صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
35. باب النهي عن صوم الدهر لمن تضرر به او فوت به حقا او لم يفطر العيدين والتشريق وبيان تفضيل صوم يوم وإفطار يوم:
باب: صوم دھر یہاں تک کہ عیدین اور ایام تشریق میں بھی روزہ رکھنے کی ممانعت اور صوم داؤدی یعنی ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن روزہ نہ رکھنے کی فضلیت کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1159 ترقیم شاملہ: -- 2730
وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ابْنُ الرُّومِيُّ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ حَتَّى نَأْتِيَ أَبَا سَلَمَةَ ، فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهِ رَسُولًا فَخَرَجَ عَلَيْنَا، وَإِذَا عِنْدَ بَابِ دَارِهِ مَسْجِدٌ، قَالَ: فَكُنَّا فِي الْمَسْجِدِ حَتَّى خَرَجَ إِلَيْنَا، فَقَالَ: إِنْ تَشَاءُوا أَنْ تَدْخُلُوا وَإِنْ تَشَاءُوا أَنْ تَقْعُدُوا هَا هُنَا، قَالَ: فَقُلْنَا: لَا بَلْ نَقْعُدُ هَا هُنَا، فَحَدِّثْنَا، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كُنْتُ أَصُومُ الدَّهْرَ وَأَقْرَأُ الْقُرْآنَ كُلَّ لَيْلَةٍ، قَالَ: فَإِمَّا ذُكِرْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِمَّا أَرْسَلَ إِلَيَّ فَأَتَيْتُهُ، فَقَالَ لِي: " أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَصُومُ الدَّهْرَ وَتَقْرَأُ الْقُرْآنَ كُلَّ لَيْلَةٍ "، فَقُلْتُ: بَلَى يَا نَبِيَّ اللَّهِ، وَلَمْ أُرِدْ بِذَلِكَ إِلَّا الْخَيْرَ، قَالَ: " فَإِنَّ بِحَسْبِكَ أَنْ تَصُومَ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ "، قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: " فَإِنَّ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَلِزَوْرِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَلِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا "، قَالَ: " فَصُمْ صَوْمَ دَاوُدَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّهُ كَانَ أَعْبَدَ النَّاسِ "، قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، وَمَا صَوْمُ دَاوُدَ؟، قَالَ: " كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا "، قَالَ: " وَاقْرَأْ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ شَهْرٍ "، قَالَ: قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ: إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ؟، قَالَ: " فَاقْرَأْهُ فِي كُلِّ عِشْرِينَ "، قَالَ " قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ: إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ؟، قَالَ: " فَاقْرَأْهُ فِي كُلِّ عَشْرٍ "، قَالَ: قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ: إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ؟، قَالَ " فَاقْرَأْهُ فِي كُلِّ سَبْعٍ وَلَا تَزِدْ عَلَى ذَلِكَ فَإِنَّ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَلِزَوْرِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَلِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا "، قَالَ: فَشَدَّدْتُ فَشُدِّدَ عَلَيَّ، قَالَ: وَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّكَ لَا تَدْرِي لَعَلَّكَ يَطُولُ بِكَ عُمْرٌ "، قَالَ فَصِرْتُ إِلَى الَّذِي، قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَلَمَّا كَبِرْتُ وَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ قَبِلْتُ رُخْصَةَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،
عکرمہ بن عمار نے کہا: ہمیں یحییٰ نے حدیث سنائی، کہا: میں اور عبداللہ بن یزید حضرت ابوسلمہ کے پاس حاضری کے لیے (اپنے گھروں سے) روانہ ہوئے۔ ہم نے ایک پیغام لے جانے والا آدمی ان کے پاس بھیجا تو وہ بھی ہمارے لیے باہر نکل آئے۔ وہاں ان کے گھر کے دروازے کے پاس ایک مسجد تھی، کہا: ہم مسجد میں رہے یہاں تک کہ وہ بھی ہمارے پاس آ گئے۔ انہوں نے کہا: اگر تم چاہو تو (گھر میں) داخل ہو جاؤ۔ اور اگر چاہو تو یہیں (مسجد میں) بیٹھ جاؤ۔ کہا: ہم نے کہا: نہیں، ہم یہیں بیٹھیں گے، آپ ہمیں احادیث سنائیں۔ انہوں نے کہا: مجھے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے حدیث سنائی، کہا: میں مسلسل روزے رکھتا تھا اور ہر رات (قیام میں پورے) قرآن کی قراءت کرتا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے میرا ذکر کیا گیا (اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے) یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پیغام بھیجا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”کیا مجھے نہیں بتایا گیا کہ تم ہمیشہ (ہر روز) روزہ رکھتے ہو اور ہر رات (پورا) قرآن پڑھتے ہو؟“ میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی کریم! کیوں نہیں (یہ بات درست ہے) اور ایسا کرنے میں میرے پیش نظر بھلائی کے سوا کچھ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ تم ہر مہینے میں تین دن روزے رکھو۔“ میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! میں اس سے افضل عمل کرنے کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم پر تمہاری بیوی کا حق ہے، تم پر تمہارے مہمانوں کا حق ہے، اور تم پر تمہارے جسم کا حق ہے۔“ (آخر میں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے نبی داود علیہ السلام کے روزوں کی طرح روزے رکھو، وہ سب لوگوں سے بڑھ کر عبادت گزار تھے۔“ کہا: میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! داود علیہ السلام کا روزہ کیا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے۔“ فرمایا: ”قرآن کی قراءت ایک ماہ میں (مکمل) کرو۔“ کہا: میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! میں اس سے افضل عمل کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے ہر بیس دن میں پڑھ لیا کرو۔“ کہا: میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! میں اس سے افضل عمل کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے ہر دس دن میں پڑھ لیا کرو۔“ کہا: میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! میں اس سے افضل عمل کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے ہر سات دن میں پڑھ لیا کرو۔ اس سے زیادہ نہ کرو، تم پر تمہاری بیوی کا حق ہے، تم پر تمہارے مہمانوں کا حق ہے، اور تم پر تمہارے جسم کا حق ہے۔“ کہا: میں نے (اپنے اوپر) سختی کی تو مجھ پر سختی کی گئی۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”تم نہیں جانتے شاید تمہاری عمر طویل ہو۔“ کہا: میں اسی کی طرف آ گیا جو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا تھا، جب میں بوڑھا ہو گیا تو میں نے پسند کیا (اور تمنا کی) کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رخصت قبول کر لی ہوتی۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2730]
یحییٰ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، میں اور عبداللہ بن یزید دونوں ابوسلمہ کے پاس گئے اور ایک آدمی ان کے پاس بھیجا، پس وہ گھر سے نکلے اور ان کے دروازے پر ایک مسجد تھی، جب وہ نکلے تو ہم سب مسجد میں تھے، انہوں نے کہا: ”چاہو گھر چلو، چاہو یہاں بیٹھو۔“ ہم نے کہا: ”یہیں بیٹھیں گے اور آپ ہم سے حدیثیں بیان فرمائیے“، انہوں نے کہا: روایت کی مجھ سے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے کہ ”میں ہمیشہ روزے رکھتا تھا اور ہر شب قرآن پڑھتا تھا (یعنی ساری رات)“ اور کہا: یا تو میرا ذکر آیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو بلا بھیجا، غرض میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم کو کیا خبر نہیں لگی ہے کہ تم ہمیشہ روزے رکھتے ہو اور ساری رات قرآن پڑھتے ہو؟“ میں نے عرض کیا: ”ہاں یا رسول اللہ! اور میں اس سے بھلائی چاہتا ہوں (یعنی ریا و سمعہ مقصود نہیں)۔“ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کو اتنا کافی ہے کہ ہر ماہ میں تین دن روزے رکھ لیا کرو۔“ میں نے عرض کیا: ”اے نبی اللہ کے! میں اس سے زیادہ طاقت رکھتا ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری بیوی کا حق ہے تم پر اور تمہارے ملاقاتیوں کا حق ہے تم پر اور تمہارے جسم کا بھی حق ہے تم پر، تو اس لیے تم داؤد علیہ السلام کا روزہ اختیار کرو جو اللہ تعالیٰ کے نبی تھے اور سب لوگوں سے زیادہ اللہ کی عبادت کرنے والے تھے۔“ انہوں نے کہا: میں نے عرض کیا کہ ”اے نبی اللہ تعالیٰ کے! داؤد علیہ السلام کا روزہ کیا تھا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہ وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قرآن ہر ماہ میں ایک بار ختم کیا کرو۔“ میں نے عرض کیا کہ ”میں اس سے زیادہ طاقت رکھتا ہوں، اے نبی اللہ تعالیٰ کے!“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیس روز میں ختم کیا کرو۔“ میں نے عرض کیا کہ ”اے نبی اللہ تعالیٰ کے! میں اس سے زیادہ طاقت رکھتا ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دس روز میں ختم کرو۔“ میں نے عرض کی: ”اے نبی اللہ تعالیٰ کے! میں اس سے زیادہ طاقت رکھتا ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سات روز میں ختم کیا کرو اور اس سے زیادہ نہ پڑھو (اس لیے کہ اس سے کم میں تدبر اور تفکرِ قرآن ممکن نہیں) اس لیے کہ تمہاری بیوی کا حق بھی ہے تم پر اور تمہارے ملاقاتیوں کا حق ہے تم پر اور تمہارے بدن کا حق ہے تم پر۔“ انہوں نے کہا: پس میں نے تشدد کیا سو میرے اوپر تشدد ہوا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”تم نہیں جانتے شاید تمہاری عمر دراز ہو۔“ (تو اتنا بار تم پر گراں ہو گا اور امورِ دین میں خلل آئے گا، سبحان اللہ! یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفقت اور انجام بینی تھی اور آخر وہی ہوا)۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر میں اسی حال کو پہنچا جس کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ذکر کیا تھا اور جب میں بوڑھا ہوا تو میں نے آرزو کی کہ کاش میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رخصت قبول کر لی ہوتی۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2730]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1159
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
6277
| لا صوم فوق صوم داود شطر الدهر صيام يوم وإفطار يوم |
صحيح البخاري |
5052
| صم أفضل الصوم صوم داود صيام يوم وإفطار يوم اقرأ في كل سبع ليال مرة |
صحيح البخاري |
3418
| صم وأفطر قم ونم صم من الشهر ثلاثة أيام الحسنة بعشر أمثالها ذلك مثل صيام الدهر صم يوما وأفطر يوما ذلك صيام داود وهو أعدل الصيام |
صحيح البخاري |
3419
| صوم داود يصوم يوما ويفطر يوما لا يفر إذا لاقى |
صحيح البخاري |
3420
| أحب الصيام إلى الله صيام داود يصوم يوما ويفطر يوما أحب الصلاة إلى الله صلاة داود ينام نصف الليل ويقوم ثلثه وينام سدسه |
صحيح البخاري |
1980
| لا صوم فوق صوم داود شطر الدهر صم يوما وأفطر يوما |
صحيح البخاري |
1978
| صم من الشهر ثلاثة أيام صم يوما وأفطر يوما اقرإ القرآن في كل شهر في ثلاث |
صحيح البخاري |
1979
| يصوم يوما ويفطر يوما لا يفر إذا لاقى |
صحيح البخاري |
1976
| صم وأفطر قم ونم صم من الشهر ثلاثة أيام الحسنة بعشر أمثالها مثل صيام الدهر |
صحيح مسلم |
2739
| أحب الصيام إلى الله صيام داود أحب الصلاة إلى الله صلاة داود ينام نصف الليل ويقوم ثلثه وينام سدسه وكان يصوم يوما ويفطر يوما |
صحيح مسلم |
2741
| لا صوم فوق صوم داود شطر الدهر صيام يوم وإفطار يوم |
صحيح مسلم |
2742
| صم أفضل الصيام عند الله صوم داود يصوم يوما ويفطر يوما |
صحيح مسلم |
2736
| لا صام من صام الأبد صوم ثلاثة أيام من الشهر صوم الشهر كله صم صوم داود يصوم يوما ويفطر يوما لا يفر إذا لاقى |
صحيح مسلم |
2729
| صم وأفطر نم وقم صم من الشهر ثلاثة أيام الحسنة بعشر أمثالها مثل صيام الدهر صم يوما وأفطر يوما ذلك صيام داود وهو أعدل الصيام |
صحيح مسلم |
2740
| أحب الصيام إلى الله صيام داود يصوم نصف الدهر أحب الصلاة إلى الله صلاة داود يرقد شطر الليل ثم يقوم ثم يرقد آخره يقوم ثلث الليل بعد شطره |
صحيح مسلم |
2730
| تصوم من كل شهر ثلاثة أيام لزوجك عليك حقا لزورك عليك حقا لجسدك عليك حقا صم صوم داود نبي الله |
جامع الترمذي |
770
| أفضل الصوم صوم أخي داود يصوم يوما ويفطر يوما لا يفر إذا لاقى |
سنن أبي داود |
1389
| صم من كل شهر ثلاثة أيام اقرأ القرآن في شهر صم يوما وأفطر يوما |
سنن أبي داود |
2448
| أحب الصيام إلى الله صيام داود أحب الصلاة إلى الله صلاة داود ينام نصفه ويقوم ثلثه وينام سدسه وكان يفطر يوما ويصوم يوما |
سنن أبي داود |
2427
| صم يوما وأفطر يوما هو أعدل الصيام وهو صيام داود |
سنن النسائى الصغرى |
2346
| أحب الصيام إلى الله صيام داود يصوم يوما ويفطر يوما أحب الصلاة إلى الله صلاة داود ينام نصف الليل ويقوم ثلثه وينام سدسه |
سنن النسائى الصغرى |
2396
| صم أفضل الصيام عند الله صوم داود |
سنن النسائى الصغرى |
2379
| من صام الأبد فلا صام ولا أفطر |
سنن النسائى الصغرى |
2395
| صم من كل شهر ثلاثة أيام صم من الجمعة يومين الاثنين والخميس صم صيام داود فإنه أعدل الصيام |
سنن النسائى الصغرى |
2397
| صم من كل عشرة أيام يوما ولك أجر تلك التسعة فقلت إني أقوى من ذلك قال صم من كل تسعة أيام يوما ولك أجر تلك الثمانية قلت إني أقوى من ذلك قال فصم من كل ثمانية أيام يوما ولك أجر تلك السبعة قلت إني أقوى من ذلك قال فلم يزل حتى قال صم يوما وأفطر يوما |
سنن النسائى الصغرى |
2399
| لا صام من صام الأبد أدلك على صوم الدهر ثلاثة أيام من الشهر صم صوم داود يصوم يوما ويفطر يوما |
سنن النسائى الصغرى |
2401
| لا صام من صام الأبد صوم الدهر ثلاثة أيام من الشهر صوم الدهر كله صم صوم داود يصوم يوما ويفطر يوما لا يفر إذا لاقى |
سنن النسائى الصغرى |
1631
| أحب الصيام إلى الله صيام داود يصوم يوما ويفطر يوما أحب الصلاة إلى الله صلاة داود ينام نصف الليل ويقوم ثلثه وينام سدسه |
سنن النسائى الصغرى |
2404
| لا صوم فوق صوم داود شطر الدهر صيام يوم وفطر يوم |
سنن النسائى الصغرى |
2391
| صم أفضل الصيام صيام داود صم يوم وفطر يوم |
سنن النسائى الصغرى |
2390
| أفضل الصيام صيام داود يصوم يوما ويفطر يوما |
سنن النسائى الصغرى |
2394
| صم وأفطر نم وقم صم من الشهر ثلاثة أيام الحسنة بعشر أمثالها ذلك مثل صيام الدهر صم يوما وأفطر يوما ذلك صيام داود وهو أعدل الصيام |
سنن النسائى الصغرى |
2393
| ألم أخبر أنك تقوم الليل وتصوم النهار |
سنن النسائى الصغرى |
2392
| صم صوم داود صم يوما وأفطر يوما اقرأ القرآن في كل شهر ثم انتهى إلى خمس عشرة وأنا أقول أنا أقوى من ذلك |
سنن ابن ماجه |
1712
| أحب الصيام إلى الله صيام داود يصوم يوما ويفطر يوما أحب الصلاة إلى الله صلاة داود ينام نصف الليل ويصلي ثلثه وينام سدسه |
سنن ابن ماجه |
1706
| لا صام من صام الأبد |
Sahih Muslim Hadith 2730 in Urdu
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← عبد الله بن عمرو السهمي