🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
31. باب الامر بتسوية القبر:
باب: قبر کو برابر کرنے کا حکم۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 969 ترقیم شاملہ: -- 2244
وحَدَّثَنِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي حَبِيبٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: " وَلَا صُورَةً إِلَّا طَمَسْتَهَا ".
یحییٰ القطان نے کہا: ہمیں سفیان نے حبیب سے اسی سند کے ساتھ (سابقہ حدیث کے مانند) حدیث بیان کی اور انہوں نے ( «لا تدع تمثالا إلا طمسته» کے بجائے) «ولا صورة إلا طمستها» (کوئی تصویر نہ چھوڑنا مگر اسے مٹا دینا) کہا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2244]
مصنف یہی روایت ایک دوسرے استاد سے بیان کرتےہیں، اس میں ہے کہ تصویر کو مٹائے بغیر نہ چھوڑوں۔ (یعنی تمثال کی جگہ تصویرکا لفظ ہے) [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2244]
ترقیم فوادعبدالباقی: 969
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥حبيب بن أبي ثابت الأسدي، أبو يحيىثقة فقيه جليل
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← حبيب بن أبي ثابت الأسدي
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← سفيان الثوري
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥محمد بن خلاد الباهلي، أبو بكر
Newمحمد بن خلاد الباهلي ← يحيى بن سعيد القطان
ثقة
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2244 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2244
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:

اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ کسی قبر کو عام قبروں سے بلند اور اونچا بنانا جائز نہیں ہے اگر طاقت وقوت یعنی اقتدار واختیار ہو تو بلند قبروں کو زمین کے قریب کر دینا چاہیے اس لیے بالاتفاق ایک بالشت سے اونچی قبر گرا کر اس کوعام قبروں کے برابر کر دیا جائے گا قبر کو صرف عام زمین سے ممتاز کرنے کے لیے کچھ بلند رکھا جاتا ہے۔
لیکن افسوس آج کل عام طور پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس صریح فرمان کو نظر انداز کرکے قبریں اونچی بنائی جاتی ہیں۔

امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ،
مالک رحمۃ اللہ علیہ،
احمد رحمۃ اللہ علیہ،
کے نزدیک قبر اونٹ کی کوہان کی شکل میں بنائی جائے گی۔
اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک ہموار اور مسطح یعنی چوکور ہو گی لیکن زمین سے زیادہ بلند کسی کے نزدیک بھی نہیں بنائے جائے گی۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2244]

Sahih Muslim Hadith 2244 in Urdu