صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
37. باب جواز الاخذ بغير سؤال ولا تطلع
باب: بغیر سوال اور خواہش کے لینے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1045 ترقیم شاملہ: -- 2408
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ بُكَيْرٍ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ ابْنِ السَّاعِدِيِّ الْمَالِكِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ: اسْتَعْمَلَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْهَا وَأَدَّيْتُهَا إِلَيْهِ، أَمَرَ لِي بِعُمَالَةٍ، فَقُلْتُ: إِنَّمَا عَمِلْتُ لِلَّهِ وَأَجْرِي عَلَى اللَّهِ، فَقَالَ: خُذْ مَا أُعْطِيتَ فَإِنِّي عَمِلْتُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَمَّلَنِي، فَقُلْتُ مِثْلَ قَوْلِكَ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أُعْطِيتَ شَيْئًا مِنْ غَيْرِ أَنْ تَسْأَلَ فَكُلْ وَتَصَدَّقْ "،
لیث نے بکیر سے، انہوں نے بسر بن سعید سے اور انہوں نے ابن ساعدی مالکی سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: مجھے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے صدقے (کی وصولی) کے لئے عامل مقرر کیا، جب میں اس کام سے فارغ ہوا اور انہیں (وصول کردہ) مال لا کر ادا کر دیا، تو انہوں نے مجھے کام کی اجرت دینے کا حکم دیا۔ میں نے عرض کی: میں نے تو یہ کام محض اللہ کی (رضا کی) خاطر کیا ہے اور میرا اجر اللہ نے دینا ہے۔ تو انہوں نے کہا: جو تمہیں دیا جائے اسے لے لو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں کام کیا تھا، آپ نے مجھے میرے کام کی مزدوری دی تو میں نے بھی تمہاری جیسی بات کہی تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تمہیں تمہارے مانگے بغیر کوئی چیز دی جائے تو کھاؤ اور صدقہ کرو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2408]
ابن الساعدی مالکی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ مجھے عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صدقہ کی وصولی کے لیے مقرر کیا تو جب میں اس کام سے فارغ ہوا اور انہیں صدقہ کا مال لا کر دے دیا انھوں نے میرے کام کی مزدوری مجھے دینے کا حکم دیا تو میں نے عرض کیا میں نے تو یہ کام عرض کیا میں نے تو یہ کا محض اللہ کی رضا کی خاطر کیا ہے اور میرا اجر اللہ کے پاس ہے تو انھوں نے کہا جو تمھیں دیا جا رہا ہے لے لو کیونکہ میں نے یہ کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں کیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے میرے کام کی مزدوری دینا چاہی تو میں نے بھی تیرے والا جواب دیا (تمھارے والی بات کہی) تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تمھیں بغیر مانگے کوئی چیز دی جائے تو اسے استعمال کرو (اور چاہو تو) صدقہ کر دو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2408]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1045
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
عبد الله بن قدامة السعدي ← عمر بن الخطاب العدوي