🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. باب ترك الوصية لمن ليس له شيء يوصي فيه:
باب: جس کے پاس کوئی شے قابل وصیت کے نہ ہو اس کو وصیت نہ کرنا درست ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1635 ترقیم شاملہ: -- 4229
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ , عَنْ الْأَعْمَشِ . ح، وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا وَلَا شَاةً وَلَا بَعِيرًا وَلَا أَوْصَى بِشَيْءٍ "،
عبداللہ بن نمیر اور ابومعاویہ دونوں نے کہا: ہمیں اعمش نے ابووائل سے حدیث بیان کی، انہوں نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ کوئی دینار ترکہ میں چھوڑا نہ درہم، نہ کوئی بکری، نہ اونٹ اور نہ ہی آپ نے (اس طرح کی) کسی چیز کے بارے میں وصیت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الوصية/حدیث: 4229]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ کوئی دینار چھوڑا اور نہ درہم، نہ بکری، نہ اونٹ، اور نہ کسی (مالی چیز) کے بارے میں وصیت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الوصية/حدیث: 4229]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1635
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥مسروق بن الأجدع الهمداني، أبو عائشة
Newمسروق بن الأجدع الهمداني ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة
👤←👥شقيق بن سلمة الأسدي، أبو وائل
Newشقيق بن سلمة الأسدي ← مسروق بن الأجدع الهمداني
مخضرم
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← شقيق بن سلمة الأسدي
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن خازم الأعمى، أبو معاوية
Newمحمد بن خازم الأعمى ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة
👤←👥عبد الله بن نمير الهمداني، أبو هشام
Newعبد الله بن نمير الهمداني ← محمد بن خازم الأعمى
ثقة صاحب حديث من أهل السنة
👤←👥محمد بن نمير الهمداني، أبو عبد الرحمن
Newمحمد بن نمير الهمداني ← عبد الله بن نمير الهمداني
ثقة حافظ
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← محمد بن نمير الهمداني
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن خازم الأعمى، أبو معاوية
Newمحمد بن خازم الأعمى ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة
👤←👥عبد الله بن نمير الهمداني، أبو هشام
Newعبد الله بن نمير الهمداني ← محمد بن خازم الأعمى
ثقة صاحب حديث من أهل السنة
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← عبد الله بن نمير الهمداني
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
4229
ما ترك رسول الله دينارا ولا درهما ولا شاة ولا بعيرا ولا أوصى بشيء
سنن أبي داود
2863
ترك رسول الله دينارا ولا درهما ولا بعيرا ولا شاة ولا أوصى بشيء
سنن ابن ماجه
2695
ما ترك رسول الله دينارا ولا درهما ولا شاة ولا بعيرا ولا أوصى بشيء
سنن النسائى الصغرى
3651
ما ترك رسول الله دينارا ولا درهما ولا شاة ولا بعيرا ولا أوصى بشيء
سنن النسائى الصغرى
3652
ما ترك رسول الله درهما ولا دينارا ولا شاة ولا بعيرا وما أوصى
سنن النسائى الصغرى
3653
ما ترك رسول الله درهما ولا دينارا ولا شاة ولا بعيرا ولا أوصى
مسندالحميدي
273
ما ترك رسول الله صلى الله عليه وسلم صفراء ولا بيضاء، ولا شاة، ولا بعيرا، ولا عبدا ولا أمة، ولا ذهبا، ولا فضة
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4229 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4229
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا مقصد مال کے بارے میں یا خلافت کے بارے میں صریح وصیت کا انکار کرنا ہے،
وگرنہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے بارے میں آپ نے اشارہ اور کنایہ سے وصیت فرمائی ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4229]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3651
کیا نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے کوئی وصیت کی تھی؟
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (موت کے وقت) نہ دینار چھوڑا، نہ درہم، نہ بکری چھوڑی، نہ اونٹ اور نہ ہی کسی چیز کی وصیت کی۔ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3651]
اردو حاشہ:
تفصیل کے لیے دیکھیے حدیث نمبر3624۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3651]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3653
کیا نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے کوئی وصیت کی تھی؟
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ درہم چھوڑا، نہ دینار، نہ بکری چھوڑی اور نہ اونٹ اور نہ ہی وصیت فرمائی۔ (اس روایت کے دونوں راویوں میں سے ایک راوی جعفر بن محمد بن ہذیل نے اپنی روایت میں دینار اور درہم کا ذکر نہیں کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3653]
اردو حاشہ:
امام نسائی رحمہ اللہ یہ روایت اپنے دو اساتذہ جعفر بن محمد اور احمد بن یوسف سے بیان کرتے ہیں۔ آخری جملے میں یہ بتانا چاہتے ہیں کہ جعفر بن محمد یہ روایت بیان کرتے وقت [دِرْھُماً وَلاَ دِینَارًا] کے الفاظ ذکر نہیں کرتے جبکہ احمد بن یوسف ان الفاظ کو نقل کرتے ہیں۔ امام نسائی رحمہ اللہ کا مقصود صرف دونوں کی روایت کا فرق بتانا ہے‘ اس سے روایت کی صحت پر کچھ اثر نہیں پڑتا‘ نیز امام نسائی کے استاد محمد بن رافع بھی ان الفاظ کو بیان کرتے ہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3653]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2863
وصیت کرنے کی تاکید کا بیان۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنی وفات کے وقت) دینار و درہم، اونٹ و بکری نہیں چھوڑی اور نہ کسی چیز کی وصیت فرمائی ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الوصايا /حدیث: 2863]
فوائد ومسائل:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت امورشریعت سے متعلق ثابت شدہ ہے۔
بالخصوص نماز کی پابندی غلاموں کے ساتھ حسن سلوک مشرکین کو جزیرۃ العرب سے نکالنا اور وفود کے ساتھ حسن معاملہ وغیرہ۔
لیکن مالی امور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی وصیت نہ تھی۔
کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مال چھوڑا ہی نہیں تھا۔
(سنن أبي داود، الخراج، حدیث: 3029، و الأدب، حدیث: 5156۔
و صحیح البخاري، الجذیة، حدیث: 3168)
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2863]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2695
کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت کی تھی؟
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنی وفات کے وقت) دینار، درہم، بکری اور اونٹ نہیں چھوڑے اور نہ ہی کسی چیز کی وصیت کی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الوصايا/حدیث: 2695]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل:

(1)
رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں یہ فرمایا تھا:
میرے وارث، دینار اور درہم تقسیم نہیں کریں گے۔
میری بیویوں کے خرچ او رعامل کے اخراجات کے بعد جو بچے وہ صدقہ ہے۔ (صحیح البخاري، الوصایا، باب نفقة القیم للموقف، حدیث: 2776)

(2)
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی ؓ کو کچھ خاص وصیتیں کی تھیں، یا ان کے حق میں خلافت کی تھی، یہ تصور بالکل غلط ہے جیسا کہ خود حضرت علی﷜ نے اس کی تردید فرمائی ہے۔
دیکھئے، (حدیث: 2658، 2698)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2695]

الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:273
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا چکے ہیں، اور جب آپ فوت ہوۓ تو اس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیچھے عام گھر یلو قیمتی اشیاء نہیں چھوڑ یں۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 273]

Sahih Muslim Hadith 4229 in Urdu