🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. باب الصداق وجواز كونه تعليم قرآن وخاتم حديد وغير ذلك من قليل وكثير واستحباب كونه خمسمائة درهم لمن لا يجحف به:
باب: مہر کا بیان اور تعلیم قرآن اور مہر ٹھہرانے میں لوہے کا چھلا وغیرہ کے بیان میں۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1426 ترقیم شاملہ: -- 3489
حدثنا إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، وَاللَّفْظُ لَهُ: حدثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ يَزِيدَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَمْ كَانَ صَدَاقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَت:" كَانَ صَدَاقُهُ لِأَزْوَاجِهِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً وَنَشًّا"، قَالَت: أَتَدْرِي مَا النَّشُّ، قَالَ: قُلْتُ: لَا، قَالَت: نِصْفُ أُوقِيَّةٍ، فَتِلْكَ خَمْسُ مِائَةِ دِرْهَمٍ، فَهَذَا صَدَاقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَزْوَاجِهِ.
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ، (ام المؤمنین) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کی بیویوں) کا مہر کتنا (ہوتا) تھا؟ انہوں نے جواب دیا: اپنی بیویوں کے لیے آپ کا مہر بارہ اوقیہ اور ایک نش تھا۔ (پھر) انہوں نے پوچھا: جانتے ہو نش کیا ہے؟ میں نے عرض کی: نہیں، انہوں نے کہا: آدھا اوقیہ، یہ کل پانچ سو درہم بنتے ہیں اور یہی اپنی بیویوں کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مہر تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3489]
حضرت ابو سلمہ بن عبدالرحمن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنی بیویوں کو) کتنا مہر دیا تھا؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کا مہر بارہ اوقیہ اور ایک «نَشٌّ» تھا، اور پوچھا: کیا تمہیں «نَشٌّ» کے بارے میں علم ہے؟ میں نے عرض کیا: نہیں، انہوں نے بتایا کہ آدھے اوقیہ کو «نَشٌّ» کہتے ہیں، اس طرح پانچ سو درہم ہو گئے اور یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کا مہر ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3489]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1426
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة
Newأبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة إمام مكثر
👤←👥محمد بن إبراهيم القرشي، أبو عبد الله
Newمحمد بن إبراهيم القرشي ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري
ثقة
👤←👥يزيد بن الهاد الليثي، أبو عبد الله
Newيزيد بن الهاد الليثي ← محمد بن إبراهيم القرشي
ثقة مكثر
👤←👥عبد العزيز بن محمد الدراوردي، أبو محمد
Newعبد العزيز بن محمد الدراوردي ← يزيد بن الهاد الليثي
صدوق حسن الحديث
👤←👥محمد بن أبي عمر العدني، أبو عبد الله
Newمحمد بن أبي عمر العدني ← عبد العزيز بن محمد الدراوردي
ثقة
👤←👥يزيد بن الهاد الليثي، أبو عبد الله
Newيزيد بن الهاد الليثي ← محمد بن أبي عمر العدني
ثقة مكثر
👤←👥عبد العزيز بن محمد الدراوردي، أبو محمد
Newعبد العزيز بن محمد الدراوردي ← يزيد بن الهاد الليثي
صدوق حسن الحديث
👤←👥إسحاق بن راهويه المروزي، أبو يعقوب
Newإسحاق بن راهويه المروزي ← عبد العزيز بن محمد الدراوردي
ثقة حافظ إمام
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
3489
صداقه لأزواجه ثنتي عشرة أوقية ونشا
سنن أبي داود
2105
ثنتا عشرة أوقية ونش فقلت وما نش قالت نصف أوقية
سنن ابن ماجه
1886
كان صداقه في أزواجه اثنتي عشرة أوقية ونشا هل تدري ما النش هو نصف أوقية وذلك خمس مائة درهم
سنن النسائى الصغرى
3349
على اثنتي عشرة أوقية ونش وذلك خمس مائة درهم
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 3489 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3489
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
ایک اوقیہ میں چالیس درہم ہوتے ہیں،
اور بارہ اوقیہ کے 480 (چارسواسی)
درہم بن گئے اور نش کی مقدار بیس (20)
درہم ملا کرپانچ سودرہم ہوگئے،
لیکن اُم حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا مہر چونکہ نجاشی نے ادا کیا تھا اس لیے اس نے چار ہزار درہم یا چار ہزار دینار دیے تھے،
اور حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا مہران کی آزادی تھی اور بہتر یہ ہے کہ مہر کا کم ازکم حصہ پہلی رات ہی ادا کردیا جائے،
جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا تھا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3489]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3349
مہر کی ادائیگی میں عدل و انصاف سے کام لینے کا بیان۔
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس (یعنی مہر) کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بارہ اوقیہ اور ایک نش ۱؎ کا مہر باندھا جس کے پانچ سو درہم ہوئے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3349]
اردو حاشہ:
(1) اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے۔ ساڑھے بارہ اوقیے پانچ سودرہم بنتے ہیں۔
(2) نکاح کیے یعنی خود اپنی ازواج مطہرات سے اور اپنی بیٹیوں کے نکاح اپنے دامادوں سے کیے۔ اگر اکثر نکاح اس مہر پر ہوں تو مندرجہ بالا الفاظ بولے جاسکتے ہیں‘ خواہ سب نکاح اس مہر پر نہ بھی ہوں۔ یہ معقول مہر تھا۔ آج کل ہمارے سکے کے لحاظ سے تقریباً دس ہزار روپے بنتے ہیں‘ حالانکہ وہ تنگی کا دور تھا۔ یہ جو آج کل سوا بتیس روپے کو شرعی مہر سمجھا جاتا ہے‘ یہ کس دور کا حساب ہے؟ اللہ جانے! یہ انتہائی غیر معقول ہے چہ جائیکہ شرعی ہو۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3349]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2105
مہر کا بیان۔
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف الزہری کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (کی ازواج مطہرات) کے مہر کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ بارہ اوقیہ اور ایک نش تھا ۱؎، میں نے کہا: نش کیا ہے؟ فرمایا: آدھا اوقیہ ۲؎۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2105]
فوائد ومسائل:
ایک اوقیہ میں چالیس درہم چاندی ہوتے ہیں لہذا یہ مقدار پانچ سو درہم ہوئی اور موجودہ معیار کے مطابق ایک درہم کا وزن 975۔
2 گرام اور پچھلے علماء کے حساب سے 06۔
3 گرام ہوتا ہے۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2105]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1886
عورتوں کے مہر کا بیان۔
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کا مہر کیا تھا؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کا مہر بارہ اوقیہ اور ایک نش تھا، تم جانتے ہو نش کیا ہے؟ یہ آدھا اوقیہ ہے، یہ کل پانچ سو درہم ہوئے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1886]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
نکاح میں حق مہر ضروری ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَأُحِلَّ لَكُم مَّا وَرَ‌اءَ ذَٰلِكُمْ أَن تَبْتَغُوا بِأَمْوَالِكُم مُّحْصِنِينَ غَيْرَ‌ مُسَافِحِينَ﴾ (النساء، 4: 24)
اور ان (مذکورہ بالا)
عورتوں کے سوا، دوسری عورتیں تم پر حلال کی گئیں کہ اپنے مال سے (حق مہر دے کر)
تم ان سے نکاح کرنا چاہو (تو کر لو)
برے کام سے بچنے کے لیے، نہ کہ شہوت رانی کرنے کے لیے۔

(2)
مذکورہ بالا آیت میں شرعی نکاح کی شرائط بیان کی گئی ہیں۔

اول یہ کہ طلب کرو ﴿أَن تَبْتَغُوا﴾  یعنی دونوں طرف سے ایجاب و قبول ہو۔

دوسری یہ کہ مال دو ﴿بِأَمْوَالِكُم﴾  یعنی حق مہر ادا کرو۔

تیسری یہ کہ ان کو شادی کی دائمی قید میں لانا مقصود ہو۔
متعہ یا حلالہ نہ ہو ﴿مُّحْصِنِينَ﴾  قلعہ (حصن)
میں بند کرنے والے۔

چوتھی شرط یہ ہے کہ چھپی دوستی نہ ہو بلکہ گواہوں کی موجودگی میں نکاح ہو۔
﴿وَلَا مُتَّخِذَاتِ اَخْدَان﴾ نہ چھپی دوستی والیاں۔ (السناء، 4: 25) (مفہوم تفسیر احسن البیان، حافظ صلاح الدین یوسف)

(3)
حق مہر بہت زیادہ مقرر نہیں کرنا چاہیے جس کی ادائیگی خاوند کے لیے دشوار ہو اور بہت کم بھی مقرر نہیں کرنا چاہیے جس کی خاوند کی نظر میں کوئی اہمیت نہ ہو۔

(4)
اگر خاوند مفلس ہو تو حق مہر بہت کم بھی مقرر کیا جاسکتا ہے، خواہ لوہے کا چھلا ہی ہو۔ (صحیح البخاري، النکاح، حدیث: 5150، وصحیح مسلم، النکاح، حدیث: 1425)

(5)
پانچ سو درہم کی مقدار تقریباً ڈیڑھ کلو گرام چاندی کے برابر ہوتی ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1886]

Sahih Muslim Hadith 3489 in Urdu