صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
44. باب إعطاء المؤلفة ومن يخاف عليٰ إيمانه إن لم يعط ، واحتمال من سال بجفاء لجهله وبيان الخوارج واحكامهم
باب: مؤلفتہ القلوب اور جسے اگر نہ دیا جائے تو اس کے ایمان کا خوف ہو اس کو دینے اور جو اپنی جہالت کی وجہ سے سختی سے سوال کرے اور خوارج اور ان کے احکامات کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1057 ترقیم شاملہ: -- 2429
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا إسحاق بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ مَالِكًا . ح وحَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى وَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ إسحاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ رِدَاءٌ نَجْرَانِيٌّ غَلِيظُ الْحَاشِيَةِ، فَأَدْرَكَهُ أَعْرَابِيٌّ، فَجَبَذَهُ بِرِدَائِهِ جَبْذَةً شَدِيدَةً نَظَرْتُ إِلَى صَفْحَةِ عُنُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ أَثَّرَتْ بِهَا حَاشِيَةُ الرِّدَاءِ مِنْ شِدَّةِ جَبْذَتِهِ، ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ مُرْ لِي مِنْ مَالِ اللَّهِ الَّذِي عِنْدَكَ، فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَحِكَ، ثُمَّ أَمَرَ لَهُ بِعَطَاءٍ "،
امام مالک بن انس نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا آپ (کے کندھوں) پر خاصے موٹے کنارے کی ایک نجرانی چادر تھی اتنے میں ایک بدوی آپ کے پاس آیا اور آپ کی چادر سے (پکڑ کر) آپ کو زور سے کھینچا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن کی ایک جانب کی طرف نظر کی جس پر اس کے زور سے کھینچنے کے باعث چادر کے کنارے نے گہرا نشان ڈال دیا تھا پھر اس نے کہا: اے محمد! اللہ کا جو مال آپ کے پاس ہے اس میں سے مجھے بھی دینے کا حکم دیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے ہنس پڑے اور اسے کچھ دینے کا حکم دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2429]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہا تھا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک نجرانی چادر جس کے کنارے موٹے تھے اوڑھے ہوئے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک بدوی آ ملا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر کو اس قدر زور سے کھینچا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن کے ایک طرف دیکھا جس پر اس کے انتہائی زور سے کھینچنے کے باعث چادر کے حاشیہ (کنارہ) نے نشان بنا ڈالا تھا۔ پھر اس نے کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کا جو مال آپ کے پاس ہے اس میں سے مجھے بھی دینے کا حکم دیجیے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہو کر ہنس پڑے اور اسے کچھ دینے کا حکم دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2429]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1057
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
6088
| أمشي مع رسول الله وعليه برد نجراني غليظ الحاشية فأدركه أعرابي فجبذ بردائه جبذة شديدة قال أنس فنظرت إلى صفحة عاتق النبي وقد أثرت بها حاشية الرداء من شدة جبذته ثم قال يا محمد مر لي من مال الله الذي عندك فالتفت إليه |
صحيح البخاري |
5809
| أمشي مع رسول الله وعليه برد نجراني غليظ الحاشية فأدركه أعرابي فجبذه بردائه جبذة شديدة حتى نظرت إلى صفحة عاتق رسول الله قد أثرت بها حاشية البرد من شدة جبذته ثم قال يا محمد مر لي من مال الله الذي عندك فالتفت إليه |
صحيح مسلم |
2429
| أمشي مع رسول الله وعليه رداء نجراني غليظ الحاشية فأدركه أعرابي فجبذه بردائه جبذة شديدة نظرت إلى صفحة عنق رسول الله وقد أثرت بها حاشية الرداء من شدة جبذته ثم قال يا محمد مر لي من مال الله الذي عندك فالتفت إليه رسول الله |
سنن ابن ماجه |
3553
| كنت مع النبي وعليه رداء نجراني غليظ الحاشية |
إسحاق بن عبد الله الأنصاري ← أنس بن مالك الأنصاري