صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
37. باب جواز الاخذ بغير سؤال ولا تطلع
باب: بغیر سوال اور خواہش کے لینے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1045 ترقیم شاملہ: -- 2409
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ ابْنِ السَّعْدِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ: اسْتَعْمَلَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى الصَّدَقَةِ، بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ.
عمرو بن حارث نے بکیر بن اشج سے، انہوں نے بسر بن سعید سے اور انہوں نے ابن سعدی سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: مجھے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے صدقہ وصول کرنے کے لئے عامل بنایا۔۔۔ (آگے) لیث کی حدیث کی طرح (روایت بیان کی۔) [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2409]
ابن الساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صدقہ کی وصول کرنے کے لیے عامل بنایا اور لیث کی طرح روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2409]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1045
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2409 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2409
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
احادیث بالا سے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ابن السعدی کا کمال زہد اور دنیوی مال و دولت سے بےرغبتی کا اظہار ہوتا ہے اور اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے اگر حکومت کسی انسان کوکوئی چیز اس کی قومی و دینی یا ملی خدمات کے عوض کوئی سند یا نشان اور مالی مفاد دے جیسے نشان حیدر،
ستارہ جرات تو اس کا لینا جائز ہے لیکن اگر وہ سیاسی رشوت کے طور پر یہ نشانات یا روٹ پرمٹ،
انمپورٹ ایکسپورٹ کے لائسنس اور ٹھیکے دے تاکہ وہ اس کے ناجائز اور غلط کاموں میں اس کی حمایت کرے اور دین فروشی کرے تویہ چیزیں لینا ناجائز اور حرام ہے لیکن اگر ناجائز کاموں کی حمایت اور اس کی ایجنٹی مقصود نہ ہو محض تالیف قلبی یا کسی دینی ضررورت کے لیے اس کو حج،
عمرہ یا کسی غیر ملکی یا ملکی کانفرنس میں شرکت کی دعوت ہو تو پھر حسب ضرورت جائز ہے بشرطیکہ یہ چیز اس کے دامن کو داغدار نہ کرے اور لوگوں میں اس کے بارے میں غلط تاثر قائم نہ ہو سکے۔
فوائد ومسائل:
احادیث بالا سے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ابن السعدی کا کمال زہد اور دنیوی مال و دولت سے بےرغبتی کا اظہار ہوتا ہے اور اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے اگر حکومت کسی انسان کوکوئی چیز اس کی قومی و دینی یا ملی خدمات کے عوض کوئی سند یا نشان اور مالی مفاد دے جیسے نشان حیدر،
ستارہ جرات تو اس کا لینا جائز ہے لیکن اگر وہ سیاسی رشوت کے طور پر یہ نشانات یا روٹ پرمٹ،
انمپورٹ ایکسپورٹ کے لائسنس اور ٹھیکے دے تاکہ وہ اس کے ناجائز اور غلط کاموں میں اس کی حمایت کرے اور دین فروشی کرے تویہ چیزیں لینا ناجائز اور حرام ہے لیکن اگر ناجائز کاموں کی حمایت اور اس کی ایجنٹی مقصود نہ ہو محض تالیف قلبی یا کسی دینی ضررورت کے لیے اس کو حج،
عمرہ یا کسی غیر ملکی یا ملکی کانفرنس میں شرکت کی دعوت ہو تو پھر حسب ضرورت جائز ہے بشرطیکہ یہ چیز اس کے دامن کو داغدار نہ کرے اور لوگوں میں اس کے بارے میں غلط تاثر قائم نہ ہو سکے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2409]
عبد الله بن قدامة السعدي ← عمر بن الخطاب العدوي