🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب الامر بقضاء النذر:
باب: نذر کو پورا کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1638 ترقیم شاملہ: -- 4236
امام مالک، ابن عیینہ، یونس، معمر اور بکر بن وائل سب نے زہری سے لیث کی مذکورہ سند کے ساتھ، انہی کی حدیث کے ہم معنیٰ حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب النذر/حدیث: 4236]
امام صاحب اپنے اساتذہ کی پانچ سندوں سے، زھری ہی کی مذکورہ بالا سند سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب النذر/حدیث: 4236]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1638
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكرالفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥بكر بن وائل الليثي
Newبكر بن وائل الليثي ← محمد بن شهاب الزهري
صدوق حسن الحديث
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهشام بن عروة الأسدي ← بكر بن وائل الليثي
ثقة إمام في الحديث
👤←👥عبدة بن سليمان الكوفي، أبو محمد
Newعبدة بن سليمان الكوفي ← هشام بن عروة الأسدي
ثقة ثبت
👤←👥عثمان بن أبي شيبة العبسي، أبو الحسن
Newعثمان بن أبي شيبة العبسي ← عبدة بن سليمان الكوفي
وله أوهام، ثقة حافظ شهير
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة
Newمعمر بن أبي عمرو الأزدي ← عثمان بن أبي شيبة العبسي
ثقة ثبت فاضل
👤←👥عبد الرزاق بن همام الحميري، أبو بكر
Newعبد الرزاق بن همام الحميري ← معمر بن أبي عمرو الأزدي
ثقة حافظ
👤←👥عبد بن حميد الكشي، أبو محمد
Newعبد بن حميد الكشي ← عبد الرزاق بن همام الحميري
ثقة حافظ
👤←👥إسحاق بن راهويه المروزي، أبو يعقوب
Newإسحاق بن راهويه المروزي ← عبد بن حميد الكشي
ثقة حافظ إمام
👤←👥يونس بن يزيد الأيلي، أبو يزيد، أبو بكر
Newيونس بن يزيد الأيلي ← إسحاق بن راهويه المروزي
ثقة
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← يونس بن يزيد الأيلي
ثقة حافظ
👤←👥حرملة بن يحيى التجيبي، أبو حفص
Newحرملة بن يحيى التجيبي ← عبد الله بن وهب القرشي
صدوق حسن الحديث
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← حرملة بن يحيى التجيبي
ثقة حافظ حجة
👤←👥إسحاق بن راهويه المروزي، أبو يعقوب
Newإسحاق بن راهويه المروزي ← سفيان بن عيينة الهلالي
ثقة حافظ إمام
👤←👥عمرو بن محمد الناقد، أبو عثمان
Newعمرو بن محمد الناقد ← إسحاق بن راهويه المروزي
ثقة
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← عمرو بن محمد الناقد
ثقة حافظ صاحب تصانيف
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله
Newمالك بن أنس الأصبحي ← ابن أبي شيبة العبسي
رأس المتقنين وكبير المتثبتين
👤←👥يحيى بن يحيى النيسابوري، أبو زكريا
Newيحيى بن يحيى النيسابوري ← مالك بن أنس الأصبحي
ثقة ثبت إمام
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4236 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4236
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مورث نے اگر کوئی نذر مانی ہو،
تو اس کے نیک طنیت وارث،
اس کو پورا کرنا اپنی ذمہ داری تصور کرتے ہیں،
اس مقصد کے تحت،
حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا تھا،
اور انہیں کے تصور کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو نذر پوری کرنے کا حکم دیا تھا،
اس لیے سوال کے جواب میں امر کا صیغہ،
فقہی اور قانونی فرضیت پر دلالت نہیں کرتا،
اس لیے جمہور فقہاء کے نزدیک وارث پر نذر پوری کرنا فرض نہیں ہے،
بہتر یہی ہے کہ اس کو پورا کرے،
اور اگر نذر کا تعلق مال سے ہو اور ترکہ میں مال موجود ہو،
تو پھر اس کا پورا کرنا فرض ہے،
اور کیا وارث ہر قسم کی نذر،
اس کا تعلق مال سے ہو،
یا بدن سے پوری کر سکتا ہے؟ یا اس میں کوئی قید ہے؟ اس کی تفصیل حسب ذیل ہے۔
(ا)
اگر نذر کا تعلق خالص مال سے ہے،
مثلاً صدقہ کی نظر ہے،
تو امام شافعی کے نزدیک،
اس کا پورا کرنا فرض ہے،
اگر ترکہ کے تہائی سے پوری ہو سکتی ہے،
وگرنہ فرض نہیں ہے،
اور احناف کے نزدیک،
اگر مرنے والے نے وصیت کی ہو اور تہائی ترکہ سے پورا کرنا ممکن ہو تو پھر فرض ہے،
اگر وصیت نہیں کی،
تو پھر فرض نہیں ہے،
امام مالک کا بھی یہی موقف ہے۔
(ب)
اگر نذر کا تعلق محض بدن سے ہو،
مثلا نماز،
تو بالاتفاق اس کو پورا کرنا درست نہیں،
اگر روزہ ہے،
تو امام احمد کے نزدیک وارث روزہ رکھ سکتا ہے،
لازم نہیں ہے،
حالانکہ روایت کا صریح تقاضا روزہ رکھنا ہے،
لیکن باقی ائمہ ثلاثہ کے نزدیک عبادات بدنیہ میں نیابت جائز نہیں ہے،
اس لیے وارث روزہ نہیں رکھ سکتا،
فدیہ ادا کرے گا،
علامہ تقی لکھتے ہیں،
نماز اور روزہ دونوں کی جگہ فدیہ دے گا۔
(تکملہ،
ج 2،
ص 151)
۔
معلوم نہیں،
ان حضرات کے نزدیک نماز کا فدیہ کیا ہے،
اور کس دلیل کی بنا پر میت کی طرف سے بلا نذر ہی قرآن مجید پڑھنے کی اجازت ہی نہیں ترغیب دیتے ہیں،
کیا وہ عبادت بدنی نہیں ہے،
رہی تاویل کہ یہ اھدائے ثواب ہے،
تو اس کے لیے دلیل کی ضرورت ہے،
یہ کوئی نیا کام تو ہے نہیں کہ قیاس چل سکے۔
(ج)
اگر عبادت بدنی مالی ہو،
جیسے حج تو پھر جمہور کے نزدیک یہاں نیابت درست ہے،
اگر ترکہ چھوڑا ہے اور اس کے تہائی سے حج ہو سکتا ہے،
اور میت نے وصیت کی ہو،
تو پھر اس کا پورا کرنا فرض ہے،
وگرنہ مستحب ہے فرض نہیں،
لیکن امام مالک کے نزدیک بقول علامہ تقی جائز نہیں ہے،
جبکہ امام باجی نے لکھا ہے،
جائز ہے۔
(المنتقیٰ،
ج 3،
ص 230)
مالی نذر،
روزہ کی نذر اور حج کی نذر کا وارث کا پورا کرنا،
ان کے دلائل احادیث میں موجود ہیں،
لیکن کسی نے نماز پڑھنے کی نذر مانی ہو تو اس کی دلیل موجود نہیں ہے،
بلکہ بعض صحابہ سے اس کی ممانعت منقول ہے،
اس لیے جس کام کی دلیل مل جائے،
وہ قابل عمل ہے،
محض قیاس سے کام لینا درست نہیں ہے،
کیونکہ وہ کام جو عبادات سے تعلق رکھتے ہیں،
ان میں صریح دلیل کی ضرورت ہے،
محض قیاس کافی نہیں ہے،
اور اہدائے ثواب وہیں ہو سکتا ہے جہاں نیابت ممکن ہو،
روزہ اور حج میں نیابت ثابت ہے،
نماز،
قراءت قرآن میں ثابت نہیں ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4236]