صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
48. باب التحريض على قتل الخوارج:
باب: خوارج کے قتل پر ابھارنے کے بارے میں۔
ترقیم عبدالباقی: 1066 ترقیم شاملہ: -- 2468
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ الْحَرُورِيَّةَ لَمَّا خَرَجَتْ وَهُوَ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالُوا: لَا حُكْمَ إِلَّا لِلَّهِ، قَالَ عَلِيٌّ : كَلِمَةُ حَقٍّ أُرِيدَ بِهَا بَاطِلٌ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفَ نَاسًا إِنِّي لَأَعْرِفُ صِفَتَهُمْ فِي هَؤُلَاءِ، يَقُولُونَ الْحَقَّ بِأَلْسِنَتِهِمْ لَا يَجُوزُ هَذَا مِنْهُمْ، وَأَشَارَ إِلَى حَلْقِهِ مِنْ أَبْغَضِ خَلْقِ اللَّهِ إِلَيْهِ، مِنْهُمْ أَسْوَدُ إِحْدَى يَدَيْهِ طُبْيُ شَاةٍ أَوْ حَلَمَةُ ثَدْيٍ، فَلَمَّا قَتَلَهُمْ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: انْظُرُوا فَنَظَرُوا، فَلَمْ يَجِدُوا شَيْئًا، فَقَالَ: ارْجِعُوا فَوَاللَّهِ مَا كَذَبْتُ وَلَا كُذِبْتُ، مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، ثُمَّ وَجَدُوهُ فِي خَرِبَةٍ، فَأَتَوْا بِهِ حَتَّى وَضَعُوهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: وَأَنَا حَاضِرُ ذَلِكَ مِنْ أَمْرِهِمْ، وَقَوْلِ عَلِيٍّ فِيهِمْ، زَادَ يُونُسُ فِي رِوَايَتِهِ، قَالَ بُكَيْرٌ: وَحَدَّثَنِي رَجُلٌ، عَنْ ابْنِ حُنَيْنٍ، أَنَّهُ قَالَ: رَأَيْتُ ذَلِكَ الْأَسْوَدَ.
ابوطاہر اور یونس بن عبدالاعلی دونوں نے کہا ہمیں عبداللہ بن وہب نے خبر دی انہوں نے کہا مجھے عمرو بن حارث نے بکیر اشج سے خبر دی انہوں نے بسر بن سعید سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ کے بیٹے عبید اللہ سے روایت کی کہ جب حروریہ نے خروج کیا اور وہ (عبید اللہ) حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا تو انہوں نے کہا حکومت اللہ کے سوا کسی کی نہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ کلمہ حق ہے جس سے باطل مراد لیا گیا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کی صفات بیان کیں میں ان لوگوں میں ان صفات کو خوب پہچانتا ہوں (آپ نے فرمایا): ”وہ اپنی زبانوں سے حق بات کہیں گے اور وہ (حق) ان کی اس جگہ۔۔۔ آپ نے اپنے حلق کی طرف اشارہ کیا۔۔۔ سے آگے نہیں بڑھے گا یہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے اس کے ہاں سب سے زیادہ ناپسندیدہ ہیں ان میں ایک سیاہ رنگ کا آدمی ہوگا اس کا ایک ہاتھ بکرکے تھن یا نوک پستان کی طرح ہوگا جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کو قتل کیا ڈھونڈو۔ لوگوں نے ڈھونڈا تو انہیں کچھ نہ ملا فرمایا دوبارہ تلاش کرو اللہ کی قسم! میں نے جھوٹ نہیں بولا اور نہ مجھے جھوٹ بتایا گیا دو یا تین دفعہ (یہی فقرہ) کہا پھر انہوں نے اسے ایک کھنڈر میں پا لیا تو وہ اسے لے آئے یہاں تک کہ اسے آپ کے سامنے رکھ دیا۔ عبید اللہ نے کہا: میں بے شک ان کے اس معاملے میں اور ان کے متعلق حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بات کے وقت حاضر تھا۔ یونس نے اپنی روایت میں اضافہ کیا: بکیر نے کہا مجھے (عبداللہ) بن حنین (ہاشمی) سے ایک آدمی نے حدیث بیان کی اس نے کہا میں نے بھی اس کا لاش کو دیکھا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2468]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلا م حضرت ابو رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیٹے عبیداللہ سے روایت ہے کہ جب حروریہ نے خروج کیا اور وہ حضرت علی بن ابی طا لب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تھا تو انھوں نے کہا حاکم صرف اللہ ہے، فیصلہ کا حق اسی کو ہے، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: حق بات غلط مقصد کے لیے کہی گئی ہے (صحیح بات سے باطل کا ارادہ گیا ہے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لو گوں کی حالت بیان کی تھی، اور میں وہ وصف ان لوگو ں میں پاتا ہوں (وہ اپنی زبان سے حق بات کہیں گے اور اپنے اپنے حلق کی طرف اشارہ کر کے بتایا۔ اور قرآن اس سے نیچے نہیں اترے گا۔ اللہ کی مخلوق میں سے سب سے زیادہ مبغوض اس کے نزدیک یہی لوگ ہیں، ان میں ایک سیاہ رنگ کا آدمی ہوگا اس کا ایک ہا تھ بکری کے تھن یا عورت کے سرِ پستان کی طرح ہے) جب حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کو قتل کیا تو کہا، اسے تلاش کرو، بوگوں نے اسے تلاش کیا۔ لیکن انہیں کچھ نہ ملا، فرمایا دوبارہ تلاش کرو، کیونکہ اللہ کی قسم! میں نے جھوٹ نہیں بولا اور نہ مجھے جھوٹ بتایا گیا ہے، دو یا تین دفعہ کہا۔ پھر وہ ایک کھنڈر میں مل گیا، تو لوگوںنے لا کر ان کے سامنے رکھ دیا۔ عبید اللہ کہتے ہیں میں بھی اس معاملہ کو دیکھ رہا تھا (وہاں موجود تھا) اور ان کے بارے میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بات کو سنا تھا۔ یو نس کی روایت میں ہے۔ بکیر نے کہا مجھے ایک آدمی نے ابن حنین کے واسطے سے بتایا۔ اس نے کہا میں نے اس سیاہ آدمی کو دیکھا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2468]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1066
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
5057
| يمرقون من الإسلام كما يمرق السهم من الرمية |
صحيح البخاري |
6930
| لا يجاوز إيمانهم حناجرهم يمرقون من الدين كما يمرق السهم من الرمية |
صحيح البخاري |
3611
| يمرقون من الإسلام كما يمرق السهم من الرمية |
صحيح مسلم |
2468
| أعرف صفتهم في هؤلاء يقولون الحق بألسنتهم لا يجوز هذا منهم وأشار إلى حلقه من أبغض خلق الله إليه منهم أسود إحدى يديه طبي شاة أو حلمة ثدي فلما قتلهم علي بن أبي طالب قال انظروا فنظروا فلم يجدوا شيئا فقال ارجعوا فوالله ما كذبت ولا كذبت مرتين أو ثل |
صحيح مسلم |
2465
| فيهم رجل مخدج اليد أو مودن اليد أو مثدون اليد لولا أن تبطروا لحدثتكم بما وعد الله الذين يقتلونهم على لسان محمد قال قلت آنت سمعته من محمد قال إي ورب الكعبة إي ورب الكعبة إي ورب الكعبة |
صحيح مسلم |
2462
| يقرءون القرآن لا يجاوز حناجرهم يمرقون من الدين كما يمرق السهم من الرمية |
صحيح مسلم |
2467
| يخرج قوم من أمتي يقرءون القرآن ليس قراءتكم إلى قراءتهم بشيء ولا صلاتكم إلى صلاتهم بشيء ولا صيامكم إلى صيامهم بشيء يقرءون القرآن يحسبون أنه لهم وهو عليهم لا تجاوز صلاتهم تراقيهم يمرقون من الإسلام كما يمرق السهم من الرمية لو يعلم الجيش الذين يصيبونهم ما قضي |
سنن أبي داود |
4767
| يمرقون من الإسلام كما يمرق السهم من الرمية |
سنن أبي داود |
4768
| يخرج قوم من أمتي يقرءون القرآن ليست قراءتكم إلى قراءتهم شيئا ولا صلاتكم إلى صلاتهم شيئا ولا صيامكم إلى صيامهم شيئا يقرءون القرآن يحسبون أنه لهم وهو عليهم لا تجاوز صلاتهم تراقيهم يمرقون من الإسلام كما يمرق السهم من الرمية لو يعلم الجيش الذين يصيبونهم ما قض |
سنن النسائى الصغرى |
4107
| يخرج قوم في آخر الزمان أحداث الأسنان سفهاء الأحلام يقولون من خير قول البرية لا يجاوز إيمانهم حناجرهم يمرقون من الدين كما يمرق السهم من الرمية فإذا لقيتموهم فاقتلوهم فإن قتلهم أجر لمن قتلهم يوم القيامة |
المعجم الصغير للطبراني |
597
| لا يجاوز إيمانهم حناجرهم يمرقون من الدين كما يمرق السهم من الرمية |
المعجم الصغير للطبراني |
871
| لقد علم أولو العلم من آل محمد وعائشة بنت أبي بكر فاسألوها أن أصحاب الأسود ذا الثدية ملعونون على لسان النبي |
المعجم الصغير للطبراني |
594
| لولا أن تبطروا ، لحدثتكم بموعود الله على لسان نبيه صلى الله عليه وآله وسلم لمن قتل هؤلاء يعني الخوارج |
المعجم الصغير للطبراني |
596
| لما قتل الخوارج يوم النهر ، قال : اطلبوا المجدع ، المخدج ، فطلبوه ، فلم يجدوه ، ثم طلبوه ، فوجدوه ، فقال : لولا أن تبطروا لحدثتكم بما قضى الله عز وجل على لسان نبيه صلى الله عليه وآله وسلم لمن قتلهم |
عبيد الله بن أسلم المدني ← علي بن أبي طالب الهاشمي