علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
30. باب جعل القطيفة في القبر:
باب: قبر میں چادر ڈالنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 967 ترقیم شاملہ: -- 2241
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، وَوَكِيعٌ ، جميعا، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَمْرَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " جُعِلَ فِي قَبْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطِيفَةٌ حَمْرَاءُ "، قَالَ مُسْلِم: أَبُو جَمْرَةَ اسْمُهُ نَصْرُ بْنُ عِمْرَانَ، وَأَبُو التَّيَّاحِ وَاسْمَهْ يَزِيدُ بْنُ حُمَيْدٍ، مَاتَا بِسَرَخْسَ.
ابوجمرہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر میں سرخ موٹی چادر رکھی (بچھائی) گئی تھی۔ امام مسلم رحمہ اللہ نے کہا: ابوجمرہ کا نام نصر بن عمران اور ابوتیاح کا نام یزید بن حمید ہے۔ (ان کا نام سند میں نہیں) یہ ایک زائد فائدہ ہے جس کا اضافہ امام مسلم رحمہ اللہ نے غالباً کسی شاگرد کے سوال پر کیا۔ ان دونوں نے سرخس میں وفات پائی۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2241]
امام صاحب نے مختلف اساتذہ سے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر میں سرخ چادر رکھی امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں، ابو جمرہ کا نام نصر بن عمران ہے اور ابو تیاح کا نام یزید بن حمید ہے۔ اور دونوں (ایک ہی سال) سرخس میں فوت ہوئے۔ (ابو التیاح کا اس حدیث میں ذکر نہیں ہے)۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2241]
ترقیم فوادعبدالباقی: 967
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
2241
| جعل في قبر رسول الله قطيفة حمراء |
جامع الترمذي |
1048
| جعل في قبر النبي قطيفة حمراء |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2241 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2241
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام نے محض اسی بنا پر یہ چادر قبر میں ڈال دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس کو کوئی استعمال نہ کرے۔
لیکن چونکہ یہ بات درست نہ تھی اس لیے بقول امام ابن عبدالبر اس کو نکال لیا گیا تھا۔
اور جمہور فقہاء نے میت کے نیچے کپڑے بچھانے کو ناپسندیدہ قرار دیا ہے۔
فوائد ومسائل:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام نے محض اسی بنا پر یہ چادر قبر میں ڈال دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس کو کوئی استعمال نہ کرے۔
لیکن چونکہ یہ بات درست نہ تھی اس لیے بقول امام ابن عبدالبر اس کو نکال لیا گیا تھا۔
اور جمہور فقہاء نے میت کے نیچے کپڑے بچھانے کو ناپسندیدہ قرار دیا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2241]
Sahih Muslim Hadith 2241 in Urdu
نصر بن عمران الضبعي ← عبد الله بن العباس القرشي