Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
33. باب الامر بتعهد القرآن، وكراهة قول نسيت آية كذا، وجواز قول انسيتها
باب: قرآن کی نگہبانی کرنے کا حکم اور اس قول کے کہنے کی ممانعت کہ میں فلاں آیت بھول گیا اور آیت بھلا دی گئی کہنے کے جواز میں۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 790 ترقیم شاملہ: -- 1841
وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وإسحاق بن إبراهيم ، قَالَ إِسْحَاق: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الآخَرَانِ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بِئْسَمَا لِأَحَدِهِمْ يَقُولُ: نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ، بَلْ هُوَ نُسِّيَ، اسْتَذْكِرُوا الْقُرْآنَ، فَلَهُوَ أَشَدُّ تَفَصِّيًا، مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ، مِنَ النَّعَمِ بِعُقُلِهَا ".
منصور نے ابووائل (شفیق بن سلمہ) سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "کسی بھی انسان کے لیے انتہائی نازیبا بات ہے کہ وہ کہے: میں فلاں فلاں آیت بھول گیا ہوں، بلکہ وہ بھلا دیا گیا ہے، قرآن کو یاد کرتے رہو کیونکہ وہ لوگوں کے سینوں سے دور بھاگنے میں رسیوں سمیت بھاگ جانے والے اونٹوں سے بھی بڑھ کر ہے۔" [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1841]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انتہائی نازیبا بات ہے کہ کوئی انسان یہ کہے، میں فلاں فلاں آیت بھول گیا ہوں، بلکہ وہ بھلا دیا گیا ہے، قرآن مجید کی تلاوت پر مداومت و ہمیشگی کرو، کیونکہ وہ لو گوں کے سینے سے، بندھے ہوئے جانوروں سے (اونٹوں سے) زیادہ بھاگنے والا ہے۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1841]
ترقیم فوادعبدالباقی: 790
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥شقيق بن سلمة الأسدي، أبو وائل
Newشقيق بن سلمة الأسدي ← عبد الله بن مسعود
مخضرم
👤←👥منصور بن المعتمر السلمي، أبو عتاب
Newمنصور بن المعتمر السلمي ← شقيق بن سلمة الأسدي
ثقة ثبت
👤←👥جرير بن عبد الحميد الضبي، أبو عبد الله
Newجرير بن عبد الحميد الضبي ← منصور بن المعتمر السلمي
ثقة
👤←👥إسحاق بن راهويه المروزي، أبو يعقوب
Newإسحاق بن راهويه المروزي ← جرير بن عبد الحميد الضبي
ثقة حافظ إمام
👤←👥عثمان بن أبي شيبة العبسي، أبو الحسن
Newعثمان بن أبي شيبة العبسي ← إسحاق بن راهويه المروزي
وله أوهام، ثقة حافظ شهير
👤←👥زهير بن حرب الحرشي، أبو خيثمة
Newزهير بن حرب الحرشي ← عثمان بن أبي شيبة العبسي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5039
نسيت آية كيت وكيت بل هو نسي
صحيح البخاري
5032
نسيت آية كيت وكيت بل نسي واستذكروا القرآن فإنه أشد تفصيا من صدور الرجال من النعم
صحيح مسلم
1842
لا يقل أحدكم نسيت آية كيت وكيت بل هو نسي
صحيح مسلم
1841
بئسما لأحدهم يقول نسيت آية كيت وكيت بل هو نسي استذكروا القرآن أشد تفصيا من صدور الرجال من النعم بعقلها
صحيح مسلم
1843
بئسما للرجل أن يقول نسيت
جامع الترمذي
2942
بئسما لأحدهم أو لأحدكم أن يقول نسيت آية كيت وكيت بل هو نسي استذكروا القرآن أشد تفصيا من صدور الرجال من النعم من عقله
سنن النسائى الصغرى
944
بئسما لأحدهم أن يقول نسيت آية كيت وكيت بل هو نسي استذكروا القرآن أسرع تفصيا من صدور الرجال من النعم من عقله
المعجم الصغير للطبراني
1102
تعاهدوا القرآن أشد تفصيا من نوازع الطير إلى أوطانها
مسندالحميدي
91
بئس ما لأحدهم أن يقول نسيت آية كيت وكيت بل هو نسي
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 1841 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1841
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
(نَسِيْتُ اّية كذا وكذا)
کہنے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ قرآن مجید کے بھولنے میں اس کا اپنا دخل ہے۔
اس نے قرآن مجید کی تلاوت اور اس کےتکرار کرنے سے غفلت اور کوتاہی برتی اور اس کی بے دھیانی اور بے خیالی کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ قرآن مجید کا کچھ حصہ بھول گیا تو اس کا یہ غفلت برتنا اور قرآن مجید کی تلاوت سے کوتاہی برتنا اس کی نگہداشت اور محافظت نہ کرنا انتہائی ناپسندیدہ حرکت ہے اس لیے اصل مقصود اس لفظ کے استعمال کی کراہت وناپسندیدگی نہیں ہے بلکہ اصل مقصود ان اسباب ووجوہ کی مذمت ہے جن کی بنا پر یہ لفظ کہنے کی ضرورت پڑی۔
اور (بَلْ هُوَ نَسِيَ)
کا معنی یہ ہے کہ یہ اس کے جرم وقصور یا تلاوتِ قرآن کی محافظت ونگہداشت نہ کرنے کی سزا ہے۔
اگر وہ اس میں کوتاہی اور غفلت کا مرتکب نہ ہوتا تو یہ سزا نہ ملتی۔
جس طرح اونٹ اپنی رسی اور عقال کو تڑوانے کی کوشش کرتا ہے تاکہ اسے بھاگ دوڑ کا موقع ملے۔
اس طرح قرآن مجید اپنی تلاوت کی نگہداشت اور مواظبت چاہتا ہے وگرنہ حافظ کے سینہ سے نکل بھاگتا ہے۔
جس طرح اونٹ کا مالک پوری کوشش کرتا ہے کہ اونٹ کی رسی ٹوٹ نہ جائے اسی طرح حافظ کی پوری کوشش ہونی چاہیے کہ تلاوت قرآن کی محافظت ومداومت میں رخنہ پیدا نہ ہو اور یہ تسلسل ورابطہ ٹوٹ نہ جائے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1841]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 944
قرآن سے متعلق جامع باب۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کتنی بری بات ہے کہ کوئی کہے: میں فلاں فلاں آیت بھول گیا ۱؎، بلکہ اسے کہنا چاہیئے کہ وہ بھلا دیا گیا، تم لوگ قرآن یاد کرتے رہو کیونکہ وہ لوگوں کے سینوں سے رسی سے کھل جانے والے اونٹ سے بھی زیادہ جلدی نکل جاتا ہے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 944]
944 ۔ اردو حاشیہ:
بری بات ہے کے دو مفہوم بیان کیے گئے ہیں:
➊ اگر کوئی آدمی کوئی آیت بھول جائے تو یہ نہ کہے: نیست (میں بھول گیا) بلکہ کہ: نیست (میں بھلا دیا گیا) کیونکہ پہلے لفظ میں بے پروائی پائی جاتی ہے۔ گویا اس نے قرآن جان بوجھ کر بھلا دیا، غفلت کی، اسے کوئی اہمیت نہیں دی، عام سی بات سمجھا۔ جب کہ دوسرے لفظ میں ندامت اور معذرت کا انداز ہے کہ میں نے یاد رکھنے کی پوری کوشش کی مگر مجھے بھلا دیا گیا، لہٰذا پہلے لفظ کی بجائے دوسرا لفظ استعمال کرنا چاہیے۔
➋ دوسرا مفہوم یہ ہے کہ یہ بہت بری بات ہے کہ کسی آدمی کو کہنا پڑے: میں فلاں آیت بھول گیا۔ کیونکہ یہ اس کی سستی پر دلالت کرتی ہے کہ اس نے اسے بھلا دیا۔ گویا ایسا موقع ہی نہ آنے دیا جائے کہ کسی کو کہنا پڑے: میں فلاں آیت بھول گیا۔
«نَسِيتُ» میں بھول گیا نسیان کی نسبت اپنی طرف کرنے سے ممانعت اس لیے ہے کہ انسان ان لوگوں کے زمرے میں شامل نہ ہو جائے جن کی اللہ تعالیٰ نے مذمت کی ہے۔ فرمان الٰہی ہے: «﴿كَذَلِكَ أَتَتْكَ آيَاتُنَا فَنَسِيتَهَا وَكَذَلِكَ الْيَوْمَ تُنْسَى﴾» [طه: 126: 20]
جس طرح(دنیا میں) تیرے پاس ہماری آیتیں آئیں تو تو نے وہ بھلا دیں اور اسی طرح آج (قیامت کے دن) تجھے بھی بھلا دیا جائے گا۔ چنانچہ ایسی بات کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ ویسے بھی یہ بات انسان کی سستی اور قرآن سے غفلت پر دلالت کرتی ہے۔
➌ اس حدیث مبارکہ میں بیان کیا گیا ہے کہ جو شخص قرآن کریم کا دور کرنے اور اس کی تلاوت میں سستی کرتا ہے، اس کے لیے قرآن مشکل ہے۔ اور یہ بات اللہ کے فرمان: «﴿وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ﴾» کے منافی نہیں ہے کیونکہ جو شخص قرآن مجید یاد کرنا چاہے اور اسے سمجھنا چاہے، اس کے لیے قرآن آسان ہے اور جو اس کی پروا نہ کرے، اس کے لیے یہ مشکل ہے۔ واللہ أعلم۔
➍ اونٹوں کو بھاگنے سے روکنا مقصود ہو تو ان کا اگلا ایک گھٹنا باندھ دیا جاتا ہے۔ اس طرح اونٹ مشکل سے چلتا ہے مگر وہ زور لگا لگا کر کوشش کرتا رہتا ہے کہ گھٹنا کھل جائے۔ اگر اس کا خیال نہ رکھا جائے تو وہ آہستہ آہستہ گھٹنا رسی سے نکال لیتا ہے اور دور بھاگ جاتا ہے۔ اسی طرح قرآن مجید باقاعدگی سے پڑھا جاتا رہے تو وہ سینے میں محفوظ رہتا ہے۔ سستی کی جائے تو یہ سینے سے نکل جاتا ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 944]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2942
باب:۔۔۔
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان میں سے یا تم میں سے کسی کے لیے یہ کہنا برا ہے کہ میں فلاں فلاں آیت بھول گیا، بلکہ یہ کہو کہ وہ بھلا دیا گیا ۱؎ تم قرآن یاد کرتے دھراتے رہو، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! قرآن لوگوں کے سینوں سے نکل بھاگنے میں چوپایوں کے اپنی رسی سے نکل بھاگنے کی بہ نسبت زیادہ تیز ہے ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب القراءات/حدیث: 2942]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یہ ممانعت نہی تحریمی نہیں ہے،
بلکہ نہی تنزیہی ہے یعنی:
ایسا نہیں کہنا چاہئے کیونکہ اس سے اپنی سستی اورقرآن سے غفلت کا خود ہی اظہار ہے،
یا یہ مطلب ہے کہ ''ایسا موقع ہی نہ آنے دے کہ یہ بات کہنے کی نوبت آئے بعض روایات میں میں بھول گیا کہنا بھی ملتا ہے،
اس لیے مذکورہ ممانعت نہی تنزیہی پر محمول کی گئی ہے۔
یعنی ایسا نہ کرنا زیادہ بہترہے۔

2؎:
معلوم ہوا کہ قرآن کو بار بار پڑھتے اور دہراتے رہنا چاہئے،
کیونکہ قرآن جس طرح جلد یاد ہوتا ہے اسی طرح جلد ذہن سے نکل جاتا ہے،
اس لیے قرآن کو بار بار پڑھنا اورکا دہرانا ضروری ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2942]

الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:91
91- ابووائل کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: تم اس قرآن کو باقاعدگی سے پڑھتے رہو، کیونکہ یہ انسان کے سینے سے اس زیادہ تیزی سے نکلتا ہے، جتنی تیزی سے چرنے والا جانور اپنی رسی سے نکلتا ہے، پھر انہوں نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: کسی بھی شخص کا یہ کہنا انتہائی برا ہے کہ میں فلاں اور فلاں آیات بھول گیا، بلکہ وہ اسے بھلادی گئی۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:91]
فائدہ:
اس حدیث میں قرآن کریم کو حفظ کرنے کے بعد یاد رکھنے کی اہمیت بیان کی گئی ہے۔ جس طرح قرآن کریم یاد کرنا اہم ہے، اسی طرح اس کو یاد رکھنا بھی بہت اہم ہے، لہذا حافظ قرآن کو قرآن کریم کی خاطر خصوصی طور پر قبل از فجر یا بعد از فجر بلا ناغہ وقت نکالنا چاہیے تاکہ قرآن کریم بھولنے نہ پائے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی آیت کا بھول جانا قابل ملامت نہیں۔ کوئی بھی انسان نہیں چاہتا کہ قرآن کریم مجھے بھلا دیا جائے بلکہ انسان بہت کمزور ہے، یاد کی ہوئی چیز بھول ہی جاتی ہے، اور انسان جب کوئی آیت بھول جائے تو اسے اس طرح کہنا چاہیے کہ میں فلاں آیت بھلا دیا گیا ہوں، اور بھلا نا شیطان کی طرف سے ہوتا ہے، کیونکہ وہ نہیں چاہتا کہ کسی کو قرآن کریم یادر ہے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 92]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1842
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےکہا! ان مصاحف کے ساتھ تجدید عہد کرتے رہا کرو یعنی ان کی تلاوت کی پابندی کرو اور بعض دفعہ انہوں نے مصاحف کی بجائے قرآن کہا، کیونکہ وہ انسانوں کے سینوں سے،اونٹوں کے اپنی رسیوں سے بڑھ کر بھاگنے والا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا ہے: تم میں سے کسی کو یہ نہیں کہنا چا ہیے کہ میں فلا ں فلا ں آیت بھول گیا ہوں، بلکہ وہ بھلا دیا گیا ہے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1842]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
اَشَدُّ تَفَصِّياً:
وہ زیادہ بھاگتا ہے یا زیادہ نکل کھڑا ہوتا ہے۔
(2)
عُقُلْ:
عقال کی جمع ہے،
زانو بند،
جس رسی سے اونٹ کے پاؤں کو باندھا جاتا ہے۔
(3)
تَعَاهَدُوْا:
تجدید عہد کرو،
اس سے تعلق ہر وقت قائم رکھو یعنی اس کی تلاوت کی پابندی کرو،
درمیان میں زیادہ وقفہ نہ ہو۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1842]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5032
5032. سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی شخص کا یہ کہنا بہت برا ہے کہ میں فلاں فلاں آیت بھول گیا ہوں بلکہ وہ بھلا دیا گیا ہے۔ تم قرآن پڑھتے رہا کرو کیونکہ قرآن انسانوں کے دلوں سے نکل جانے میں اونٹ کے بھاگ جانے سے بڑھ کر ہے۔ عثمان نے ہمیں خبر دی، انہوں نے کہا مجھے جریر نے منصور سے ذکر کردہ حدیث جیسی حدیث بیان کی۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5032]
حدیث حاشیہ:
کیونکہ اللہ ہی بندے کے تمام افعال کا خالق ہے گو بندے کی طرف بھی افعال کی نسبت کی جاتی ہے۔
مقصود یہ ہے کہ اپنی طرف نسبت دینے میں گویا اپنا اختیار رہتا ہے کہ میں بھول گیا اگرچہ بہت سی حدیثوں میں نسیان کی نسبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف ہی کی ہے اور قرآن مجید میں ہے۔
﴿رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا﴾ (البقرة: 286) (یہ تشریح لفظ نسیت آیة کیت و کیت سے متعلق ہے۔
)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5032]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5039
5039. سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ یوں کہے: فلاں فلاں آیت بھول گیا ہوں بلکہ اسے یوں کہنا چاہیے کہ میں فلاں فلاں آیات بھلا دیا گیا ہوں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5039]
حدیث حاشیہ:
احادیث منقولہ اور باب میں مطابقت ظاہر ہے۔
قرآن کا یاد ہونا بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اسے بھول جانا بھی اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے۔
کوشش انسان کا کام ہے، پس ہر مسلمان کو قرآن مجید کے یاد رکھنے کی کوشش کرتے رہناچاہئے جو لوگ قرآن مجید یاد کر کے اسے پڑھنا چھوڑ دیں وہ قرآن مجید ان کے ذہن سے نکل جائے ایسے غافل انسان کے لئے سخت ترین وعید آئی ہے اور اس شخص پر واجب ہے کہ روزانہ قرآن پاک کچھ حصہ بلا ناغہ دہرا لیا کرے۔
اس تسلسل سے قرآ ن پاک ذہن میں محفوظ رہے گا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت قرآن پاک کی تلاوت فرمایا کرتے تھے کہ ایسا نہ ہو کہ میں بھول جاؤں لیکن اللہ تعالیٰ نے خود کہا ہے کہ میرے ذمہ اس کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ میں جمع کرنا اور زبان سے اس کی تلاوت کرانا ہے تو امت محمدیہ پر بھی واجب ہے کہ تلاوت قرآن پاک روزانہ کیا کرے تا کہ اس کو بھولنے نہ پائے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5039]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5039
5039. سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ یوں کہے: فلاں فلاں آیت بھول گیا ہوں بلکہ اسے یوں کہنا چاہیے کہ میں فلاں فلاں آیات بھلا دیا گیا ہوں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5039]
حدیث حاشیہ:

جوحضرات قرآن یاد کرکے اسے پڑھنا چھوڑ دیں، اس غفلت کی وجہ سے قرآن سینے سے نکل جائے تو ایسے غافل انسان کے لیے سخت ترین وعید آئی ہے، اس بنا پر حفاظ کرام کے لیے ضروری ہے کہ وہ بلا ناغہ قرآن مجید کا کچھ حصہ ضرور تلاوت کرتے رہا کریں۔
اس تسلسل سے قرآن مجید ذہن سے محو نہیں ہوگا۔

جو شخص یہ کہتا ہے کہ میں فلاں فلاں آیت بھول گیا ہوں تو وہ گویا اقرارکرتا ہے کہ میں نے قرآن پڑھنے کا التزام نہیں کیا جس سے نسیان پیدا ہوگیا ہے۔
اس سے بڑھ کر ذلت اور رسوائی اور کیا ہو سکتی ہے کہ وہ خود اپنے جرم کا اعتراف کر رہا ہے۔
اگر التزام و اہتمام کے باوجود قرآن مجید بھول گیا تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔
اس میں اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور اپنی عبودیت کا اظہار ہے کہ نسیان کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کرے کیونکہ کوشش کے باوجود قرآن کو یاد نہیں رکھ سکا، بہرحال انسان کو چاہیے کہ وہ اسبابِ نسیان اختیار کرنے سے بچنے کی کوشش کرے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5039]