🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

31. باب الأَمْرِ بِتَسْوِيَةِ الْقَبْرِ:
باب: قبر کو برابر کرنے کا حکم۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 968 ترقیم شاملہ: -- 2242
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ . ح وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، فِي رِوَايَةِ أَبِي الطَّاهِرِ، أَنَّ أَبَا عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيّ حَدَّثَهُ وَفِي رِوَايَةِ هَارُونَ أَنَّ ثُمَامَةَ بْنَ شُفَيٍّ حَدَّثَهُ، قَالَ: كُنَّا مَعَ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ بِأَرْضِ الرُّومِ بِرُودِسَ، فَتُوُفِّيَ صَاحِبٌ لَنَا، فَأَمَرَ فَضَالَةُ بْنُ عُبَيْدٍ بِقَبْرِهِ فَسُوِّيَ، ثُمّ قَالَ: " سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِتَسْوِيَتِهَا ".
اثامہ بن شفی نے بیان کیا، کہا: ہم سرزمین روم کے جزیرہ رودس میں فضالہ بن عبید (اوسی انصاری) رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے کہ ہمارا ایک دوست وفات پا گیا۔ حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ نے ان کی قبر کے بارے میں حکم دیا تو اس کو برابر کر دیا گیا، پھر انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان (قبروں) کو (زمین کے) برابر کرنے کا حکم دیتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2242]
ثمامہ بن شفی بیان کرتے ہیں کہ ہم سرزمین روم کے جزیرہ بردوس میں، فضالہ بن عبید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تھے، تو ہمارا ایک ساتھی فوت ہو گیا، حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےکہا ان کی قبر (عام قبروں کے) برابر بنائی جائے۔ یا اس کی قبر ان کے حکم سے عام قبروں کے برابر بنائی گئی، پھر انہوں نے کہا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ہموار عام قبروں برابر کرنے کا حکم دیتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2242]
ترقیم فوادعبدالباقی: 968
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 969 ترقیم شاملہ: -- 2243
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ أَبِي الْهَيَّاجِ الْأَسَدِيِّ ، قَالَ: قَالَ لِي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ : " أَلَا أَبْعَثُكَ عَلَى مَا بَعَثَنِي عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ أَنْ لَا تَدَعَ تِمْثَالًا إِلَّا طَمَسْتَهُ، وَلَا قَبْرًا مُشْرِفًا إِلَّا سَوَّيْتَهُ "،
وکیع نے سفیان سے، انہوں نے حبیب بن ابی ثابت سے، انہوں نے ابووائل سے اور انہوں نے ابوالہیاج اسدی سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: کیا میں تمہیں اس (مہم) پر روانہ نہ کروں جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے روانہ کیا تھا؟ (وہ یہ ہے) کہ تم کسی تصویر یا مجسمے کو نہ چھوڑنا مگر اسے مٹا دینا اور کسی بلند قبر کو نہ چھوڑنا مگر اسے (زمین کے) برابر کر دینا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2243]
ابوالہیاج اسدی بیان کرتے ہیں کہ مجھے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا، کیا میں تمھیں اس کام کے لیے نہ بھیجوں جس کام کےلیے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا تھا؟ کسی مجسمہ اور تصویر کو مٹائے بغیر نہ چھوڑوں اور نہ کسی اونچی یا بلند قبر کو(عام قبروں کے) برابرکیے بغیر چھوڑوں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2243]
ترقیم فوادعبدالباقی: 969
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 969 ترقیم شاملہ: -- 2244
وحَدَّثَنِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي حَبِيبٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: " وَلَا صُورَةً إِلَّا طَمَسْتَهَا ".
یحییٰ القطان نے کہا: ہمیں سفیان نے حبیب سے اسی سند کے ساتھ (سابقہ حدیث کے مانند) حدیث بیان کی اور انہوں نے ( «لا تدع تمثالا إلا طمسته» کے بجائے) «ولا صورة إلا طمستها» (کوئی تصویر نہ چھوڑنا مگر اسے مٹا دینا) کہا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2244]
مصنف یہی روایت ایک دوسرے استاد سے بیان کرتےہیں، اس میں ہے کہ تصویر کو مٹائے بغیر نہ چھوڑوں۔ (یعنی تمثال کی جگہ تصویرکا لفظ ہے) [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2244]
ترقیم فوادعبدالباقی: 969
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں