🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب الوصية بالثلث:
باب: ایک تہائی مال کی وصیت کے بارے میں۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1629 ترقیم شاملہ: -- 4218
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ كُلُّهُمْ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " لَوْ أَنَّ النَّاسَ غَضُّوا مِنَ الثُّلُثِ إِلَى الرُّبُعِ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ " وَفِي حَدِيثِ وَكِيعٍ كَبِيرٌ أَوْ كَثِيرٌ.
عیسیٰ بن یونس، وکیع اور ابن نمیر سب نے ہشام بن عروہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: کاش لوگ تہائی سے کم کر کے چوتھائی کی وصیت کریں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: تہائی (تک کی وصیت کرو)، اور تہائی بھی زیادہ ہے۔ وکیع کی حدیث میں بڑا ہے یا زیادہ ہے کے الفاظ ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الوصية/حدیث: 4218]
امام اپنے تین اساتذہ کی تین سندوں سے، ہشام بن عروہ کے واسطہ سے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ اگر لوگ تہائی میں کمی کر کے، چوتھائی مال کے بارے میں وصیت کر لیں، (تو بہت ہے) کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے، تہائی، اور تہائی بہت ہے۔ وکیع کی روایت میں ہے، بڑا ہے یا بہت ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الوصية/حدیث: 4218]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1629
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة فقيه مشهور
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة إمام في الحديث
👤←👥عبد الله بن نمير الهمداني، أبو هشام
Newعبد الله بن نمير الهمداني ← هشام بن عروة الأسدي
ثقة صاحب حديث من أهل السنة
👤←👥محمد بن العلاء الهمداني، أبو كريب
Newمحمد بن العلاء الهمداني ← عبد الله بن نمير الهمداني
ثقة حافظ
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← محمد بن العلاء الهمداني
ثقة حافظ إمام
👤←👥محمد بن العلاء الهمداني، أبو كريب
Newمحمد بن العلاء الهمداني ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
ثقة حافظ
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← محمد بن العلاء الهمداني
ثقة حافظ صاحب تصانيف
👤←👥عيسى بن يونس السبيعي، أبو محمد، أبو عمرو
Newعيسى بن يونس السبيعي ← ابن أبي شيبة العبسي
ثقة مأمون
👤←👥إبراهيم بن موسى التميمي، أبو إسحاق
Newإبراهيم بن موسى التميمي ← عيسى بن يونس السبيعي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
2743
الثلث والثلث كثير
صحيح مسلم
4218
الثلث والثلث كثير
سنن ابن ماجه
2711
الثلث كبير أو كثير
سنن النسائى الصغرى
3664
الثلث والثلث كثير
مسندالحميدي
531
الثلث والثلث كثير
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4218 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4218
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
بعض صحابہ و تابعین سے چوتھائی سے بھی کم کرنے کے اقوال منقول ہیں،
اصل چیز یہ ہے،
کہ وصیت کرنے والا اپنے ترکہ کی مقدار اور اپنے ورثاء کی تعداد اور ان کی ضروریات کا لحاظ کرتے ہوئے،
تہائی سے کم کرے گا،
لیکن اپنی زندگی میں فی سبیل اللہ یا نیک کاموں میں جس قدر چاہے صرف کر سکتا ہے،
اس پر کوئی قدغن نہیں ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4218]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:531
531- سيدنا عبدالله بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اگر لوگ وصیت کے بارے میں ایک چوتھائی حصے پر اکتفاء کریں، تو یہ میرے نزدیک زیادہ بسندیدہ ہوگا، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا: ایک تہائی (کے بارے میں وصیت کرنے کی اجازت ہے) ویسے ایک تہائی بھی زیادہ ہے۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:531]
فائدہ:
اس حدیث میں وصیت کی حد متعین کی گئی ہے کہ زیادہ سے زیادہ تیسرے حصے کی وصیت کرنا درست ہے، اس سے زیادہ کی وصیت کرنا جائز نہیں ہے۔ افسوس کہ بعض لوگ غصے میں آ کر یا کسی سے زیادہ محبت کی غرض سے سارے مال ہی کی وصیت کر جاتے ہیں، یہ گناہ ہے، اور مؤثر بھی نہیں ہے، جو شخص ایسی وصیت کر دے تو اس کی وصیت پر عمل نہیں کیا جائے گا۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 531]