صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
7. باب فضل عتق الوالد:
باب: باپ کو آزاد کرنے کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 1510 ترقیم شاملہ: -- 3800
وحَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، كُلُّهُمْ عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَقَالُوا: وَلَدٌ وَالِدَهُ.
وکیع، عبداللہ بن نمیر اور ابواحمد زبیری سب نے سفیان سے، انہوں نے سہیل سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی اور ان سب نے بھی ”کوئی بیٹا اپنے والد کا“ کے الفاظ کہے۔ [صحيح مسلم/كتاب العتق/حدیث: 3800]
امام صاحب رحمہ اللہ اپنے تین اور اساتذہ سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں، سب نے «وَلَدَ وَالِدًا» ”بیٹا، باپ“۔ [صحيح مسلم/كتاب العتق/حدیث: 3800]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1510
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥سهيل بن أبي صالح السمان، أبو يزيد | ثقة | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← سهيل بن أبي صالح السمان | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥محمد بن عبد الله الزبيرى، أبو أحمد محمد بن عبد الله الزبيرى ← سفيان الثوري | ثقة ثبت قد يخطئ في حديث الثوري | |
👤←👥عمرو بن محمد الناقد، أبو عثمان عمرو بن محمد الناقد ← محمد بن عبد الله الزبيرى | ثقة | |
👤←👥عبد الله بن نمير الهمداني، أبو هشام عبد الله بن نمير الهمداني ← عمرو بن محمد الناقد | ثقة صاحب حديث من أهل السنة | |
👤←👥محمد بن نمير الهمداني، أبو عبد الرحمن محمد بن نمير الهمداني ← عبد الله بن نمير الهمداني | ثقة حافظ | |
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان وكيع بن الجراح الرؤاسي ← محمد بن نمير الهمداني | ثقة حافظ إمام | |
👤←👥محمد بن العلاء الهمداني، أبو كريب محمد بن العلاء الهمداني ← وكيع بن الجراح الرؤاسي | ثقة حافظ |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 3800 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3800
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بیٹا اپنے باپ کا جو اس پر حق ہے،
اس کو کسی صورت میں بھی ادا نہیں کر سکتا کیونکہ عام طور پر یہ ممکن نہیں ہے کہ کسی کا باپ ہو اور وہ کسی کا غلام بن جائے تو وہ اس کو خرید کر آزاد کردے،
جمہور کے نزدیک کبھی اگر ایسی صورت پیش آجائے تو باپ بیٹے کے خریدنے سے ہی آزاد ہو جائے گا۔
جبکہ اہل ظاہر کے نزدیک اسے آزاد کرنا ہو گا۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بیٹا اپنے باپ کا جو اس پر حق ہے،
اس کو کسی صورت میں بھی ادا نہیں کر سکتا کیونکہ عام طور پر یہ ممکن نہیں ہے کہ کسی کا باپ ہو اور وہ کسی کا غلام بن جائے تو وہ اس کو خرید کر آزاد کردے،
جمہور کے نزدیک کبھی اگر ایسی صورت پیش آجائے تو باپ بیٹے کے خریدنے سے ہی آزاد ہو جائے گا۔
جبکہ اہل ظاہر کے نزدیک اسے آزاد کرنا ہو گا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3800]
Sahih Muslim Hadith 3800 in Urdu
سفيان الثوري ← سهيل بن أبي صالح السمان