🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

8. باب تَحْرِيمِ الصَّيْدِ الْمَأُكُولِ الْبَرِّيِّ، وَمَا أَصْلُهُ ذٰلِكَ عَلَي الْمُحْرِمِ بِحَجُ أَوُ عمْرَةٍ أَوْ بِهِمَا
باب: حج یا عمرہ یا ان دونوں کا احرام باندھنے والے پر خشکی کا شکار کرنے کی حرمت کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1193 ترقیم شاملہ: -- 2845
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ اللَّيْثِيِّ ، أَنَّهُ أَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارًا وَحْشِيًّا وَهُوَ بِالْأَبْوَاءِ أَوْ بِوَدَّانَ، فَرَدَّهُ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَلَمَّا أَنْ رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا فِي وَجْهِي، قَالَ: " إِنَّا لَمْ نَرُدَّهُ عَلَيْكَ، إِلَّا أَنَّا حُرُمٌ "،
مالک نے ابن شہاب سے انہوں نے عبید اللہ بن عبداللہ سے انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے انہوں نے صعب بن جثامہ لیثی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے آپ کو ایک زیبرا ہدیہ پیش کیا آپ ابواء یا ودان مقام پر تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کر دیا (انہوں نے) کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے چہرے کی کیفیت دیکھی تو فرمایا: بلاشبہ ہم نے تمہارا ہدیہ رد نہیں کیا لیکن ہم حالت احرام میں ہیں (اس لیے اسے نہیں کھا سکتے)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2845]
حضرت صعب بن جثامہ لیثی رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جنگلی گدھا پیش کیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقام ابواء یا ودان میں تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کر دیا، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے چہرے کی کیفیت (ملال) کو دیکھا تو فرمایا: ہم نے صرف اس بنا پر اسے تجھے واپس کیا ہے کہ ہم محرم ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2845]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1193
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1193 ترقیم شاملہ: -- 2846
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، وَقُتَيْبَةُ جميعا، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ . ح وحَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ كُلُّهُمْ، عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، أَهْدَيْتُ لَهُ حِمَارَ وَحْشٍ كَمَا قَالَ مَالِكٌ، وَفِي حَدِيثِ اللَّيْثِ، وَصَالِحٍ، أَنَّ الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَةَ أَخْبَرَهُ،
لیث بن سعد، معمر اور ابوصالح ان سب نے زہری سے اسی سند کے ساتھ روایت کی (کہ حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے کہا) میں نے آپ کو ایک زیبرا ہدیہ پیش کیا جس طرح مالک کے الفاظ ہیں اور لیث اور صالح کی روایت میں (یوں) ہے کہ صعب بن جثامہ نے انہیں (ابن عباس رضی اللہ عنہما) خبر دی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2846]
امام صاحب اپنے مختلف اساتذہ سے حضرت صعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں کہ میں نے آپٗ صلی اللہ علیہ وسلم کو جنگلی گدھا پیش کیا، آگے مذکورہ بالا واقعہ ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2846]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1193
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1193 ترقیم شاملہ: -- 2847
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: أَهْدَيْتُ لَهُ مِنْ لَحْمِ حِمَارِ وَحْشٍ.
سفیان بن عیینہ نے زہری سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور کہا: میں نے آپ کو زیبرے کا گوشت ہدیہ پیش کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2847]
امام صاحب اپنے مختلف اساتذہ سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں اور اس میں ہے، میں نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو جنگلی گدھے کا گوشت پیش کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2847]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1193
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1194 ترقیم شاملہ: -- 2848
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: أَهْدَى الصَّعْبُ بْنُ جَثَّامَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارَ وَحْشٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَرَدَّهُ عَلَيْهِ، وَقَالَ: " لَوْلَا أَنَّا مُحْرِمُونَ لَقَبِلْنَاهُ مِنْكَ "،
اعمش نے حبیب بن ابی ثابت سے انہوں نے سعید بن جبیر سے انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدیہ زیبرا پیش کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم احرام میں تھے سو آپ نے اسے لوٹا دیا اور فرمایا: اگر ہم احرام کی حالت میں نہ ہوتے تو ہم اسے تمہاری طرف سے (ضرور) قبول کرتے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2848]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جنگلی گدھا بطور تحفہ پیش کیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم محرم تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کر دیا اور فرمایا: اگر ہم محرم نہ ہوتے تو اسے قبول کر لیتے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2848]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1194
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1194 ترقیم شاملہ: -- 2849
وحَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ مَنْصُورًا يُحَدِّثُ، عَنِ الحكم . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ جَمِيعًا، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي رِوَايَةِ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَكَمِ، أَهْدَى الصَّعْبُ بْنُ جَثَّامَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِجْلَ حِمَارِ وَحْشٍ، وَفِي رِوَايَةِ شُعْبَةَ عَنِ الْحَكَمِ: عَجُزَ حِمَارِ وَحْشٍ يَقْطُرُ دَمًا، وَفِي رِوَايَةِ شُعْبَةَ عَنْ حَبِيبٍ: أُهْدِيَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شِقُّ حِمَارِ وَحْشٍ فَرَدَّهُ.
منصور نے حکم سے اسی طرح شعبہ نے حکم کے واسطے سے اور واسطے کے بغیر (براہ راست) بھی حبیب سے انہوں نے سعید بن جبیر سے اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ حکم سے منصور کی روایت کے الفاظ ہیں کہ صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو زیبرے کی ران ہدیہ پیش کی۔ حکم سے شعبہ کی روایت کے الفاظ ہیں زیبرے کا پچھلا دھڑ پیش کیا جس سے خون ٹپک رہا تھا۔ اور حبیب سے شعبہ کی روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو زیبرے کا (ایک جانب کا) آدھا حصہ ہدیہ کیا گیا تو آپ نے اسے واپس کر دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2849]
امام صاحب مذکورہ بالا روایت اپنے مختلف اساتذہ سے پیش کرتے ہیں، حکم سے منصور بیان کرتے ہیں کہ صعب بن جثامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جنگلی گدھے کی ٹانگ تحفتا پیش کی اور شعبہ کہتے ہیں، جنگلی گدھے کا عَجُز (پچھلا دھڑ) پیش کیا، جس سے خون بہہ رہا تھا اور شعبہ دوسرے استاد حبیب سے نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جنگلی گدھے کا آدھا یا ایک پہلو پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رد کر دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2849]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1194
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1195 ترقیم شاملہ: -- 2850
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَدِمَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ يَسْتَذْكِرُهُ: كَيْفَ أَخْبَرْتَنِي عَنْ لَحْمِ صَيْدٍ أُهْدِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ حَرَامٌ؟، قَالَ: قَالَ: أُهْدِيَ لَهُ عُضْوٌ مِنْ لَحْمِ صَيْدٍ فَرَدَّهُ، فَقَالَ: " إِنَّا لَا نَأْكُلُهُ إِنَّا حُرُمٌ ".
طاوس نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہا: (ایک بار) زید بن ارقم رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں یاد کراتے ہوئے کہا: آپ نے مجھے اس شکار کے گوشت کے متعلق کس طرح بتایا تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرام کی حالت میں ہدیہ پیش کیا گیا تھا؟ (طاوس نے) کہا (زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے) بتایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شکار کے گوشت کا ایک ٹکڑا پیش کیا گیا تو آپ نے اسے واپس کر دیا اور فرمایا: ہم اسے نہیں کھا سکتے (کیونکہ) ہم احرام میں ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2850]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لائے تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے یاد داشت کے لیے پوچھا، آپ نے مجھے شکار کے اس گوشت کے بارے میں کیا بتایا تھا، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو محرم ہونے کی حالت میں ہدیۃ پیش کیا گیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گوشت کا ایک ٹکڑا یا ایک عضو ہدیۃ پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رد کر دیا اور فرمایا: ہم اسے کھا نہیں سکتے کیونکہ ہم محرم ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2850]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1195
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1196 ترقیم شاملہ: -- 2851
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا مُحَمَّدٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا قَتَادَةَ ، يَقُولُ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْقَاحَةِ فَمِنَّا الْمُحْرِمُ وَمِنَّا غَيْرُ الْمُحْرِمِ، إِذْ بَصُرْتُ بِأَصْحَابِي يَتَرَاءَوْنَ شَيْئًا، فَنَظَرْتُ فَإِذَا حِمَارُ وَحْشٍ، فَأَسْرَجْتُ فَرَسِي وَأَخَذْتُ رُمْحِي، ثُمَّ رَكِبْتُ فَسَقَطَ مِنِّي سَوْطِي، فَقُلْتُ لِأَصْحَابِي وَكَانُوا مُحْرِمِينَ: نَاوِلُونِي السَّوْطَ، فَقَالُوا: وَاللَّهِ لَا نُعِينُكَ عَلَيْهِ بِشَيْءٍ، فَنَزَلْتُ فَتَنَاوَلْتُهُ، ثُمَّ رَكِبْتُ فَأَدْرَكْتُ الْحِمَارَ مِنْ خَلْفِهِ، وَهُوَ وَرَاءَ أَكَمَةٍ، فَطَعَنْتُهُ بِرُمْحِي فَعَقَرْتُهُ، فَأَتَيْتُ بِهِ أَصْحَابِي، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: كُلُوهُ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا تَأْكُلُوهُ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَامَنَا، فَحَرَّكْتُ فَرَسِي فَأَدْرَكْتُهُ، فَقَالَ: " هُوَ حَلَالٌ فَكُلُوهُ ".
صالح بن کیسان نے کہا: میں نے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے مولیٰ ابومحمد سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ میں ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے حتیٰ کہ جب ہم (مدینہ سے تین منزل دور وادی) قاحہ میں تھے تو ہم میں سے بعض احرام کی حالت میں تھے اور کوئی بغیر احرام کے تھا۔ اچانک میری نگاہ اپنے ساتھیوں پر پڑی تو وہ ایک دوسرے کو کچھ دکھا رہے تھے میں نے دیکھا تو ایک زیبرا تھا میں نے (فوراً) اپنے گھوڑے پر زین کسا اپنا نیزہ تھاما اور سوار ہو گیا۔ (جلدی میں) مجھ سے میرا کوڑا گر گیا میں نے اپنے ساتھیوں سے جو احرام باندھے ہوئے تھے کہا: مجھے کوڑا پکڑا دو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم اس (شکار) میں تمہاری کوئی مدد نہیں کریں گے۔ بالآخر میں اترا اسے پکڑا۔ پھر سوار ہوا اور زیبرے کو اس کے پیچھے سے جا لیا اور وہ ایک ٹیلے کے پیچھے تھا۔ میں نے اسے اپنے نیزے کا نشانہ بنایا اور اسے گرا لیا۔ پھر میں اسے ساتھیوں کے پاس لے آیا۔ ان میں سے کچھ نے کہا: اسے کھا لو اور کچھ نے کہا: اسے مت کھانا نبی صلی اللہ علیہ وسلم (کچھ فاصلے پر) ہم سے آگے تھے۔ میں نے اپنے گھوڑے کو حرکت دی اور آپ کے پاس پہنچ گیا (اور اس کے بارے میں پوچھا) آپ نے فرمایا: وہ حلال ہے اسے کھا لو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2851]
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، حتی کہ جب ہم قاحہ مقام پر پہنچے ہم میں سے بعض محرم تھے، بعض غیر محرم تھے، اچانک میں نے اپنے ساتھیوں کو دیکھا، وہ ایک دوسرے کو کوئی چیز دکھا رہے ہیں، میں نے دیکھا تو وہ جنگلی گدھا تھا، میں نے اپنے گھوڑے پر کاٹھی ڈالی اور اپنا نیزہ لے کر میں سوار ہو گیا تو مجھ سے میرا کوڑا گر گیا، میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا اور وہ سب محرم تھے، مجھے میرا کوڑا پکڑا دو، انہوں نے جواب دیا، اللہ کی قسم! شکار کے سلسلہ میں ہم تمہاری کسی قسم کی مدد نہیں کریں گے تو اتر کر میں نے اپنا کوڑا اٹھایا اور پھر سوار ہو گیا اور میں نے پیچھے سے جنگلی گدھے کو جا لیا اور وہ ایک ٹیلے کے پیچھے تھا، میں نے اسے نیزے کا نشانہ بنایا اور اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں (اسے شکار کر لیا) اور اسے لے کر اپنے ساتھیوں کے پاس آ گیا، بعض کہنے لگے اسے کھا لو اور بعض نے کہا نہ کھاؤ اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے آگے تھے، میں نے اپنے گھوڑے کو ایڑ لگائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جا ملا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ حلال ہے، اسے کھا لو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2851]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1196
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1196 ترقیم شاملہ: -- 2852
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، عَنْ مَالِكٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِبَعْضِ طَرِيقِ مَكَّةَ، تَخَلَّفَ مَعَ أَصْحَابٍ لَهُ مُحْرِمِينَ وَهُوَ غَيْرُ مُحْرِمٍ، فَرَأَى حِمَارًا وَحْشِيًّا فَاسْتَوَى عَلَى فَرَسِهِ، فَسَأَلَ أَصْحَابَهُ أَنْ يُنَاوِلُوهُ سَوْطَهُ فَأَبَوْا عَلَيْهِ، فَسَأَلَهُمْ رُمْحَهُ فَأَبَوْا عَلَيْهِ فَأَخَذَهُ، ثُمَّ شَدَّ عَلَى الْحِمَارِ فَقَتَلَهُ، فَأَكَلَ مِنْهُ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَى بَعْضُهُمْ، فَأَدْرَكُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: " إِنَّمَا هِيَ طُعْمَةٌ أَطْعَمَكُمُوهَا اللَّهُ "،
ابونضر نے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے مولیٰ نافع سے انہوں نے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ وہ (عمرہ حدیبیہ میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے حتیٰ کہ جب وہ مکہ کے راستے کے ایک حصے میں تھے، وہ اپنے چند احرام والے ساتھیوں کی معیت میں پیچھے رہ گئے وہ خود احرام کے بغیر تھے۔ تو (اچانک) انہوں نے زیبرا دیکھا وہ اپنے گھوڑے کی پشت پر سیدھے ہوئے اور اپنے ساتھیوں سے اپنا کوڑا پکڑانے کو کہا انہوں نے انکار کر دیا پھر ان سے اپنا نیزہ مانگا (کہ ان کو ہاتھ میں تھما دیں) انہوں نے (اس سے بھی) انکار کر دیا۔ انہوں نے خود ہی نیزہ اٹھایا پھر زیبرے پر حملہ کر کے اسے مار لیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض ساتھیوں نے اس میں سے کھایا اور بعض نے (کھانے سے) انکار کر دیا۔ جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو آپ سے اس (شکار) کے بارے میں پوچھا: آپ نے فرمایا: یہ کھانا ہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں کھلایا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2852]
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، حتی کہ جب مکہ کا کچھ راستہ طے کر لیا تو وہ اپنے کچھ محرم ساتھیوں کے ساتھ پیچھے رہ گئے، جبکہ وہ خود محرم نہیں تھے تو انہوں نے ایک جنگلی گدھا دیکھا اور اپنے گھوڑے پر سوار ہو گئے اور اپنے ساتھیوں سے درخواست کی کہ اسے اس کا چابک پکڑا دیں، انہوں نے اس سے انکار کر دیا، انہوں نے ان سے اپنا نیزہ مانگا، اس سے بھی انہوں نے انکار کر دیا، انہوں نے اسے خود ہی لیا پھر گدھے پر حملہ کر کے اسے قتل کر ڈالا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ ساتھیوں نے اس سے کھا لیا اور کچھ نے (کھانے سے) انکار کر دیا، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جا ملے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ رزق ہے جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں عنایت فرمایا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2852]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1196
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1196 ترقیم شاملہ: -- 2853
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي حِمَارِ الْوَحْشِ، مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي النَّضْرِ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " هَلْ مَعَكُمْ مِنْ لَحْمِهِ شَيْءٌ ".
زید بن اسلم نے عطاء بن یسار سے انہوں نے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے ابونضر کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی البتہ زید بن اسلم کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے پاس اس کے گوشت میں سے کچھ باقی ہے؟ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2853]
مصنف یہی روایت جنگلی گدھے کے بارے میں، زید بن اسلم سے ابو نضر کی مذکورہ بالا روایت کی طرح بیان کرتے ہیں، صرف اتنا فرق ہے کہ زید بن اسلم بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تمہارے پاس اس کا کچھ گوشت ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2853]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1196
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1196 ترقیم شاملہ: -- 2854
وحَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مِسْمَارٍ السُّلَمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ: انْطَلَقَ أَبِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ، فَأَحْرَمَ أَصْحَابُهُ وَلَمْ يُحْرِمْ، وَحُدِّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ عَدُوًّا بِغَيْقَةَ فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَبَيْنَمَا أَنَا مَعَ أَصْحَابِهِ يَضْحَكُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، إِذْ نَظَرْتُ فَإِذَا أَنَا بِحِمَارِ وَحْشٍ فَحَمَلْتُ عَلَيْهِ فَطَعَنْتُهُ فَأَثْبَتُّهُ، فَاسْتَعَنْتُهُمْ فَأَبَوْا أَنْ يُعِينُونِي، فَأَكَلْنَا مِنْ لَحْمِهِ وَخَشِينَا أَنْ نُقْتَطَعَ، فَانْطَلَقْتُ أَطْلُبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَرْفَعُ فَرَسِي شَأْوًا وَأَسِيرُ شَأْوًا، فَلَقِيتُ رَجُلًا مِنْ بَنِي غِفَارٍ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ، فَقُلْتُ: أَيْنَ لَقِيتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: تَرَكْتُهُ بِتَعْهِنَ وَهُوَ قَائِلٌ السُّقْيَا، فَلَحِقْتُهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَصْحَابَكَ يَقْرَءُونَ عَلَيْكَ السَّلَامَ وَرَحْمَةَ اللَّهِ، وَإِنَّهُمْ قَدْ خَشُوا أَنْ يُقْتَطَعُوا دُونَكَ، انْتَظِرْهُمْ فَانْتَظَرَهُمْ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَدْتُ وَمَعِي مِنْهُ فَاضِلَةٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْقَوْمِ: " كُلُوا "، وَهُمْ مُحْرِمُونَ.
یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت ہے انہوں نے کہا: مجھ سے عبداللہ بن ابی قتادہ نے حدیث بیان کی کہا: میرے والد حدیبیہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے ان کے ساتھیوں نے (عمرے) کا احرام باندھا لیکن انہوں نے نہ باندھا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ غیقہ مقام پر دشمن (گھات میں) ہے (مگر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چل پڑے۔ (ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے) کہا: میں آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ہمراہ تھا وہ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ہنس رہے تھے۔ اتنے میں میں نے دیکھا تو میری نظر زیبرے پر پڑی میں نے اس پر حملہ کر دیا اور اسے نیزہ مار کر بے حرکت کر دیا پھر میں نے ان سے مدد چاہی تو انہوں نے میری مدد کرنے سے انکار کر دیا۔ پھر ہم نے اس کا گوشت تناول کیا۔ اور ہمیں اندیشہ ہوا کہ ہم (آپ سے) کاٹ (کر الگ کر) دیے جائیں گے۔ تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں روانہ ہوا کبھی میں گھوڑے کو بہت تیز دوڑاتا تو کبھی (آرام سے) چلتا آدھی رات کے وقت مجھے بنو غفار کا ایک شخص ملا میں نے اس سے پوچھا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہاں ملے تھے؟ اس نے کہا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تعہن کے مقام پر چھوڑا ہے آپ فرما رہے تھے سُقیا (پہنچو) چنانچہ میں آپ سے جا ملا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین آپ کو سلام عرض کرتے ہیں اور انہیں ڈر ہے کہ انہیں آپ سے کاٹ (کر الگ کر) دیا جائے گا۔ آپ ان کا انتظار فرما لیجیے۔ تو آپ نے (وہاں) ان کا انتظار فرمایا۔ پھر میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں نے شکار کیا تھا اور اس کا بچا ہوا کچھ (حصہ) میرے پاس باقی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا: کھا لو جبکہ وہ سب احرام کی حالت میں تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2854]
حضرت عبداللہ بن ابی قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حدیبیہ والے سال میرے باپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گئے، ان کے ساتھیوں نے احرام باندھا اور انہوں نے احرام نہ باندھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ دشمن غیقہ نامی جگہ میں گھات میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہو گئے، ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں اس دوران میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ تھا، وہ ایک دوسرے کو دیکھ کر ہنس رہے تھے، ناگہاں میں نے دیکھا تو میری نظر ایک جنگلی گدھے پر پڑی، میں نے اس پر حملہ کر دیا اور اسے نیزہ مار کر، اسے حرکت کرنے سے روک دیا، میں نے ان سے مدد مانگی، انہوں نے میری مدد کرنے سے انکار کر دیا، ہم نے اس کا گوشت کھایا اور ہمیں خطرہ محسوس ہوا، ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے الگ کر دیا جائے گا تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں نکلا، کبھی گھوڑے کو دوڑاتا اور کبھی آہستہ چلتا تو آدھی رات میں بنو غفار کے ایک آدمی کو ملا، میں نے پوچھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تیری ملاقات کہاں ہوئی تھی؟ اس نے جواب دیا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تَهِن نامی چشمہ پر چھوڑا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سُقيا مقام پر جا کر قیلولہ فرمائیں گے، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جا ملا اور میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام اور رحمت بھیجتے ہیں اور انہیں خطرہ ہے کہ کہیں دشمن انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے الگ نہ کر ڈالے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کا انتظار فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا انتظار فرمایا، میں نے پوچھا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے شکار کیا ہے اور میرے پاس اس کا کچھ بچا ہوا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے کہا: اسے کھا لو۔ حالانکہ وہ سب محرم تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2854]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1196
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں