صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
36. باب استئذان النبي صلى الله عليه وسلم ربه عز وجل في زيارة قبر امه:
باب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے رب سے اجازت طلب کرنا اپنی والدہ کی قبر دیکھنے کی۔
ترقیم عبدالباقی: 976 ترقیم شاملہ: -- 2259
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: زَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْرَ أُمِّهِ، فَبَكَى وَأَبْكَى مَنْ حَوْلَهُ، فَقَالَ: " اسْتَأْذَنْتُ رَبِّي فِي أَنْ أَسْتَغْفِرَ لَهَا فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي، وَاسْتَأْذَنْتُهُ فِي أَنْ أَزُورَ قَبْرَهَا فَأُذِنَ لِي، فَزُورُوا الْقُبُورَ فَإِنَّهَا تُذَكِّرُ الْمَوْتَ ".
محمد بن عبید نے یزید بن کیسان سے، انہوں نے ابوحازم سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ماں کی قبر کی زیارت کی، آپ روئے اور اپنے اردگرد والوں کو بھی رلایا، پھر فرمایا: ”میں نے اپنے رب سے اجازت مانگی کہ میں ان کے لیے بخشش کی طلب کروں تو مجھے اجازت نہیں دی گئی اور میں نے اجازت مانگی کہ میں ان کی قبر کی زیارت کروں تو اس نے مجھے اجازت دے دی، پس تم بھی قبروں کی زیارت کیا کرو کیونکہ وہ تمہیں موت کی یاد دلاتی ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2259]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ماں کی قبر کی زیارت کی، (اس کی قبر پر گئے) خود بھی روئے اور اپنے اردگرد والوں کو بھی رلایا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب سے اجازت مانگی کہ میں اس کے لئے بخشش کی درخواست کروں تو مجھے اجازت نہیں دی گئی۔ اور میں نے ا س سے اس کی قبر کی قبر کی زیارت اجازت طلب کی تو اس نے مجھے دے دی، تم فبروں کی قبروں کی زیارت کیاکرو کیونکہ وہ تمھیں موت کی یاد دلاتی ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2259]
ترقیم فوادعبدالباقی: 976
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
2036
| استأذنت ربي في أن أستغفر لها فلم يؤذن لي واستأذنت في أن أزور قبرها فأذن لي زوروا القبور فإنها تذكركم الموت |
صحيح مسلم |
2258
| استأذنت ربي أن أستغفر لأمي فلم يأذن لي واستأذنته أن أزور قبرها فأذن لي |
صحيح مسلم |
2259
| استأذنت ربي في أن أستغفر لها فلم يؤذن لي واستأذنته في أن أزور قبرها فأذن لي زوروا القبور فإنها تذكر الموت |
سنن أبي داود |
3234
| استأذنت ربي على أن أستغفر لها فلم يؤذن لي فاستأذنت أن أزور قبرها فأذن لي زوروا القبور فإنها تذكر بالموت |
سنن ابن ماجه |
1569
| زوروا القبور فإنها تذكركم الآخرة |
سنن ابن ماجه |
1572
| استأذنت ربي في أن أستغفر لها فلم يأذن لي واستأذنت ربي في أن أزور قبرها فأذن لي زوروا القبور فإنها تذكركم الموت |
سلمان مولى عزة ← أبو هريرة الدوسي