🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. باب جواز الإقعاء على العقبين:
باب: ایڑیوں پر سرین رکھ کر بیٹھنا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 536 ترقیم شاملہ: -- 1198
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ . ح، قَالَ: وحَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ، قَالَا جَمِيعًا: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا ، يَقُولُ: قُلْنَا لِابْنِ عَبَّاسٍ : فِي الإِقْعَاءِ عَلَى الْقَدَمَيْنِ، فَقَالَ: هِيَ السُّنَّةُ، فَقُلْنَا لَهُ: إِنَّا لَنَرَاهُ جَفَاءً بِالرَّجُلِ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " بَلْ هِيَ سُنَّةُ نَبِيِّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
طاوس نے بیان کیا کہ ہم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دونوں پیروں پر بیٹھنے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے جواب دیا: یہ سنت ہے۔ ہم نے ان سے عرض کی: ہمارا تو خیال ہے کہ یہ انسان (یا اگر را کی زیر کے ساتھ رجل پڑھا جائے تو پاؤں) پر زیادتی ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: (نہیں) بلکہ یہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1198]
حضرت طاؤس بیان کرتے ہیں کہ ہم نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے قدموں پر بیٹھنے کے بارے میں پوچھا، انہوں نے جواب دیا یہ سنت ہے تو ہم نے عرض کیا ہمارا خیال ہے کہ یہ پاؤں پر زیادتی ہے تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا، بلکہ یہ تو تیرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1198]
ترقیم فوادعبدالباقی: 536
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥طاوس بن كيسان اليماني، أبو عبد الرحمن
Newطاوس بن كيسان اليماني ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة إمام فاضل
👤←👥محمد بن مسلم القرشي، أبو الزبير
Newمحمد بن مسلم القرشي ← طاوس بن كيسان اليماني
صدوق إلا أنه يدلس
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد
Newابن جريج المكي ← محمد بن مسلم القرشي
ثقة
👤←👥عبد الرزاق بن همام الحميري، أبو بكر
Newعبد الرزاق بن همام الحميري ← ابن جريج المكي
ثقة حافظ
👤←👥الحسن بن علي الهذلي، أبو علي، أبو محمد
Newالحسن بن علي الهذلي ← عبد الرزاق بن همام الحميري
ثقة حافظ له تصانيف
👤←👥محمد بن بكر البرساني، أبو عثمان، أبو عبد الله
Newمحمد بن بكر البرساني ← الحسن بن علي الهذلي
ثقة
👤←👥إسحاق بن راهويه المروزي، أبو يعقوب
Newإسحاق بن راهويه المروزي ← محمد بن بكر البرساني
ثقة حافظ إمام
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
1198
الإقعاء على القدمين فقال هي السنة فقلنا له
سنن أبي داود
845
الإقعاء على القدمين في السجود فقال هي السنة
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 1198 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1198
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
اَلْاِقْعَاء:
اقعاء کی دوصورتیں ہیں:
(1)
اپنی سرین کو زمین پر رکھ کر پنڈلیوں کو کھڑا کرکے ہاتھوں کو کتے کی طرح زمین پر بچھا دینا،
یہ بالا تفاق ممنوع ہے اور دوسری حدیث میں اس سے روکا گیا ہے۔
(2)
دونوں سجدوں کے درمیان اپنی سرین قدموں (ایڑیوں)
پر رکھ کر بیٹھنا اس کو ابن عباس رضی اللہ عنہ سنت قرار دے رہے ہیں،
صحابہ،
محدثین اور امام شافعی رحمہ اللہ اس کو جائز قرار دیتے ہیں۔
(2)
جَفَاء:
گرانی اور مشقت،
بدسلوکی۔
الرِّجل:
اگر اس کو رجل پڑھیں تو پاؤں مراد ہو گا اور رَجُل قرار دیں تو انسان مراد ہوگا کہ اس طرح بیٹھنا انسان کے لیے گرانی اور مشقت کا باعث ہے۔
فوائد ومسائل:
مرد اور عورت کی نماز میں کسی ہیئت اور کیفیت میں اختلاف کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے اور اِقْعَاء کی صورت اس انسان کے لیے ہے جس کے لیے اس انداز میں بیٹھنے میں سہولت اور آسانی ہو۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1198]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 845
دونوں سجدوں کے درمیان اقعاء کرنے یعنی ایڑیوں پر بیٹھنے کا حکم۔
طاؤس کہتے ہیں کہ ہم نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: دونوں سجدوں کے بیچ میں دونوں قدموں پر اقعاء ۱؎ (سرین کو ایڑیوں پر رکھ کر پنجے کو کھڑا کر کے بیٹھنا) کیسا ہے؟ تو انہوں نے کہا: یہ سنت ہے۔ طاؤس کہتے ہیں: ہم نے کہا: ہم تو اسے آدمی کے ساتھ زیادتی سمجھتے تھے تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: یہ تیرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 845]
845۔ اردو حاشیہ:
ایڑیوں پر بیٹھنے کو اقعاء کہتے ہیں اور سجدوں کے درمیان کبھی کبھار اس طرح بیٹھنا جائز ہے۔ مگر اقعاء کی دوسری کیفیت عقبت الشیطان ناجائز ہے۔ یعنی انسان اپنی پنڈلیوں کو کھڑا کر لے اور سرین پر بیٹھ جائے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 845]