🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. باب تحريم الصيد الماكول البري ، وما اصله ذٰلك علي المحرم بحج او عمرة او بهما
باب: حج یا عمرہ یا ان دونوں کا احرام باندھنے والے پر خشکی کا شکار کرنے کی حرمت کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1196 ترقیم شاملہ: -- 2856
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ شَيْبَانَ جَمِيعًا، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ فِي رِوَايَةِ شَيْبَانَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمِنْكُمْ أَحَدٌ أَمَرَهُ أَنْ يَحْمِلَ عَلَيْهَا أَوْ أَشَارَ إِلَيْهَا؟ "، وَفِي رِوَايَةِ شُعْبَةَ: قَالَ: " أَشَرْتُمْ أَوْ أَعَنْتُمْ أَوْ أَصَدْتُمْ "، قَالَ شُعْبَةُ: لَا أَدْرِي، قَالَ: أَعَنْتُمْ أَوْ أَصَدْتُمْ.
شعبہ اور شیبان دونوں نے عثمان بن عبداللہ بن موہب سے اسی سند کے ساتھ روایت کی۔ شیبان کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میں سے کسی نے ان سے کہا تھا کہ وہ اس پر حملہ کریں یا اس کی طرف اشارہ کیا تھا؟ شعبہ کی روایت میں ہے کہ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے) فرمایا: کیا تم لوگوں نے اشارہ کیا یا مدد کی شکار کرایا؟ شعبہ نے کہا: میں نہیں جانتا کہ آپ نے کہا: تم لوگوں نے مدد کی یا کہا: تم لوگوں نے شکار کرایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2856]
امام صاحب یہی روایت دو اور اساتذہ سے بیان کرتے ہیں، شیبان کی روایت میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم میں سے کسی نے اس کو ان پر حملہ کرنے کا مشورہ دیا تھا یا اس کی طرف اشارہ کیا تھا؟،، شعبہ کی روایت میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم نے اشارہ کیا، یا مدد کی، یا شکار کیا؟ (شکار کا مشورہ دیا) شعبہ کہتے ہیں، مجھے پتہ نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اَعَنتُم (تم نے مدد کی) کہا یا اَصَدتُم، تم نے شکار کیا کہا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2856]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1196
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عثمان بن عبد الله التميمي، أبو عبد اللهثقة
👤←👥شيبان بن عبد الرحمن التميمي، أبو معاوية
Newشيبان بن عبد الرحمن التميمي ← عثمان بن عبد الله التميمي
ثقة
👤←👥عبيد الله بن موسى العبسي، أبو محمد
Newعبيد الله بن موسى العبسي ← شيبان بن عبد الرحمن التميمي
ثقة يتشيع
👤←👥القاسم بن دينار القرشي، أبو محمد
Newالقاسم بن دينار القرشي ← عبيد الله بن موسى العبسي
ثقة
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← القاسم بن دينار القرشي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥محمد بن جعفر الهذلي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newمحمد بن جعفر الهذلي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى
Newمحمد بن المثنى العنزي ← محمد بن جعفر الهذلي
ثقة ثبت
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2856 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2856
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:

روایت نمبر60 میں(حَاجًا)
کا لفظ آیا ہے۔
حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ کے لیے نکلے تھے جیسا کہ دوسری روایت میں صراحت موجود ہے اس لیے(حَاجًا)
اپنے لغوی معنی میں ہوگا۔
یعنی بیت اللہ کے قصد اور ارادہ سے نکلے حج کا یہاں اصطلاحی مفہوم مراد نہیں ہے یا بقول امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ یہ لفظ راوی کا وہم ہے۔

اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مدینہ سے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے تھے،
لیکن اس کے باوجود کچھ ساتھیوں نے میقات سے احرام نہیں باندھا تھا۔
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے مسلک کے مطابق اس میں کوئی اشکال نہیں ہے کیونکہ ان کے نزدیک اگرکوئی انسان مکہ مکرمہ حج اور عمرہ کے ارادہ سے نہیں جاتا تو اس کے لیے احرام باندھنا ضروری نہیں ہے لیکن باقی تینوں ائمہ کےنظریہ کے مطابق اس میں اشکال پیش آتا ہے کیونکہ ان کے نزدیک کوئی آدمی میقات سے احرام باندھے بغیر مکہ مکرمہ نہیں جاسکتا۔
اس لیے یہاں تاویل کی ضرورت ہے دوسری روایات کی روشنی میں معنی گویا ابوقتادہ رحمۃ اللہ علیہ کے سوا سب نے پہلے سے احرام باندھا ہوا تھا یہ نہیں ہے کہ انہوں نے اب جب ساحل سمندر سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملے تو احرام باندھ لیا۔
ابوقتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے احرام نہ باندھنے کی وجہ اوپربیان ہوچکی ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2856]

Sahih Muslim Hadith 2856 in Urdu