Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
31. باب امر من نعس في صلاته او استعجم عليه القرآن او الذكر بان يرقد او يقعد حتى يذهب عنه ذلك:
باب: نماز یا قرآن مجید کی تلاوت یا ذکر کے دوران اونگھنے یا سستی غالب آنے پر اس کے جانے تک سونے یا بیٹھے رہنے کا حکم۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 786 ترقیم شاملہ: -- 1835
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ جَمِيعًا، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ، فَلْيَرْقُدْ حَتَّى يَذْهَبَ عَنْهُ النَّوْمُ، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا صَلَّى وَهُوَ نَاعِسٌ، لَعَلَّهُ يَذْهَبُ يَسْتَغْفِرُ فَيَسُبُّ نَفْسَهُ ".
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جب تم میں سے کوئی شخص نماز میں اونگھنے لگے تو وہ سو جائے حتیٰ کہ نیند جاتی رہے کیونکہ جب تم میں سے کوئی شخص اونگھ کی حالت میں نماز پڑھتا ہے تو وہ ممکن ہے وہ استغفار کرنے چلے لیکن (اس کی بجائے) اپنے آپ کو برا بھلا کہنے لگے۔" [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1835]
امام صاحب مختلف اساتذہ سے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روایت بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص نماز میں اونگھنے لگے تو وہ سو جائے حتیٰ کہ اس کی نیند دورہو جائے، کیونکہ جب تم میں سے کوئی شخص اونگھ کی حالت میں نماز پڑھتا ہے تو ممکن ہے وہ دعا اور استغفار کرنے کی بجائے اپنے آپ کو برا بھلا کہنے لگے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1835]
ترقیم فوادعبدالباقی: 786
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة إمام في الحديث
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله
Newمالك بن أنس الأصبحي ← هشام بن عروة الأسدي
رأس المتقنين وكبير المتثبتين
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← مالك بن أنس الأصبحي
ثقة ثبت
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهشام بن عروة الأسدي ← قتيبة بن سعيد الثقفي
ثقة إمام في الحديث
👤←👥حماد بن أسامة القرشي، أبو أسامة
Newحماد بن أسامة القرشي ← هشام بن عروة الأسدي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن العلاء الهمداني، أبو كريب
Newمحمد بن العلاء الهمداني ← حماد بن أسامة القرشي
ثقة حافظ
👤←👥عبد الله بن نمير الهمداني، أبو هشام
Newعبد الله بن نمير الهمداني ← محمد بن العلاء الهمداني
ثقة صاحب حديث من أهل السنة
👤←👥محمد بن نمير الهمداني، أبو عبد الرحمن
Newمحمد بن نمير الهمداني ← عبد الله بن نمير الهمداني
ثقة حافظ
👤←👥عبد الله بن نمير الهمداني، أبو هشام
Newعبد الله بن نمير الهمداني ← محمد بن نمير الهمداني
ثقة صاحب حديث من أهل السنة
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← عبد الله بن نمير الهمداني
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
212
إذا نعس أحدكم وهو يصلي فليرقد حتى يذهب عنه النوم فإن أحدكم إذا صلى وهو ناعس لا يدري لعله يستغفر فيسب نفسه
صحيح مسلم
1835
إذا نعس أحدكم في الصلاة فليرقد حتى يذهب عنه النوم فإن أحدكم إذا صلى وهو ناعس لعله يذهب يستغفر فيسب نفسه
جامع الترمذي
355
إذا نعس أحدكم وهو يصلي فليرقد حتى يذهب عنه النوم إن أحدكم إذا صلى وهو ينعس لعله يذهب يستغفر فيسب نفسه
سنن أبي داود
1310
إذا نعس أحدكم في الصلاة فليرقد حتى يذهب عنه النوم فإن أحدكم إذا صلى وهو ناعس لعله يذهب يستغفر فيسب نفسه
سنن النسائى الصغرى
162
إذا نعس الرجل وهو في الصلاة فلينصرف لعله يدعو على نفسه وهو لا يدري
سنن ابن ماجه
1370
إذا نعس أحدكم فليرقد حتى يذهب عنه النوم فإنه لا يدري إذا صلى وهو ناعس لعله يذهب يستغفر فيسب نفسه
موطا امام مالك رواية ابن القاسم
171
إذا نعس احدكم فى الصلاة فليرقد حتى يذهب عنه النوم، فإن احدكم إذا صلى وهو ناعس لعله يذهب يستغفر فيسب نفسه
مسندالحميدي
185
إذا نعس أحدكم وهو يصلي فلينفتل فإنه لا يدري لعله يذهب يستغفر فيسب نفسه أو قال فيدعو على نفسه
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 1835 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1835
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
انسان جب نماز پڑھتا ہے اور اس پر نیند غالب ہونا شروع ہوتی ہے تو اسے یہ معلوم نہیں رہتا،
میرے منہ اور زبان سے کیا نکلا ہے اور اس وجہ سے کسی نقطہ کی کمی وبیشی ہو جاتی ہے جیسا کہ معروف اردو شعر ہے۔
ہم دعا لکھتے رہے وہ دغا پڑھتے رہے ایک نقطہ نے ہمیں محرم سے مجرم بنا دیا انسان دعا کرتا ہے۔
(اللَّٰهُمَّ اغْفِرْ لِي)
اے الله!مجھے معاف فرما،
اگر اس کی جگہ یہ کہہ دے۔
(اللَّٰهُمَّ اعفِرْ لِي)
تو اس کا معنی ہوگا اے اللہ! مجھے زمین میں دھنسا دے،
یا مجھے زمین پر پٹخ دے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1835]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد حسين ميمن حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري 212
اونگھ سے یا (نیند کا) ایک جھونکا آ جانے سے وضو نہیں ٹوٹتا
«. . . أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ يُصَلِّي فَلْيَرْقُدْ حَتَّى يَذْهَبَ عَنْهُ النَّوْمُ، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا صَلَّى وَهُوَ نَاعِسٌ لَا يَدْرِي لَعَلَّهُ يَسْتَغْفِرُ فَيَسُبُّ نَفْسَهُ . . .»
. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب نماز پڑھتے وقت تم میں سے کسی کو اونگھ آ جائے، تو چاہیے کہ وہ سو رہے یہاں تک کہ نیند (کا اثر) اس سے ختم ہو جائے۔ اس لیے کہ جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھنے لگے اور وہ اونگھ رہا ہو تو وہ کچھ نہیں جانے گا کہ وہ (اللہ تعالیٰ سے) مغفرت طلب کر رہا ہے یا اپنے نفس کو بددعا دے رہا ہے . . . [صحيح البخاري/كِتَاب الْوُضُوءِ: 212]
فوائد و مسائل:
باب اور حدیث میں مناسبت:
امام بخاری رحمہ اللہ نے باب میں یہ ثابت کرنا چاہا کہ اونگھنے سے وضو کا اعادہ لازم نہیں آتا اور اس کے ذیل میں حدیث مبارک سے استدلال اخذ فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم نہیں دیا کہ اس نماز (جس میں نیند کا غلبہ اونگھ ہو) کو دوبارہ پڑھے تو معلوم ہوا کہ اونگھنے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔

◈ علامہ ناصرالدین ابن المنیر رحمہ اللہ رقمطراز ہیں:
«فيه يدل على أن النعاس اليسير لا ينا فى الطهارة» [المتواري ص 72]
اس میں (باب اور حدیث کی مناسبت) یہ ہے کہ اونگھ جو ہے طہارت کے منافی نہیں ہوتی (یعنی اونگھنے سے وضو نہیں ٹوٹتا)۔

◈ حافظ بن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ محض اونگھنے سے وضو نہیں ٹوٹتا ورنہ اس علت کی کوئی ضرورت نہ تھی بلکہ واضح حکم صادر فرماتے کہ وہ پھر نئے سرے سے وضو کرے۔ [فتح الباري ج1 ص416]

◈ علامہ عینی حنفی رحمہ اللہ رقمطراز ہیں:
«مطابقة هذا الحديث والذي بعده للترجمة تفهم من معنى الحديث، فإن النبى صلى الله عليه وسلم لما أوجب قطع الصلاة، وأمر بالرقاد دل ذالك على أنه كان مستغرقاً فى النوم فإنه علل ذالك بقوله: فإن أحدكم . . . .» [عمدة القاري ج3 ص165]
علامہ عینی نے بھی اسی طرف اشارہ کیا ہے کہ صرف اونگھنے سے وضو نہیں ٹوٹتا اور نہ ہی نماز جب تک کہ بندہ نیند میں غرق نہ ہو جائے چاہے وہ تھوڑی ہی دیر کے لئے کیوں نہ ہو اور یہی علت ہے حدیث میں مذکور. لہٰذا حدیث اور باب میں مناسبت ظاہر ہے۔
[عون الباری فی مناسبات تراجم البخاری ، جلد اول، حدیث/صفحہ نمبر: 126]

حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث موطا امام مالك رواية ابن القاسم 171
اگر نفل نماز کے دوران میں نیند کا غلبہ ہو تو . . .
«. . . 452- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: إذا نعس أحدكم فى الصلاة فليرقد حتى يذهب عنه النوم، فإن أحدكم إذا صلى وهو ناعس لعله يذهب يستغفر فيسب نفسه. . . .»
. . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو نماز میں اونگھ آنے لگے تو سو جائے تاکہ اس سے نیند کا اثر ختم ہو جائے کیونکہ اگر کوئی شخص اونگھ کی حالت میں نماز پڑھے گا تو ہو سکتا ہے کہ وہ استغفار کے بجائے اپنے آپ کو بددعائیں دینا شروع کر دے۔ . . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 171]
تخریج الحدیث:
[وأخرجه البخاري 212، ومسلم 786، من حديث مالك به]

تفقه:
➊ اپنے آپ کو خواہ مخواہ تکلیف میں مبتلا رکھنا اچھا کام نہیں ہے۔
➋ نوافل میں اپنے آپ کو صرف اس وقت تک مشغول رکھنا چاہئے جب تک طبیعت ہشاش بشاش ہو۔ تاہم نیند توڑ کر اٹھنا اور شیطان سے جنگ کرتے ہوئے تہجد کی نماز پڑھنا فضیلت کا کام ہے۔ دیکھئے: [الموطأ حديث: 86]
➌ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ رات کو جتنی اللہ چاہتا نماز پڑھتے اور رات کے آخری پہر میں اپنے گھر والوں کو نماز کے لئے اٹھا دیتے تھے۔ [الموطأ 1/119 ح258 وسنده صحيح]
➍ بےہوش، پاگل اور جس کی عقل زائل ہو اس پر نماز فرض نہیں ہے اِلا یہ کہ وہ ہوش میں آ جائے یا صحیح و تندرست ہو جائے۔ نیز دیکھئے: [سورة النساء: 45]
➎ جو چیزیں انسان کو نماز سے مشغول کر دیتی ہیں، اپنے آپ کو ان چیزوں سے حتی الامکان دور رکھنا واجب ہے تاکہ اطمینان و سکون سے نماز پڑھ سکے۔
➏ واضح رہے کہ اس کا تعلق نفلی نماز سے ہے نہ کہ فرض نماز سے لہٰذا بعض سست اور غافل لوگوں کا اس حدیث کو فرض نماز سے کوتاہی پر بطور دلیل پیش کرنا مذموم حرکت ہے۔
➐ اونگھ سے وضو نہیں ٹوٹتا لیکن نیند سے ٹوٹ جاتا ہے۔
[موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 452]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 162
اونگھ کا بیان۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کسی کو اونگھ آئے اور وہ نماز میں ہو تو وہ جلدی سے نماز ختم کر لے، ایسا نہ ہو کہ وہ (اونگھ میں) اپنے حق میں بدعا کر رہا ہو اور جان ہی نہ سکے ۱؎۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 162]
162۔ اردو حاشیہ:
➊ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اونگھ وضو کو نہیں توڑتی کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز چھوڑنے کی یہ وجہ بیان کی ہے کہ ہو سکتا ہے، نمازی اپنے آپ کو بے خیالی کی حالت میں بددعا دے بیٹھے، یہ نہیں کہ اس کا وضو ٹوٹ گیا ہے، نیز اس روایت کا یہ مطلب نہیں کہ اونگھ آتے ہی نماز چھوڑ دے بلکہ نماز مختصر کر کے نماز سے فارغ ہو اور پھر لیٹ جائے، البتہ اگر نیند کا غلبہ اتنا زیادہ ہو کہ دعائیں اور سورتیں پڑھنی مشکل ہوں تو نماز چھوڑ کر پہلے نیند پوری کرے، پھر نماز پڑھے۔ حدیث سے یہی صورت معلوم ہوتی ہے۔ واللہ أعلم۔
➋ اس حدیث مبارکہ میں عبادت کے دوران میں حضور قلب اور خشوع و خضوع کی ترغیب دلائی گئی ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 162]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1310
نماز میں اونگھنے کا بیان۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جب کوئی نماز میں اونگھنے لگے تو سو جائے یہاں تک کہ اس کی نیند چلی جائے، کیونکہ اگر وہ اونگھتے ہوئے نماز پڑھے گا تو شاید وہ استغفار کرنے چلے لیکن خود کو وہ بد دعا کر بیٹھے ۱؎۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1310]
1310. اردو حاشیہ: فوائدو مسائل:
➊ مثلاً [اللهم اغفرلي]
کے بجائے [اللهم اعفر لي]
(عین کے ساتھ) کہہ بیٹھے تو اس کا معنی یہ ہوگا اے اللہ! مجھے خاک آلود کر۔
➋ نماز میں خشوع خضوع اور حضور قلبی مطلوب ہے۔
➌ جس شخص پر نیند کا بہت زیادہ غلبہ ہو تو اسے چاہیے کہ پہلے اپنی نیند پوری کرلے، پھر نماز پڑھے، اور بقول امام نووی یہ ارشاد دن، رات، فرض اور نقل تمام نمازوں کے لیے عام ہے، مگر مسلمان کو کسی طرح روا نہیں کہ اپنی نماز کو ضائع کرے۔ چاہیے کہ اپنے معمولات کو صحیح انداز سے ترتیب دے تاکہ اس کی نماز متاثر نہ ہو۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1310]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1370
نمازی اونگھنے لگے تو کیا کرے؟
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کسی شخص کو اونگھ آئے تو سو جائے یہاں تک کہ نیند جاتی رہے، اس لیے کہ اگر وہ اونگھنے کی حالت میں نماز پڑھے گا تو اسے یہ خبر نہ ہو گی کہ وہ استغفار کر رہا ہے، یا اپنے آپ کو بد دعا دے رہا ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1370]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
نماز فرض ہو یا نفل اس کی ادایئگی کے وقت انسان کو ہوش وحواس میں ہونا چاہیے۔
تاکہ اللہ تعالیٰ کی تعریف اور دعا کے الفاظ سمجھ کر پڑھے۔
اور اس طرح اس کےدل اور روح کو پورا فائدہ حاصل ہو۔

(2)
نماز تہجد کا وقت بہت وسیع ہے۔
اس لئے ضروری نہیں کہ انسان اپنے آپ کو مجبور کر کے ساری رات یا رات کے خاص حصے میں جاگنے کی کوشش کرے۔

(3)
نیند کے غلبے کے وقت نماز پڑھنا مناسب نہیں بلکہ پہلے نیند پوری کرلے۔
یا کوئی اور دوسرا طریقہ اختیار کرلے جس سے نیند ختم ہوکر دل اوردماغ ہوشیار ہوجائے۔
مثلاً وضو کرلے یا اٹھ کرچہل قدمی کرلے۔

(4)
جوشخص قیام اللیل کا عادی نہیں اسے چاہیے کہ تھوڑے عمل سے شروع کرے۔
مثلا پہلے پہل دس پندرہ منٹ نماز اور اذکار میں گزارے۔
پھرآہستہ آہستہ اضافہ کرکے آدھا گھنٹہ پھر ایک گھنٹے تک لے جائے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1370]

الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:185
فائدہ:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز چستی اور ہوش و حواس کی حالت میں پڑھنی چاہیے، سونے اور کام کی روٹین اس طرح ہونی چاہیے کہ اس میں نماز متاثر نہ ہو۔ فرضی نماز ہر صورت وقت پر ادا کرنی چاہیے، اگر نیند آ رہی ہو تو غسل کر لینا چاہیے، یا کوئی اور طریقہ اختیار کر لیا جائے جس سے اونگھ ختم ہو جائے نفلی نماز میں اگر نیند آرہی ہو تو سو جانا چاہیے۔ نیند اور اونگھ انسان کو غافل کر دیتی ہے، اور انسان کو پتہ نہیں چلتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نماز کا ترجمہ ہر کسی کو آنا چاہیے، تا کہ اسے معلوم ہو سکے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ ہر کام سمجھ داری سے کرنا چاہیے، کوئی بھی کام غفلت میں نہیں کرنا چاہیے۔ وہ کام جس میں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے عبادت کرنی ہو، اس میں تو ہمیں اس کا خاص اہتمام کرنا چا ہیے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 185]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:212
212. حضرت عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز پڑھ رہا ہو، اس دوران میں اگر اسے اونگھ آ جائے تو وہ سو جائے تاکہ اس کی نیند پوری ہو جائے کیونکہ اگر کوئی اونگھتے ہوئے نماز پڑھے گا تو وہ نہیں جانتا کہ وہ اپنے لیے استغفار کر رہا ہے یا خود کو بددعا دے رہا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:212]
حدیث حاشیہ:

نیند بذات خود ناقض وضو نہیں بلکہ وضو ہونے کا اہم ذریعہ ہے، خاص طور پر جب کہ انسان کے عقل وشعور پر غالب آجائے۔
یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونگھ کی حالت میں عمل نماز ختم کردینے کا حکم دیا ہے، کیونکہ اونگھنے والے کو پورا ہوش نہیں ہوتا۔
ممکن ہے کہ اس کی زبان سے ایسا کلمہ نکل جائے جو اس کے حق میں بددعا ثابت ہو۔
لہٰذا عمل نماز کو باقی رکھنا مصلحت کے خلاف ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ اونگھنے سے وضو ٹوٹ گیا اور نماز باطل ہو گئی۔
شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں کہ سونے کا حکم دینے کی دو وجہیں ہو سکتی ہیں:
(1)
۔
سونے کی وجہ سے وضو ٹوٹ گیا، لہٰذا نماز جاری رکھنا عبث ہے۔
(2)
۔
بے خبری کی حالت میں نماز کا عمل جاری رکھنا مصلحت کے خلاف ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز نہ پڑھنے کے لیے دوسری علت بیان فرمائی ہے کہ مبادا دعا کے بجائے بددعا منہ سے نکل جائے۔
نماز باقی نہ رکھنے کے لیے پہلی علت تو وہ یہاں محقق ہی نہیں، یعنی وضو نہیں ٹوٹا بلکہ باقی ہے۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ یہی ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ اونگھ یا جھونکے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔

امام ابو عبداللہ محمد بن نصر المروزی نے اس حدیث کا پس منظر بایں الفاظ بیان کیا ہے:
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ایک دفعہ حولاء بنت تویت کے پاس سے گزرے تو آپ کو بتایا گیا کہ یہ خاتون رات کے وقت لمبا قیام کرتی ہے، جب اس پر نیند کا غلبہ ہوتا ہے تو چھت سے لٹکتی ہوئی رسی میں گردن ڈال دیتی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ہدایت فرمائی کہ نماز اس قدر پڑھی جائے جتنی انسان میں طاقت ہے۔
تھک کراونگھ آنے لگے تو سو جانا چاہیے۔
(مختصر قیام اللیل، ص: 133)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 212]