🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
50. باب فضل كثرة الخطا إلى المساجد:
باب: مسجدوں کی طرف زیادہ قدم چل کر جانے کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 663 ترقیم شاملہ: -- 1516
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: " كَانَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ، بَيْتُهُ أَقْصَى بَيْتٍ فِي الْمَدِينَةِ، فَكَانَ لَا تُخْطِئُهُ الصَّلَاةُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَتَوَجَّعْنَا لَهُ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا فُلَانُ، لَوْ أَنَّكَ اشْتَرَيْتَ حِمَارًا يَقِيكَ مِنَ الرَّمْضَاءِ، وَيَقِيكَ مِنْ هَوَامِّ الأَرْضِ، قَالَ: أَمَ وَاللَّهِ مَا أُحِبُّ أَنَّ بَيْتِي مُطَنَّبٌ بِبَيْتِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَحَمَلْتُ بِهِ حِمْلًا، حَتَّى أَتَيْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ، قَالَ: فَدَعَاهُ، فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ وَذَكَرَ لَهُ: أَنَّهُ يَرْجُو فِي أَثَرِهِ الأَجْرَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ لَكَ مَا احْتَسَبْتَ ".
عباد بن عباد نے ہمیں حدیث سنائی، کہا: ہمیں عاصم نے ابوعثمان سے حدیث سنائی، کہا: انصار میں ایک آدمی تھا، اس کا گھر مدینہ میں سب سے دور (واقع) تھا اور اس کی کوئی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں پڑھنے سے چوکتی نہیں تھی، ہم نے اس کے لیے ہمدردی محسوس کی تو میں نے اسے کہا: جناب! اگر آپ ایک گدھا خرید لیں جو آپ کو گرمی اور زمین کے (زہریلے) کیڑوں سے بچائے (تو کتنا اچھا ہو!) اس نے کہا: واللہ! مجھے یہ پسند نہیں کہ میرا گھر (خیمے کی طرح) کنابوں کے ذریعے سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر سے بندھا ہوا ہو۔ مجھے اس کی یہ بات بہت گراں گزری حتی کہ میں اسی کیفیت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو اس بات کی خبر دی۔ آپ نے اسے بلوایا تو اس نے آپ کو بھی وہی جواب دیا اور آپ کو بتایا کہ وہ آنے جانے پر اجر کی امید رکھتا ہے۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں یقیناً وہی اجر ملے گا جسے تم حاصل کرنا چاہتے ہو۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1516]
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، ایک انصاری آدمی تھا، اس کا گھر مدینہ میں سب سے زیادہ دور گھر تھا اور اس کی کوئی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں پڑھنے سے نہیں رہتی تھی، ہم نے اس کے لیے درد محسوس کیا (اس کی تکلیف کا ہمیں احساس ہوا) تو میں نے اسے کہا، اے فلاں! اے کاش، آپ ایک گدھا خرید لیں، جو آپ کو گرمی اور زمین کے زہریلے کیڑوں سے بچائے، اس نے کہا، ہاں، اللہ کی قسم! مجھے یہ پسند نہیں ہے کہ میرا گھر طنابوں (رسیوں) کے ذریعہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر سے بندھا ہوا ہوتا تو مجھے اس کی یہ بات بہت ناگوار محسوس ہوئی حتیٰ کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آ کر آپ کو اس کی خبر دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلوایا تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اس قسم کا جواب دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا، میں اپنے آنے جانے پر ثواب کی امید رکھتا ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تجھے وہ اجر ملے گا، جس کی تم نے نیت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1516]
ترقیم فوادعبدالباقی: 663
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبي بن كعب الأنصاري، أبو المنذر، أبو الطفيلصحابي
👤←👥أبو عثمان النهدي، أبو عثمان
Newأبو عثمان النهدي ← أبي بن كعب الأنصاري
ثقة ثبت
👤←👥عاصم الأحول، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newعاصم الأحول ← أبو عثمان النهدي
ثقة
👤←👥عباد بن عباد المهلبي، أبو معاوية
Newعباد بن عباد المهلبي ← عاصم الأحول
ثقة
👤←👥محمد بن أبي بكر المقدمي، أبو عبد الله
Newمحمد بن أبي بكر المقدمي ← عباد بن عباد المهلبي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
1516
إن لك ما احتسبت
صحيح مسلم
1514
جمع الله لك ذلك كله
سنن أبي داود
557
أعطاك الله ذلك كله أنطاك الله عز و جل ما احتسبت كله أجمع
سنن ابن ماجه
783
إن لك ما احتسبت
مسندالحميدي
380
إن له بكل خطوة يخطوها إلى المسجد درجة
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 1516 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1516
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
هَوَامِّ:
هَامة کی جمع ہے،
زہریلے کیڑے مکوڑوں کو کہتے ہیں۔
(2)
مُطَنَّب:
طَنَب سے ماخوذ ہے۔
خیمے کو رسیوں سے باندھنا۔
مقصد ہے کہ میرا گھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر سے متصل ہوتا۔
(3)
حَمَلْتُ بِهِ حِمْلاً:
میں نے سینہ پر بوجھ اٹھایا،
مقصد یہ ہے کہ اس کے یہ الفاظ میرے لیے بہت ناگواری کا باعث بنے۔
(4)
فِي أَثَرِهِ:
اس چال اور آمدورفت کے سبب۔
فوائد ومسائل:
انصاری صحابی کا مقصد یہ تھا میرا گھر مسجد سے دور ہے مجھے آنے جانے میں مشقت برداشت کرنی پڑتی ہے اور میں یہ مشقت محض اس امید پر برداشت کرتا ہوں کہ مجھے اس کا اجر ملے گا۔
میں اپنے اجرو ثواب سے کسی صورت میں محروم نہیں ہونا چاہتا،
یہ نہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قرب و جوار کو پسند نہیں کرتا تھا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1516]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث783
مسجد سے جو جنتا زیادہ دور ہو گا اس کو مسجد میں آنے کا ثواب اسی اعتبار سے زیادہ ہو گا۔
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مدینہ میں ایک انصاری شخص کا مکان انتہائی دوری پر تھا، اس کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس کی کوئی نماز نہیں چھوٹتی تھی، مجھے اس کی یہ مشقت دیکھ کر اس پر رحم آیا، اور میں نے اس سے کہا: اے ابوفلاں! اگر تم ایک گدھا خرید لیتے جو تمہیں گرم ریت پہ چلنے، پتھروں کی ٹھوکر اور زمین کے کیڑے مکوڑوں سے محفوظ رکھتا (تو اچھا ہوتا)! اس انصاری نے کہا: اللہ کی قسم میں تو یہ بھی پسند نہیں کرتا کہ میرا گھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے کسی گوشے سے ملا ہو،۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 783]
اردو حاشہ:
(1)
صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نیکیاں حاصل کرنے کا کس قدر شوق رکھتے تھے یہ واقعہ اس کی ایک ادنٰی مثال ہے کہ دور دراز راستے کی مشقت صرف اس لیے گوارا ہے کہ دور سے چل کر آنے میں ثواب زیادہ ہوگا۔

(2)
صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی باہمی ہمدردی بھی قابل اتباع ہے کہ ایک صحابی اپنے ساتھی کی مشقت کو اس طرح محسوس کرتا ہے گویا وہ مشقت خود اسے لاحق ہے اس لیے اسے مناسب مشورہ دیتا ہے۔

(3)
مسلمان کی خیر خواہی کا تقاضہ یہ ہے کہ اسے اچھا مشورہ دیا جائے اگر چہ اس نے مشورہ طلب نہ کیا ہو۔

(4)
حضرت ابی نے اس صحابی کی بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے نصیحت فرمائیں اس لیے اگر کسی کے بارے میں یہ خیال ہو کہ وہ فلاں بزرگ کی نصیحت پوری کرلے گا تو اس بزرگ کو اس ساتھی کی غلطی اصلاح کی نیت سے بتا دینا جائز ہے۔
البتہ اسے ذلیل کرنے کی نیت سے بتانا درست نہیں۔

(5)
کسی کی شکایت پہنچے تو تحقیق کیے بغیر اس کے بارے میں کوئی نامناسب رائے قائم نہیں کرنی چاہیے۔
بہتر ہے کہ خود نامناسب الفاظ کہنے والے سے دریافت کرلیا جائے کہ اس کا ان الفاظ سے کیا مطلب ہے؟
(6)
مومن کی اچھی نیت ثواب کا باعث ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 783]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1514
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، ایک آدمی تھا، میرے علم میں مسجد سے اس سے زیادہ کسی کا فاصلہ نہ تھا۔ اور اس کی کوئی نماز (باجماعت) قضاء نہیں ہوتی تھی تو اسے کسی نے کہا یا میں نے کہا: اے کاش آپ تاریکی اور گرمی میں آسانی کے لیے گدھا خرید لیں تو اس نے کہا: مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ میرا گھر مسجد کے پڑوس میں ہو، میں چاہتا ہوں میرا مسجد تک چل کر جانا اور جب میں گھر لوٹوں تو میرا لوٹنا لکھا جائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:1514]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
انسان کا رات کی تاریکی میں اور گرمیوں کی شدت میں گھر سے مسجد تک جانا آنا لکھا جاتا ہے اور ان چیزوں (گرمی،
تاریکی،
آمدورفت)
کا انسان کو اجرو ثواب ملتا ہے اس لیے مسجد سے مسافت کے بعد اور دوری سے ڈر کر یا اس کو بہانا بنا کر گھر میں نماز پڑھ لینا درست نہیں ہے نماز کے لیے جس قدر مشقت برداشت کرے گا۔
یا دور سے آئے گا اتنا ہی اجرو ثواب میں اضافہ ہو گا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1514]

Sahih Muslim Hadith 1516 in Urdu