۔ [سنن دارمي/من كتاب السير/حدیث: 2479]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2486] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 1731] ، [أبوداؤد 2612] ، [ترمذي 1617] ، [ابن ماجه 2858]
وضاحت: (تشریح حدیث 2478)
اس حدیث سے بہت سے مسائل معلوم ہوئے۔
ایک یہ کہ جنگ کرنے سے پہلے اسلام کی دعوت دی جائے، انکار کریں تو جزیہ طلب کیا جائے، اس سے بھی انکار کریں تو پھر قتال کیا جائے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مال فئ اور غنیمت میں دیہاتیوں کا حصہ نہیں ہے سوائے ان کے جو جہاد میں شہریوں کے ساتھ شریک ہوں، نیز یہ کہ اگر دشمن پہلی دو شرطوں میں سے کوئی ایک کو مان لے تو پھر ان سے جنگ نہیں کی جائے گی۔

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥بريدة بن الحصيب الأسلمي، أبو سهل، أبو ساسان، أبو عبد الله، أبو الحصيبصحابي
👤←👥سليمان بن بريدة الأسلمي
Newسليمان بن بريدة الأسلمي ← بريدة بن الحصيب الأسلمي
ثقة
👤←👥علقمة بن مرثد الحضرمي، أبو الحارث
Newعلقمة بن مرثد الحضرمي ← سليمان بن بريدة الأسلمي
ثقة
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← علقمة بن مرثد الحضرمي
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥محمد بن يوسف الفريابي، أبو عبد الله
Newمحمد بن يوسف الفريابي ← سفيان الثوري
ثقة
Sunan Darmi Hadith 2479 in Urdu