صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
8. باب تحريم الصيد الماكول البري ، وما اصله ذٰلك علي المحرم بحج او عمرة او بهما
باب: حج یا عمرہ یا ان دونوں کا احرام باندھنے والے پر خشکی کا شکار کرنے کی حرمت کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1197 ترقیم شاملہ: -- 2860
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ وَنَحْنُ حُرُمٌ، فَأُهْدِيَ لَهُ طَيْرٌ وَطَلْحَةُ رَاقِدٌ، فَمِنَّا مَنْ أَكَلَ وَمِنَّا مَنْ تَوَرَّعَ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ طَلْحَةُ وَفَّقَ مَنْ أَكَلَهُ، وَقَالَ: " أَكَلْنَاهُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
معاذ بن عبدالرحمان بن عثمان تیمی نے اپنے والد سے روایت کی، کہا ہم احرام کی حالت میں طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے۔ ایک (شکار شدہ) پرندہ بطور ہدیہ ان کے لیے لایا گیا۔ طلحہ (اس وقت) سو رہے تھے۔ ہم میں سے بعض نے (اس کا گوشت) کھایا اور بعض نے احتیاط برتی۔ جب حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے تو آپ نے ان کی تائید کی جنہوں نے اسے کھایا تھا اور کہا ہم نے اسے (شکار کے گوشت کو حالت احرام میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھایا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2860]
معاذ بن عبد الرحمن بن عثمان تیمی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ احرام کی حالت میں تھے، انہیں پرندہ تحفتاً پیش کیا گیا، جبکہ وہ سوئے ہوئے تھے، ہم میں سے بعض نے کھا لیا اور بعض نے پرہیز کیا، تو جب حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے، انہوں نے کھانے والوں سے موافقت کی اور کہا: ”ہم نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھایا تھا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2860]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1197
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2860 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2860
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
یہ شکار چونکہ حلال نے اپنے لئے کیا تھا اور بعد میں اس میں سے حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ہدیتاً پیش کر دیا،
اس لئے انہوں نے کھانے والوں کے مؤقف کی تائید کی۔
فوائد ومسائل:
یہ شکار چونکہ حلال نے اپنے لئے کیا تھا اور بعد میں اس میں سے حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ہدیتاً پیش کر دیا،
اس لئے انہوں نے کھانے والوں کے مؤقف کی تائید کی۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2860]
Sahih Muslim Hadith 2860 in Urdu
عبد الرحمن بن عثمان القرشي ← طلحة بن عبيد الله القرشي