صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
8. باب تحريم الصيد الماكول البري ، وما اصله ذٰلك علي المحرم بحج او عمرة او بهما
باب: حج یا عمرہ یا ان دونوں کا احرام باندھنے والے پر خشکی کا شکار کرنے کی حرمت کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1196 ترقیم شاملہ: -- 2855
حَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجًّا وَخَرَجْنَا مَعَهُ، قَالَ: فَصَرَفَ مِنْ أَصْحَابِهِ فِيهِمْ أَبُو قَتَادَةَ، فَقَالَ: " خُذُوا سَاحِلَ الْبَحْرِ حَتَّى تَلْقَوْنِي "، قَالَ: فَأَخَذُوا سَاحِلَ الْبَحْرِ فَلَمَّا انْصَرَفُوا قِبَلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْرَمُوا كُلُّهُمْ، إِلَّا أَبَا قَتَادَةَ فَإِنَّهُ لَمْ يُحْرِمْ، فَبَيْنَمَا هُمْ يَسِيرُونَ إِذْ رَأَوْا حُمُرَ وَحْشٍ، فَحَمَلَ عَلَيْهَا أَبُو قَتَادَةَ فَعَقَرَ مِنْهَا أَتَانًا، فَنَزَلُوا فَأَكَلُوا مِنْ لَحْمِهَا، قَالَ: فَقَالُوا: أَكَلْنَا لَحْمًا وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ، قَالَ: فَحَمَلُوا مَا بَقِيَ مِنْ لَحْمِ الْأَتَانِ، فَلَمَّا أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا أَحْرَمْنَا وَكَانَ أَبُو قَتَادَةَ لَمْ يُحْرِمْ فَرَأَيْنَا حُمُرَ وَحْشٍ فَحَمَلَ عَلَيْهَا أَبُو قَتَادَةَ فَعَقَرَ مِنْهَا أَتَانًا، فَنَزَلْنَا فَأَكَلْنَا مِنْ لَحْمِهَا، فَقُلْنَا نَأْكُلُ لَحْمَ صَيْدٍ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ، فَحَمَلْنَا مَا بَقِيَ مِنْ لَحْمِهَا، فَقَالَ: " هَلْ مِنْكُمْ أَحَدٌ أَمَرَهُ أَوْ أَشَارَ إِلَيْهِ بِشَيْءٍ؟، قَالَ: قَالُوا: لَا، قَالَ: " فَكُلُوا مَا بَقِيَ مِنْ لَحْمِهَا "،
عثمان بن عبداللہ بن موہب نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حج کے لیے نکلے۔ ہم بھی آپ کے ساتھ نکلے، کہا آپ نے اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں کچھ لوگوں کو جن میں ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے ہٹا (کر ایک سمت بھیج دیا اور فرمایا: ”ساحل سمندر لے کر چلو حتیٰ کہ مجھ سے آملو۔“ کہا: انہوں نے ساحل سمندر کا راستہ اختیار کیا۔ جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رخ کیا تو ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ سب نے احرام باندھ لیا (بس) انہوں نے احرام نہیں باندھا تھا۔ اسی اثنا میں جب وہ چل رہے تھے انہوں نے زیبرے دیکھے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے ان پر حملہ کر دیا اور ان میں سے ایک مادہ زیبرا کو گرا لیا۔ وہ (لوگ) اترے اور اس کا گوشت تناول کیا۔ کہا وہ (صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین) کہنے لگے: ہم نے (تو شکار کا گوشت کھا لیا جبکہ ہم احرام کی حالت میں ہیں۔ (راوی نے) کہا: انہوں نے مادہ زیبرے کا بچا ہوا گوشت اٹھا لیا (اور چل پڑے) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے کہنے لگے: ہم سب نے احرام باندھ لیا تھا جبکہ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے ان پر حملہ کر دیا اور ان میں سے ایک مادہ زیبرا مار لیا۔ پس ہم اترے اور اس کا گوشت کھایا۔ بعد میں ہم نے کہا: ہم احرام باندھے ہوئے ہیں اور شکار کا گوشت کھا رہے ہیں! پھر ہم نے اس کا باقی گوشت اٹھایا (اور آگئے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم میں سے کسی نے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے (شکار کرنے کو) کہا تھا؟ یا کسی چیز سے اس (شکار) کی طرف اشارہ کیا تھا؟“ انہوں نے کہا نہیں آپ نے فرمایا: ”اس کا باقی گوشت بھی تم کھا لو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2855]
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے قصد و ارادہ سے نکلے اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کچھ ساتھیوں کو جن میں ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تھے، ایک طرف بھیج دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ساحل سمندر کے ساتھ ساتھ چلو حتی کہ مجھ سے آ ملو۔ ”انہوں نے ساحل سمندر کا راستہ اختیار کیا، جب وہ سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پھرے تو ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سوا سب نے احرام باندھ لیا، انہوں نے احرام نہ باندھا، چلتے چلتے انہوں نے جنگلی گدھے دیکھے، ابو قتادہ رضی اللہ تالیٰ عنہ نے ان پر حملہ کیا اور ان میں سے ایک گدھی کی کونچیں کاٹ ڈالیں، ساتھیوں نے پڑاؤ کیا اور اس کا گوشت کھا لیا اور کہنے لگے، ہم نے محرم ہونے کے باوجود گوشت کھا لیا، ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں تو انہوں نے گدھی کا باقی ماندہ گوشت اٹھا لیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو کہنے لگے، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم محرم تھے اور ابو قتادہ رضی اللہ عنہ محرم نہ تھے اور ہم نے جنگلی گدھے دیکھے، ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے ان پر حملہ کر دیا ارو ان میں سے ایک گدھے کا شکار کر لیا، ہم نے پڑاؤ کیا اور اس میں سے گوشت کھا لیا، پھر ہم نے کہا، ہم شکار کا گوشت کھا رہے ہیں، حالانکہ ہم محرم ہیں تو ہم نے اس کا بقایا گوشت ساتھ لے لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم میں سے کسی نے اس کو مشورہ دیا تھا یا کسی قسم کا اس کی طرف اشارہ کیا تھا؟“ انہوں نے جواب دیا، نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا باقی ماندہ گوشت بھی کھا لو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2855]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1196
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
2854
| رأوا حمارا وحشيا قبل أن يراه فلما رأوه تركوه حتى رآه أبو قتادة فركب فرسا له يقال له الجرادة فسألهم أن يناولوه سوطه فأبوا فتناوله فحمل فعقره ثم أكل فأكلوا فندموا فلما أدركوه قال هل معكم منه شيء ق |
صحيح البخاري |
2914
| رأى حمارا وحشيا فاستوى على فرسه فسأل أصحابه أن يناولوه سوطه فأبوا فسألهم رمحه فأبوا فأخذه ثم شد على الحمار فقتله فأكل منه بعض أصحاب النبي وأبى بعض فلما أدركوا رسول الله سألوه عن ذلك قال إنما هي طعمة أطعمكموها الله |
صحيح البخاري |
5407
| معكم منه شيء فناولته العضد فأكلها حتى تعرقها وهو محرم |
صحيح البخاري |
1823
| كلوه حلال |
صحيح البخاري |
1822
| اصدنا حمار وحش وإن عندنا فاضلة فقال رسول الله لأصحابه كلوا وهم محرمون |
صحيح مسلم |
2851
| نظرت فإذا حمار وحش فأسرجت فرسي وأخذت رمحي ثم ركبت فسقط مني سوطي فقلت لأصحابي وكانوا محرمين ناولوني السوط فقالوا والله لا نعينك عليه بشيء فنزلت فتناولته ثم ركبت فأدركت الحمار من خلفه وهو وراء أكمة فطعنته برمحي فعقرته فأتيت به أصحابي فقال بعضهم كلوه وقال بع |
صحيح مسلم |
2855
| خذوا ساحل البحر حتى تلقوني قال فأخذوا ساحل البحر فلما انصرفوا قبل رسول الله أحرموا كلهم إلا أبا قتادة فإنه لم يحرم فبينما هم يسيرون إذ رأوا حمر وحش فحمل عليها أبو قتادة فعقر منها أتانا فنزلوا فأكلوا من لحمها قال فقالوا أكلنا لحما |
سنن النسائى الصغرى |
4350
| هل معكم منه شيء قلنا نعم قال فاهدوا لنا فأتيناه منه فأكل منه وهو محرم |
سنن النسائى الصغرى |
2828
| كلوه وهم محرمون |
سنن النسائى الصغرى |
2827
| كلوا وهم محرمون |
موطا امام مالك رواية ابن القاسم |
311
| إنما هي طعمة اطعمكموها الله |
بلوغ المرام |
599
| فكلوا ما بقي من لحمه |
عبد الله بن أبي قتادة الأنصاري ← الحارث بن ربعي السلمي