🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

48. باب التَّحْرِيضِ عَلَى قَتْلِ الْخَوَارِجِ:
باب: خوارج کے قتل پر ابھارنے کے بارے میں۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1066 ترقیم شاملہ: -- 2462
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، جميعا، عَنْ وَكِيعٍ ، قَالَ الْأَشَجُّ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ : إِذَا حَدَّثْتُكُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَأَنْ أَخِرَّ مِنَ السَّمَاءِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَقُولَ عَلَيْهِ مَا لَمْ يَقُلْ، وَإِذَا حَدَّثْتُكُمْ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ، فَإِنَّ الْحَرْبَ خَدْعَةٌ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " سَيَخْرُجُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ أَحْدَاثُ الْأَسْنَانِ، سُفَهَاءُ الْأَحْلَامِ، يَقُولُونَ مِنْ خَيْرِ قَوْلِ الْبَرِيَّةِ، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ، فَإِنَّ فِي قَتْلِهِمْ أَجْرًا لِمَنْ قَتَلَهُمْ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "،
وکیع نے حدیث بیان کی کہا اعمش نے ہمیں خیثمہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے سوید بن غفلہ سے روایت کی انہوں نے کہا: حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا جب میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث سناؤں تو یہ بات کہ میں آسمان سے گر پڑوں مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں آپ کی طرف کوئی ایسی بات منسوب کروں جو آپ نے نہیں فرمائی۔ اور جب میں تم سے اس معاملے میں بات کروں جو میرے اور تمہارے درمیان ہے (تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول سے استشہاد کر سکتا ہوں کہ) جنگ ایک چال ہے (لیکن) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (بصراحت یہ) فرماتے ہوئے سنا: عنقریب (خلافت راشدہ کے) آخری زمانے میں ایک قوم نکلے گی وہ لوگ کم عمر اور کم عقل ہوں گے (بظاہر) مخلوق کی سب سے بہترین بات کہیں گے قرآن پڑھیں گے جو ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا دین کے اندر سے اس طرح تیزی سے نکل جائیں گے جس طرح تیر تیزی سے شکار کے اندر سے نکل جاتا ہے جب تمہارا ان سے سامنا ہو تو ان کو قتل کر دینا جس نے ان کو قتل کیا اس کے لیے یقیناً قیامت کے دن اللہ کے ہاں اجر ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2462]
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: جب میں تمھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سناؤں، تو آسمان سے گر پڑنا (تباو برباد ہونا) مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایسی بات منسوب کروں؟ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمائی۔ اور جب میں آپس کی بات کروں تو جنگ ایک چال اور تدبیر ہے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اخیر زمانہ میں ایک قوم نکلے گی کم عمر کم عقل بظاہر مخلوق کی بہترین بات کہیں گے قرآن پڑھیں گے جو ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ اطاعت سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے گزر جاتا ہے جب تمھاری ان سے مڈ بھیڑ ہو تو ان کو قتل کردینا کیونکہ ان کے قتل میں قیامت کے دن اللہ کے ہاں قاتل کو اجر ملے گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2462]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1066
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1066 ترقیم شاملہ: -- 2463
حَدَّثَنَا إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، كِلَاهُمَا، عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ،
عیسیٰ بن یونس اور سفیان دونوں نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2463]
امام صاحب نے مذکورہ روایت اپنے تین اساتذہ سے اعمش ہی کی سند سے بیان کی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2463]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1066
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1066 ترقیم شاملہ: -- 2464
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، كِلَاهُمَا، عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمَا " يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ".
اعمش سے جریر اور ابومعاویہ نے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور ان دونوں کی حدیث میں دین میں سے تیز رفتاری کے ساتھ یوں نکلیں گے جس طرح تیر نشانہ لگے شکار سے تیزی سے نکل جاتا ہے کے الفاظ نہیں ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2464]
امام صاحب نے مذکورہ روایت اپنے چار اساتذہ سے جو جریر اور ابو معاویہ سےاعمش کی سندہی سے بیان کرتے ہیں نقل کی ہے لیکن اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں (وہ دین سے اس طرح نکلیں گے جیسا کہ تیر شکار سے گزر جاتا ہے۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2464]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1066
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1066 ترقیم شاملہ: -- 2465
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُمَا، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: ذَكَرَ الْخَوَارِجَ، فَقَالَ: " فِيهِمْ رَجُلٌ مُخْدَجُ الْيَدِ، أَوْ مُودَنُ الْيَدِ أَوْ مَثْدُونُ الْيَدِ، لَوْلَا أَنْ تَبْطَرُوا لَحَدَّثْتُكُمْ بِمَا وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ يَقْتُلُونَهُمْ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، قَالَ: قُلْتُ: " آنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ " قَالَ: " إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ "،
ایوب نے محمد سے انہوں نے عبیدہ سے اور انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی انہوں نے خوارج کا ذکر کیا اور کہا: ان میں ایک آدمی ناقص چھوٹے یا زیادہ اور ہلتے ہوئے گوشت کے (جیسے) ہاتھ والا ہوگا اگر تمہارے اترانے کا ڈر نہ ہوتا تو جو کچھ اللہ تعالیٰ نے انہیں قتل کرنے والوں کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے وعدہ فرمایا ہے وہ میں تمہیں بتاتا۔ (عبیدہ نے) کہا میں نے عرض کی: کیا آپ نے یہ (وعدہ براہ راست) محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: رب کعبہ کی قسم! ہاں رب کعبہ کی قسم! ہاں رب کعبہ کی قسم! ہاں [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2465]
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انھوں نے خوارج کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ان میں ایک آدمی ہو گا جس کا ہاتھ ناقص یا چھوٹا سا ملا ہوا ہو گا۔ اگر تم اترانے نہ لگو تو میں تمھیں بتاؤں اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے ان کے قتل کرنے والوں سے کیا وعدہ کیا ہے۔ عبیدہ کہتے ہیں میں نے پوچھا: کیا آپ نے براہ راست اسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ انھوں نے کہا: ہاں، رب کعبہ کی قسم! ہاں، رب کعبہ کی قسم! ہاں، رب کعبہ کی قسم! [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2465]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1066
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1066 ترقیم شاملہ: -- 2466
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، قَالَ: لَا أُحَدِّثُكُمْ إِلَّا مَا سَمِعْتُ مِنْهُ فَذَكَرَ عَنْ عَلِيٍّ نَحْوَ حَدِيثِ أَيُّوبَ مَرْفُوعًا.
ابن عون نے محمد سے اور انہوں نے عبیدہ سے روایت کی، انہوں نے کہا میں تمہیں صرف وہی بیان کروں گا جو میں نے ان (علی رضی اللہ عنہ) سے سنا ہے پھر انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ایوب کی حدیث کی طرح مرفوع حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2466]
عبیدہ بیان کرتے ہیں میں تمھیں وہی حدیث سناؤں گا جو میں نے ان (حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ) سے سنی ہے، پھر مذکورہ بالا مرفوع حدیث سنائی: مخدج اور مؤذن کا معنی ناقص ہے اور مثدون کا چھوٹا مجمتع)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2466]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1066
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1066 ترقیم شاملہ: -- 2467
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ الْجُهَنِيُّ ، أَنَّهُ كَانَ فِي الْجَيْشِ الَّذِينَ كَانُوا مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، الَّذِينَ سَارُوا إِلَى الْخَوَارِجِ، فَقَالَ عَلِيٌّرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " يَخْرُجُ قَوْمٌ مِنْ أُمَّتِي يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ، لَيْسَ قِرَاءَتُكُمْ إِلَى قِرَاءَتِهِمْ بِشَيْءٍ، وَلَا صَلَاتُكُمْ إِلَى صَلَاتِهِمْ بِشَيْءٍ، وَلَا صِيَامُكُمْ إِلَى صِيَامِهِمْ بِشَيْءٍ، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ يَحْسِبُونَ أَنَّهُ لَهُمْ وَهُوَ عَلَيْهِمْ، لَا تُجَاوِزُ صَلَاتُهُمْ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، لَوْ يَعْلَمُ الْجَيْشُ الَّذِينَ يُصِيبُونَهُمْ، مَا قُضِيَ لَهُمْ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَاتَّكَلُوا عَنِ الْعَمَلِ، وَآيَةُ ذَلِكَ أَنَّ فِيهِمْ رَجُلًا لَهُ عَضُدٌ، وَلَيْسَ لَهُ ذِرَاعٌ عَلَى رَأْسِ عَضُدِهِ مِثْلُ حَلَمَةِ الثَّدْيِ، عَلَيْهِ شَعَرَاتٌ بِيضٌ، فَتَذْهَبُونَ إِلَى مُعَاوِيَةَ وَأَهْلِ الشَّامِ، وَتَتْرُكُونَ هَؤُلَاءِ يَخْلُفُونَكُمْ فِي ذَرَارِيِّكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَكُونُوا هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ، فَإِنَّهُمْ قَدْ سَفَكُوا الدَّمَ الْحَرَامَ وَأَغَارُوا فِي سَرْحِ النَّاسِ، فَسِيرُوا عَلَى اسْمِ اللَّهِ "، قَالَ سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ: فَنَزَّلَنِي زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ مَنْزِلًا، حَتَّى قَالَ: مَرَرْنَا عَلَى قَنْطَرَةٍ فَلَمَّا الْتَقَيْنَا، وَعَلَى الْخَوَارِجِ يَوْمَئِذٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ الرَّاسِبِيُّ، فَقَالَ لَهُمْ: أَلْقُوا الرِّمَاحَ وَسُلُّوا سُيُوفَكُمْ مِنْ جُفُونِهَا، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يُنَاشِدُوكُمْ كَمَا نَاشَدُوكُمْ يَوْمَ حَرُورَاءَ، فَرَجَعُوا فَوَحَّشُوا بِرِمَاحِهِمْ وَسَلُّوا السُّيُوفَ وَشَجَرَهُمُ النَّاسُ بِرِمَاحِهِمْ، قَالَ: وَقُتِلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، وَمَا أُصِيبَ مِنَ النَّاسِ يَوْمَئِذٍ إِلَّا رَجُلَانِ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: الْتَمِسُوا فِيهِمُ الْمُخْدَجَ، فَالْتَمَسُوهُ فَلَمْ يَجِدُوهُ، فَقَامَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِنَفْسِهِ حَتَّى أَتَى نَاسًا، قَدْ قُتِلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، قَالَ: أَخِّرُوهُمْ فَوَجَدُوهُ مِمَّا يَلِي الْأَرْضَ فَكَبَّرَ، ثُمَّ قَالَ: صَدَقَ اللَّهُ وَبَلَّغَ رَسُولُهُ، قَالَ: فَقَامَ إِلَيْهِ عَبِيدَةُ السَّلْمَانِيُّ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَلِلَّهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَسَمِعْتَ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِي وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ حَتَّى اسْتَحْلَفَهُ ثَلَاثًا وَهُوَ يَحْلِفُ لَهُ.
سلمہ بن کہیل نے کہا: مجھے زید بن وہب جہنی ؒ نے حدیث سنائی کہ وہ اس لشکر میں شامل تھے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا (اور) خوارج کی طرف روانہ ہوا تھا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: میری امت سے کچھ لوگ نکلیں گے وہ (اس طرح) قرآن پڑھیں گے کہ تمہاری قراءت ان کی قراءت کے مقابلے میں کچھ نہ ہو گی اور نہ تمہاری نمازوں کی ان کی نمازوں کے مقابلے میں کوئی حیثیت ہو گی اور نہ ہی تمہارے روزوں کی ان کے روزوں کے مقابلے میں کوئی حیثیت ہو گی۔ وہ قرآن پڑھیں گے اور خیال کریں گے وہ ان کے حق میں ہے حالانکہ وہ ان کے خلاف ہوگا ان کی نماز ان کی ہنسلیوں سے آگے نہیں بڑھے گی وہ اس طرح تیز رفتاری کے ساتھ اسلام سے نکل جائیں گے جس طرح تیر بہت تیزی سے شکار کے اندر سے نکل جاتا ہے۔ اگر وہ لشکر جو ان کو جا لے گا جان لے کہ ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے ان کے بارے میں کیا فیصلہ ہوا ہے تو وہ عمل سے (بے نیاز ہو کر صرف اسی عمل پر) بھروسا کر لیں۔ اس (گروہ) کی نشانی یہ ہے کہ ان میں ایک آدمی ہوگا جس کا عضد (بازو، کندھے سے لے کر کہنی تک کا حصہ) ہوگا کلائی نہیں ہوگی اس کے بازو کے سرے پر پستان کی نوک کی طرح (کا نشان) ہوگا جس پر سفید بال ہوں گے تو لوگ معاویہ رضی اللہ عنہ اور اہل شام کی طرف جا رہے ہو اور ان (لوگوں) کو چھوڑ رہے ہو جو تمہارے بعد تمہارے بچوں اور اموال پر آپڑیں گے اللہ کی قسم! مجھے امید ہے کہ وہی قوم ہے کیونکہ انہوں نے (مسلمانوں کا) حرمت والا خون بہایا ہے اور لوگوں کے مویشیوں پر غارت گری کی ہے اللہ کا نام لے کر (ان کی طرف) چلو۔ سلمہ بن کہیل نے کہا: مجھے زید بن وہب نے (ایک ایک) منزل میں اتارا (ہر منزل کے بارے میں تفصیل سے) بتایا حتیٰ کہ بتایا: ہم ایک پل پر سے گزرے پھر جب ہمارا آمنا سامنا ہوا تو اس روز خوارج کا سپہ سالار عبداللہ بن وہب راسی تھا اس نے ان سے کہا: اپنے نیزے پھینک دو اور اپنی تلواریں نیاموں سے نکال لو کیونکہ مجھے خطرہ ہے کہ وہ تمہارے سامنے (صلح کے لیے اللہ کا نام) پکاریں گے جس طرح انہوں نے خروراء کے دن تمہارے سامنے پکارا تھا تو انہوں نے لوٹ کر اپنے نیزے دور پھینک دیے اور تلواریں سونت لیں تو لوگ انہی نیزوں کے ساتھ ان پر پل پڑے اور وہ ایک دوسرے پر قتل ہوئے (ایک کے بعد دوسرا آتا اور قتل ہو کر پہلوں پر گرتا) اور اس روز (علی رضی اللہ عنہ کا ساتھ دینے والے) لوگوں میں سے دو کے سوا کوئی اور قتل نہ ہوا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا ان میں ادھورے ہاتھ والے کو تلاش کرو لوگوں نے بہت ڈھونڈا لیکن اس کو نہ پا سکے اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ خود اٹھے اور ان لوگوں کے پاس آئے جو قتل ہو کر ایک دوسرے پر گرے ہوئے تھے آپ نے فرمایا: ان کو ہٹاؤ تو انہوں نے اسے (لاشوں کے نیچے) زمین سے لگا ہوا پایا۔ آپ نے اللہ اکبر کہا پھر کہا: اللہ نے سچ فرمایا اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اسی طرح ہم تک) پہنچا دیا۔ (زید بن وہب نے) کہا عبیدہ سلمانی کھڑے ہو کر آپ کے سامنے حاضر ہوئے اور کہا اے امیر المومنین! اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں! آپ نے واقعی یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی؟ تو انہوں نے کہا: ہاں اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں! حتیٰ کہ اس نے آپ سے تین دفعہ قسم لی اور آپ اس کے سامنے حلف اٹھاتے رہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2467]
زید بن وہب جہنی رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں: کہ وہ اس لشکر میں شامل تھے جو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تھا (اور)خوارج کی طرف روانہ ہوا تھا تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: لو گو!میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فر تے ہو ئے سنا:"میری امت سے کچھ لو گ نکلیں گے وہ (اس طرح) قرآن پڑھیں گے کہ تمھا ری قراءت ان کی قراءت کے مقابلے میں کچھ نہ ہو گی اور نہ تمھاری نمازوں کی ان کی نمازوں کے مقابلے میں کو ئی حیثیت ہو گی اور نہ ہی تمھا رے روزوں کی ان کے روزوں کے مقابلے میں کو ئی حیثیت ہو گی۔وہ قرآن پڑھیں گے اور خیال کریں گے وہ ان کے حق میں ہے حا لا نکہ وہ ان کے خلا ف ہو گا ان کی نماز ان کی ہنسلیوں سے آگے نہیں بڑھے گی وہ اس طرح تیزرفتا ری کے ساتھ اسلام سے نکل جائیں گے جس طرح تیر بہت تیزی سے شکا ر کے اندر سے نکل جا تا ہے۔:"اگر وہ لشکر جو ان کو جا لے گا جا ن لے کہ ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے ان کے بارے میں کیا فیصلہ ہوا ہے تو وہ عمل سے (بے نیاز ہو کر صرف اسی عمل پر) بھروسا کر لیں۔اس (گروہ)کی نشانی یہ ہے کہ ان میں ایک آدمی ہو گا جس کا عضد(بازو،کندھے سے لے کر کہنی تک کا حصہ) ہو گا کلا ئی نہیں ہو گی اس کے بازو کے سر ے پر پستان کی نو ک کی طرح (کا نشان) ہو گا جس پر سفید بال ہوں گے تو لو گ معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور اہل شام کی طرف جا رہے ہو اور ان(لوگوں) کو چھوڑرہے ہو جو تمھا رے بعد تمھا رے بچوں اور اموال پر آپڑیں گے اللہ کی قسم!مجھے امید ہے کہ وہی قوم ہے کیونکہ انھوں نے (مسلمانوں کا) حرمت والا خون بہا یا ہے اور لوگوں کے مویشیوں پر غارت گر ی کی ہے اللہ کا نا م لے کر (ان کی طرف) چلو۔سلمہ بن کہیل نے کہا: مجھے زید بن وہب نے (ایک ایک) منزل میں اتارا (ہر منزل کے بارے میں تفصیل سے) بتا یا حتیٰ کے بتا یا:ہم ایک پل پر سے گزرے پھر جب ہمارا آمنا سامنا ہوا تو اس روز خوارج کا سپہ سالار عبداللہ بن وہب راسی تھا اس نے ان سے کہا: اپنے نیزے پھنیک دو اور اپنی تلواریں نیا موں سے نکا ل لو کیونکہ مجھے خطرہ ہے کہ وہ تمھا رے سامنے (صلح کے لیے اللہ کا نا م) پکا ریں گے جس طرح انھوں نے خروراء کے دن تمھا رے سامنے پکا را تھا تو انھوں نے لوٹ کر اپنے نیزے دو ر پھینک دیے اور تلواریں سونت لیں تو لو گ انھی نیزوں کے ساتھ ان پر پل پڑے اور وہ ایک دوسرے پر قتل ہو ئے (ایک کے بعد دوسرا آتا اور قتل ہو کر پہلو ں پر گرتا) اور اس روز (علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ساتھ دینے والے) لو گوں میں سے دو کے سوا کو ئی اور قتل نہ ہوا حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا ان میں ادھورے ہاتھ والے کو تلا ش کرو لو گوں نے بہت ڈھونڈا لیکن اس کو نہ پا سکے اس پر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ خود اٹھے اور ان لو گوں کے پاس آئے جو قتل ہو کر ایک دوسرے پر گرے ہو ئے تھے آپ نے فر یا:ان کو ہٹاؤ تو انھوں نے اسے (لا شوں کے نیچے) زمین سے لگا ہوا پا یا۔آپ نے اللہ اکبر کہا پھر کہا: اللہ نے سچ فر یا اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اسی طرح ہم تک) پہنچا دیا۔(زید بن وہب نے) کہا عبیدہ سلمانی کھڑے ہو کر آپ کے سامنے حاضر ہو ئے اور کہا اے امیر المومنین! اس اللہ کی قسم جس کے سوا کو ئی عبادت کے لا ئق نہیں!آپ نے واقعی یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی؟ تو انھوں نے کہا: ہاں اس اللہ کی قسم جس کے سوا کو ئی عبادت کے لا ئق نہیں!حتیٰ کہ اس نے آپ سے تین دفعہ قسم لی اور آپ اس کے سامنے حلف اٹھاتے رہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2467]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1066
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1066 ترقیم شاملہ: -- 2468
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ الْحَرُورِيَّةَ لَمَّا خَرَجَتْ وَهُوَ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالُوا: لَا حُكْمَ إِلَّا لِلَّهِ، قَالَ عَلِيٌّ : كَلِمَةُ حَقٍّ أُرِيدَ بِهَا بَاطِلٌ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفَ نَاسًا إِنِّي لَأَعْرِفُ صِفَتَهُمْ فِي هَؤُلَاءِ، يَقُولُونَ الْحَقَّ بِأَلْسِنَتِهِمْ لَا يَجُوزُ هَذَا مِنْهُمْ، وَأَشَارَ إِلَى حَلْقِهِ مِنْ أَبْغَضِ خَلْقِ اللَّهِ إِلَيْهِ، مِنْهُمْ أَسْوَدُ إِحْدَى يَدَيْهِ طُبْيُ شَاةٍ أَوْ حَلَمَةُ ثَدْيٍ، فَلَمَّا قَتَلَهُمْ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: انْظُرُوا فَنَظَرُوا، فَلَمْ يَجِدُوا شَيْئًا، فَقَالَ: ارْجِعُوا فَوَاللَّهِ مَا كَذَبْتُ وَلَا كُذِبْتُ، مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، ثُمَّ وَجَدُوهُ فِي خَرِبَةٍ، فَأَتَوْا بِهِ حَتَّى وَضَعُوهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: وَأَنَا حَاضِرُ ذَلِكَ مِنْ أَمْرِهِمْ، وَقَوْلِ عَلِيٍّ فِيهِمْ، زَادَ يُونُسُ فِي رِوَايَتِهِ، قَالَ بُكَيْرٌ: وَحَدَّثَنِي رَجُلٌ، عَنْ ابْنِ حُنَيْنٍ، أَنَّهُ قَالَ: رَأَيْتُ ذَلِكَ الْأَسْوَدَ.
ابوطاہر اور یونس بن عبدالاعلی دونوں نے کہا ہمیں عبداللہ بن وہب نے خبر دی انہوں نے کہا مجھے عمرو بن حارث نے بکیر اشج سے خبر دی انہوں نے بسر بن سعید سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ کے بیٹے عبید اللہ سے روایت کی کہ جب حروریہ نے خروج کیا اور وہ (عبید اللہ) حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا تو انہوں نے کہا حکومت اللہ کے سوا کسی کی نہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ کلمہ حق ہے جس سے باطل مراد لیا گیا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کی صفات بیان کیں میں ان لوگوں میں ان صفات کو خوب پہچانتا ہوں (آپ نے فرمایا): وہ اپنی زبانوں سے حق بات کہیں گے اور وہ (حق) ان کی اس جگہ۔۔۔ آپ نے اپنے حلق کی طرف اشارہ کیا۔۔۔ سے آگے نہیں بڑھے گا یہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے اس کے ہاں سب سے زیادہ ناپسندیدہ ہیں ان میں ایک سیاہ رنگ کا آدمی ہوگا اس کا ایک ہاتھ بکرکے تھن یا نوک پستان کی طرح ہوگا جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کو قتل کیا ڈھونڈو۔ لوگوں نے ڈھونڈا تو انہیں کچھ نہ ملا فرمایا دوبارہ تلاش کرو اللہ کی قسم! میں نے جھوٹ نہیں بولا اور نہ مجھے جھوٹ بتایا گیا دو یا تین دفعہ (یہی فقرہ) کہا پھر انہوں نے اسے ایک کھنڈر میں پا لیا تو وہ اسے لے آئے یہاں تک کہ اسے آپ کے سامنے رکھ دیا۔ عبید اللہ نے کہا: میں بے شک ان کے اس معاملے میں اور ان کے متعلق حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بات کے وقت حاضر تھا۔ یونس نے اپنی روایت میں اضافہ کیا: بکیر نے کہا مجھے (عبداللہ) بن حنین (ہاشمی) سے ایک آدمی نے حدیث بیان کی اس نے کہا میں نے بھی اس کا لاش کو دیکھا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2468]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلا م حضرت ابو رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیٹے عبیداللہ سے روایت ہے کہ جب حروریہ نے خروج کیا اور وہ حضرت علی بن ابی طا لب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تھا تو انھوں نے کہا حاکم صرف اللہ ہے، فیصلہ کا حق اسی کو ہے، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: حق بات غلط مقصد کے لیے کہی گئی ہے (صحیح بات سے باطل کا ارادہ گیا ہے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لو گوں کی حالت بیان کی تھی، اور میں وہ وصف ان لوگو ں میں پاتا ہوں (وہ اپنی زبان سے حق بات کہیں گے اور اپنے اپنے حلق کی طرف اشارہ کر کے بتایا۔ اور قرآن اس سے نیچے نہیں اترے گا۔ اللہ کی مخلوق میں سے سب سے زیادہ مبغوض اس کے نزدیک یہی لوگ ہیں، ان میں ایک سیاہ رنگ کا آدمی ہوگا اس کا ایک ہا تھ بکری کے تھن یا عورت کے سرِ پستان کی طرح ہے) جب حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کو قتل کیا تو کہا، اسے تلاش کرو، بوگوں نے اسے تلاش کیا۔ لیکن انہیں کچھ نہ ملا، فرمایا دوبارہ تلاش کرو، کیونکہ اللہ کی قسم! میں نے جھوٹ نہیں بولا اور نہ مجھے جھوٹ بتایا گیا ہے، دو یا تین دفعہ کہا۔ پھر وہ ایک کھنڈر میں مل گیا، تو لوگوںنے لا کر ان کے سامنے رکھ دیا۔ عبید اللہ کہتے ہیں میں بھی اس معاملہ کو دیکھ رہا تھا (وہاں موجود تھا) اور ان کے بارے میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بات کو سنا تھا۔ یو نس کی روایت میں ہے۔ بکیر نے کہا مجھے ایک آدمی نے ابن حنین کے واسطے سے بتایا۔ اس نے کہا میں نے اس سیاہ آدمی کو دیکھا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2468]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1066
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں