صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
14. باب فَضْلِ النَّفَقَةِ وَالصَّدَقَةِ عَلَى الأَقْرَبِينَ وَالزَّوْجِ وَالأَوْلاَدِ وَالْوَالِدَيْنِ وَلَوْ كَانُوا مُشْرِكِينَ:
باب: والدین اور دیگر اقرباء پر خرچ کرنے کی فضیلت اگرچہ وہ مشرک ہوں۔
ترقیم عبدالباقی: 998 ترقیم شاملہ: -- 2315
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ إسحاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: كَانَ أَبُو طَلْحَةَ أَكْثَرَ أَنْصَارِيٍّ بِالْمَدِينَةِ مَالًا، وَكَانَ أَحَبُّ أَمْوَالِهِ إِلَيْهِ بَيْرَحَى، وَكَانَتْ مُسْتَقْبِلَةَ الْمَسْجِدِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُهَا وَيَشْرَبُ مِنْ مَاءٍ فِيهَا طَيِّبٍ، قَالَ أَنَسٌ: فَلَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ سورة آل عمران آية 92 قَامَ أَبُو طَلْحَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ فِي كِتَابِهِ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ سورة آل عمران آية 92، وَإِنَّ أَحَبَّ أَمْوَالِي إِلَيَّ بَيْرَحَى، وَإِنَّهَا صَدَقَةٌ لِلَّهِ أَرْجُو بِرَّهَا وَذُخْرَهَا عِنْدَ اللَّهِ، فَضَعْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ حَيْثُ شِئْتَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَخْ ذَلِكَ مَالٌ رَابِحٌ ذَلِكَ مَالٌ رَابِحٌ، قَدْ سَمِعْتُ مَا قُلْتَ فِيهَا وَإِنِّي أَرَى أَنْ تَجْعَلَهَا فِي الْأَقْرَبِينَ"، فَقَسَمَهَا أَبُو طَلْحَةَ فِي أَقَارِبِهِ وَبَنِي عَمِّهِ.
اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ فرما رہے تھے: ابوطلحہ رضی اللہ عنہ مدینہ میں کسی بھی انصاری سے زیادہ مالدار تھے، ان کے مال میں سے بیرحاء والا باغ انہیں سب سے زیادہ پسند تھا جو مسجد نبوی کے سامنے واقع تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں تشریف لے جاتے اور اس کا عمدہ پانی نوش فرماتے۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا: جب یہ آیت نازل ہوئی: «لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ» ”تم نیکی حاصل نہیں کر سکو گے جب تک اپنی پسندیدہ چیز (اللہ کی راہ میں) خرچ نہ کرو۔“ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اٹھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور عرض کی: ”اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتے ہیں: «لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ» ”تم نیکی حاصل نہیں کر سکو گے جب تک اپنی پسندیدہ چیز (اللہ کی راہ میں) خرچ نہ کرو۔“ مجھے اپنے اموال میں سے سب سے زیادہ بیرحاء پسند ہے اور وہ اللہ کے لیے صدقہ ہے، مجھے اس کے اچھے بدلے اور اللہ کے ہاں ذخیرہ (کے طور پر محفوظ) ہونے کی امید ہے۔ اے اللہ کے رسول! آپ اسے جہاں چاہیں رکھیں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہت خوب، یہ سودمند مال ہے، یہ نفع بخش مال ہے، جو تم نے اس کے بارے میں کہا میں نے سن لیا ہے اور میری رائے یہ ہے کہ تم اسے (اپنے) قرابت داروں کو دے دو۔“ تو ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے عزیزوں اور اپنے چچا کے بیٹوں میں تقسیم کر دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2315]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ انصار مدینہ میں سب سے زیادہ مالدار تھے اور ان کا بیر حاء نامی باغ انہیں سب سے زیادہ محبوب تھا جو مسجد نبوی کے سامنے واقع تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں تشریف لے جاتے اور اس کا عمدہ پانی نوش فرماتے تو جب یہ آیت اتری ”تم نیکی حاصل نہیں کر سکو گے جب تک اپنی محبوب چیز(اللہ کی راہ میں) خرچ نہ کرو گے (آل عمران: 2) ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اٹھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور عرض کیا، اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتے ہیں کہ ”تم نیکی حاصل نہیں کر سکو گے۔ حتی کہ اپنی پسندیدہ چیز راہ خدا میں دو۔“ اور مجھے اپنے اموال سے سب سے زیادہ میرا یہ بیرحاء باغ پسند ہے اور وہ اللہ کے لیے صدقہ کرتا ہوں اس امید پر کہ وہ اللہ کے ہاں میرے لیے نیکی کا سامان اور آخرت کا ذخیرہ بنے گا۔ اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم جہاں چاہیں اسے خرچ فرمائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہت خوب یہ سود مند اور نفع بخش مال ہے۔ یہ فائدہ بخش مال ہے میں نے تیری بات سن لی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ تم اسے اپنے اقارب کو (رشتہ داروں کو) دے دو۔“ تو ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے اپنے عزیزوں اور عم زاد بھائیوں میں تقسیم کر دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2315]
ترقیم فوادعبدالباقی: 998
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 998 ترقیم شاملہ: -- 2316
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ سورة آل عمران آية 92، قَالَ أَبُو طَلْحَةَ: أَرَى رَبَّنَا يَسْأَلُنَا مِنْ أَمْوَالِنَا، فَأُشْهِدُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنِّي قَدْ جَعَلْتُ أَرْضِي بَرِيحَا لِلَّهِ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اجْعَلْهَا فِي قَرَابَتِكَ"، قَالَ: فَجَعَلَهَا فِي حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ.
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: جب یہ آیت نازل ہوئی: «لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ» ”تم نیکی (کی حقیقی لذت) حاصل نہیں کر سکو گے جب تک اپنی پسندیدہ چیز (اللہ کی راہ میں) صرف نہ کرو۔“ (تو) ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں اپنے پروردگار کو دیکھتا ہوں کہ وہ ہم سے مال کا مطالبہ کر رہا ہے، لہٰذا اے اللہ کے رسول! میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنی زمین بیرحاء اللہ تعالیٰ کے لیے وقف کر دی۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اپنے رشتہ داروں کو دے دو۔“ تو انہوں نے وہ حضرت حسان بن ثابت اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہما کو دے دی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2316]
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت اتری کہ تم حق ادا نہیں کر سکو گے حتی کہ اپنی محبوب ترین چیز (اللہ کی راہ میں) صرف کر دو ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہنے لگے میں سمجھتا ہوں اللہ تعالیٰ ہم سے ہمارا مال چاہتا ہے۔ اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ کو گواہ بنا کر اپنی بیرحاء زمین اللہ تعالیٰ کے لیے دیتا ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے رشتہ داروں کو دے دو“ تو انھوں نے حضرت حسان بن ثابت اور ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دے دی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2316]
ترقیم فوادعبدالباقی: 998
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 999 ترقیم شاملہ: -- 2317
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَنْ بُكَيْرٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ ، أَنَّهَا أَعْتَقَتْ وَلِيدَةً فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" لَوْ أَعْطَيْتِهَا أَخْوَالَكِ كَانَ أَعْظَمَ لِأَجْرِكِ".
(ام المؤمنین) حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں اپنی ایک لونڈی کو آزاد کیا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس کا تذکرہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم اسے اپنے ماموؤں کو دے دیتیں تو یہ (کام) تمہارے اجر کو بڑھا دیتا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2317]
حضرت میمونہ بنت الحارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ایک لونڈی آزاد کی۔ اور اس کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم اسے اپنے ماموؤں کو دیتیں تو تمہیں اجر زیادہ ملتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2317]
ترقیم فوادعبدالباقی: 999
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1000 ترقیم شاملہ: -- 2318
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَصَدَّقْنَ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ، وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ"، قَالَتْ: فَرَجَعْتُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ، فَقُلْتُ: إِنَّكَ رَجُلٌ خَفِيفُ ذَاتِ الْيَدِ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَنَا بِالصَّدَقَةِ، فَأْتِهِ فَاسْأَلْهُ فَإِنْ كَانَ ذَلِكَ يَجْزِي عَنِّي، وَإِلَّا صَرَفْتُهَا إِلَى غَيْرِكُمْ، قَالَتْ: فَقَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ: بَلِ ائْتِيهِ أَنْتِ، قَالَتْ: فَانْطَلَقْتُ فَإِذَا امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ بِبَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَاجَتِي حَاجَتُهَا، قَالَتْ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أُلْقِيَتْ عَلَيْهِ الْمَهَابَةُ، قَالَتْ: فَخَرَجَ عَلَيْنَا بِلَالٌ، فَقُلْنَا لَهُ: ائْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبِرْهُ أَنَّ امْرَأَتَيْنِ بِالْبَابِ تَسْأَلَانِكَ أَتُجْزِئُ الصَّدَقَةُ عَنْهُمَا عَلَى أَزْوَاجِهِمَا، وَعَلَى أَيْتَامٍ فِي حُجُورِهِمَا؟، وَلَا تُخْبِرْهُ مَنْ نَحْنُ، قَالَتْ: فَدَخَلَ بِلَالٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ هُمَا؟" فَقَالَ: امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ، وَزَيْنَبُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّ الزَّيَانِبِ؟"، قَالَ: امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَهُمَا أَجْرَانِ: أَجْرُ الْقَرَابَةِ، وَأَجْرُ الصَّدَقَةِ"،
ابواحوص نے اعمش سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابووائل سے، انہوں نے عمرو بن حارث سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ (بن مسعود) کی بیوی زینب رضی اللہ عنہا (بنت عبداللہ بن ابی معاویہ) سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عورتوں کی جماعت! صدقہ کرو، اگرچہ اپنے زیورات سے ہی کیوں نہ ہو۔“ کہا: تو میں (اپنے خاوند) عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس واپس آئی اور کہا: ”تم کم مایہ آدمی ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیا ہے، لہٰذا تم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر آپ سے پوچھ لو اگر اس (کو تمہیں دینے) سے میری طرف سے ادا ہو جائے گا (تو ٹھیک) ورنہ میں اسے تمہارے علاوہ دوسروں کی طرف بھیج دوں گی۔“ کہا: تو عبداللہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: ”بلکہ تم خود ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلی جاؤ۔“ انہوں نے کہا: میں گئی تو اس وقت ایک اور انصاری عورت بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر کھڑی تھی اور (مسئلہ دریافت کرنے کے حوالے سے) اس کی ضرورت بھی وہی تھی جو میری تھی، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہیبت عطا کی گئی تھی۔ کہا: بلال رضی اللہ عنہ نکل کر ہماری طرف آئے تو ہم نے ان سے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جاؤ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتاؤ کہ دروازے پر دو عورتیں ہیں، آپ سے پوچھ رہی ہیں کہ ان کی طرف سے ان کے خاوندوں اور ان یتیم بچوں پر جو ان کی کفالت میں ہیں، صدقہ جائز ہے؟ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ نہ بتانا کہ ہم کون ہیں۔“ بلال رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ سے کہا: ”وہ دونوں کون ہیں؟“ انہوں نے کہا: ”ایک انصاری عورت ہے اور ایک زینب ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”زینبوں میں سے کون سی؟“ انہوں نے کہا: ”عبداللہ رضی اللہ عنہ کی بیوی۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: ”ان کے لیے دو اجر ہیں: (ایک) قرابت نبھانے کا اجر اور (دوسرا) صدقہ کرنے کا اجر۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2318]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیوی زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عورتوں کا گروہ! صدقہ کرو، اگرچہ اپنے زیورات سے کرو۔ تو میں (اپنے خاوند) عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئی اور کہا تم کم مال والے آدمی ہو۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیا ہے آپ کے پاس جا کر یہ مسئلہ پوچھ لو (کہ اگر تمھیں دینا) کفایت کرتا ہو (تو ٹھیک ہے) وگرنہ میں کسی اور کو دے دوں گی، تو عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے کہا بلکہ تم خود ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ تو میں گئی اور ایک اور انصاری عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازہ پر کھڑی تھی اور اس کو میرے والے مسئلہ پوچھنے کی حاجت تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ بہت بارعب تھا۔ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہیبت آتی تھی) ہمارے پاس اندر سے بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے تو ہم نے ان سے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتاؤ کہ دروازہ پردو عورتیں آپ سے پوچھتی ہیں کہ اگر وہ صدقہ اپنے خاوندوں کو دے دیں اور ان یتیم بچوں کو جو ان کی کفالت میں ہیں تو کفایت کر جائے گا؟ اور آپ کو ہمارے بارے میں نہ بتانا کہ ہم کون ہیں تو بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال سے پوچھا وہ کون ہیں انھوں نے کہا ایک انصاری عورت ہے اور ایک زینب ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون سی زینب؟“ انھوں نے کہا: عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیوی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال کو بتایا کہ (انہیں دہرا اجر ملے گا، صلہ رحمی رشتہ داری) کا اجر اور صدقہ کا اجر۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2318]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1000
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1000 ترقیم شاملہ: -- 2319
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنِي شَقِيقٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: فَذَكَرْتُ لِإِبْرَاهِيمَ فَحَدَّثَنِي، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ بِمِثْلِهِ سَوَاءً، قَالَ: قَالَتْ: كُنْتُ فِي الْمَسْجِدِ فَرَآنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" تَصَدَّقْنَ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ"، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ أَبِي الْأَحْوَصِ.
عمر بن حفص بن غیاث نے اپنے والد سے، انہوں نے اعمش سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ روایت کی۔ (اعمش نے) کہا: میں نے (یہ حدیث) ابراہیم نخعی سے بیان کی تو انہوں نے مجھے ابوعبیدہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے عمرو بن حارث سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کی بیوی زینب رضی اللہ عنہا سے روایت کی، بالکل اسی (مذکورہ بالا روایت) کے مانند، اور کہا: انہوں (زینب رضی اللہ عنہا) نے کہا: ”میں مسجد میں تھی (اس دروازے پر جو مسجد میں تھا)، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (بلال رضی اللہ عنہ کے بتانے پر) مجھے دیکھا تو فرمایا: ’صدقہ کرو، چاہے اپنے زیورات ہی سے کیوں نہ ہو۔‘“ اعمش نے باقی حدیث ابواحوص کی (مذکورہ بالا) روایت کے ہم معنی بیان کی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2319]
حضرت عبداللہ کی بیوی زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مذکورہ بالا روایت ہی مروی ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ میں مسجد میں تھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھ لیا اور فرمایا: ”(صدقہ) کرو اگرچہ اپنے زیورات ہی سے سہی۔“ آگے ابو احوص کی مذکورہ بالا روایت ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2319]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1000
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1001 ترقیم شاملہ: -- 2320
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ لِي أَجْرٌ فِي بَنِي أَبِي سَلَمَةَ؟، أُنْفِقُ عَلَيْهِمْ وَلَسْتُ بِتَارِكَتِهِمْ هَكَذَا وَهَكَذَا إِنَّمَا هُمْ بَنِيَّ، فَقَالَ:" نَعَمْ لَكِ فِيهِمْ أَجْرُ مَا أَنْفَقْتِ عَلَيْهِمْ"،
ابواسامہ نے کہا: ہمیں ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے حدیث بیان کی، انہوں نے زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! کیا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کی اولاد پر خرچ کرنے میں میرے لیے اجر ہے؟ میں ان پر خرچ کرتی ہوں، میں انہیں ایسے، ایسے چھوڑنے والی نہیں ہوں، وہ میرے بچے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، تمہارے لیے ان میں، جو تم ان پر خرچ کرو گی، اجر ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2320]
حضرت اُم سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے میری اولاد پر مجھے خرچ کرنے پر اجر ملے گا؟ جبکہ میں انہیں چھوڑ تو سکتی نہیں ہوں کہ وہ اِدھر اُدھر سے مانگتے پھریں، آخر وہ میرے ہی بیٹے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں تمھیں ان پر خرچ کرنے کا اجر ملے گا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2320]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1001
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1001 ترقیم شاملہ: -- 2321
وحَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ . ح وحَدَّثَنَاه إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، جَمِيعًا، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ.
علی بن مسہر اور معمر (راشد) دونوں نے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ ہشام بن عروہ سے اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2321]
امام صاحب اپنے دوسرے دو استادوں سے ہشام کی سند سے ہی مذکوہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2321]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1001
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1002 ترقیم شاملہ: -- 2322
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيٍّ وَهُوَ ابْنُ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْبَدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا أَنْفَقَ عَلَى أَهْلِهِ نَفَقَةً وَهُوَ يَحْتَسِبُهَا كَانَتْ لَهُ صَدَقَةً"،
عبیداللہ بن معاذ عنبری کے والد نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں شعبہ نے عدی بن ثابت سے حدیث بیان کی، انہوں نے عبداللہ بن یزید سے، انہوں نے حضرت ابومسعود بدری رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "مسلمان جب اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے اور اس سے اللہ کی رضا چاہتا ہے تو وہ اس کے لئے صدقہ ہے۔" [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2322]
حضرت ابو مسعود بدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان اگر اپنے اہل پر بھی ثواب کی نیت سے خرچ کرتا ہے تو یہ اس کا صدقہ ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2322]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1002
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1002 ترقیم شاملہ: -- 2323
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، كِلَاهُمَا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ . ح وحَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، جَمِيعًا، عَنْ شُعْبَةَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ.
محمد بن جعفر اور وکیع دونوں نے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ شعبہ سے یہی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2323]
مصنف اپنے تین اور استادوں سے شعبہ ہی کی سند سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2323]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1002
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1003 ترقیم شاملہ: -- 2324
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَسْمَاءَ ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي قَدِمَتْ عَلَيَّ، وَهِيَ رَاغِبَةٌ أَوْ رَاهِبَةٌ، أَفَأَصِلُهَا؟، قَالَ: " نَعَمْ ".
عبداللہ بن ادریس نے ہشام بن عروہ سے، انہوں نے اپنے والد سے، اور انہوں نے حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے پوچھا: "اے اللہ کے رسول! میری والدہ میرے پاس آئی ہیں اور (صلہ رحمی کی) خواہش مند ہیں۔ یا (خالی ہاتھ واپسی سے) خائف ہیں۔ کیا میں ان سے صلہ رحمی کروں؟" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ہاں۔" [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2324]
حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری والدہ میرے پاس آئی ہے اور وہ (صلہ رحمی کی) خواہش مند ہے(اور محرومی سے) خائف بھی ہے (کہ شاید میں اسے کچھ نہ دوں) کیا میں اس سے صلہ رحمی کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2324]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1003
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة