صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
8. باب تحريم الصيد الماكول البري ، وما اصله ذٰلك علي المحرم بحج او عمرة او بهما
باب: حج یا عمرہ یا ان دونوں کا احرام باندھنے والے پر خشکی کا شکار کرنے کی حرمت کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1196 ترقیم شاملہ: -- 2859
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، وَإِسْحَاق ، عَنْ جَرِيرٍ كِلَاهُمَا، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ: كَانَ أَبُو قَتَادَةَ فِي نَفَرٍ مُحْرِمِينَ وَأَبُو قَتَادَةَ مُحِلٌّ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ، وَفِيهِ قَالَ: " هَلْ أَشَارَ إِلَيْهِ إِنْسَانٌ مِنْكُمْ أَوْ أَمَرَهُ بِشَيْءٍ؟ "، قَالُوا: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " فَكُلُوا ".
عبدالعزیز بن رفیع نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے روایت کی، کہا: ابوقتادہ رضی اللہ عنہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی نفری میں تھے انہوں نے احرام باندھا ہوا تھا اور وہ خود احرام کے بغیر تھے اور حدیث بیان کی اور اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم میں سے کسی انسان نے اس (شکار) کی طرف اشارہ کیا تھا یا انہیں (ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کو) کچھ کرنے کو کہا تھا؟“ انہوں نے کہا: نہیں اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”تو پھر تم اسے کھاؤ۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2859]
عبداللہ بن ابی قتادہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ ایک محرم جماعت کے ساتھ تھے اور وہ غیر محرم تھے، پھر مذکورہ بالا روایت بیان کی، اس میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم میں سے کسی انسان نے انہیں اشارہ کیا تھا، یا کسی قسم کا مشورہ دیا تھا؟“ انہوں نے جواب دیا: ”نہیں، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو کھا لو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2859]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1196
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
Sahih Muslim Hadith 2859 in Urdu
عبد الله بن أبي قتادة الأنصاري ← الحارث بن ربعي السلمي