صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
5. باب من اعترف على نفسه بالزنا:
باب: جو شخص زنا کا اعتراف کر لے اس کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1694 ترقیم شاملہ: -- 4430
وحَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّاءَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ كِلَاهُمَا، عَنْ دَاوُدَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ بَعْضَ هَذَا الْحَدِيثِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ سُفْيَانَ، فَاعْتَرَفَ بِالزِّنَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ.
یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ اور سفیان دونوں نے داود سے اسی سند کے ساتھ اس حدیث کا کچھ حصہ بیان کیا، البتہ سفیان کی حدیث میں ہے: اس نے تین بار زنا کا اعتراف کیا۔ (چوتھی بار کے اعتراف پر اسے سزا سنائی گئی۔) [صحيح مسلم/كتاب الحدود/حدیث: 4430]
امام صاحب اپنے دو اور اساتذہ کی سندوں سے، داؤد کی مذکورہ سند سے اس حدیث کا کچھ حصہ بیان کرتے ہیں، ہاں سفیان کی حدیث میں ہے اس نے زنا کا اعتراف تین دفعہ کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحدود/حدیث: 4430]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1694
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥داود بن أبي هند القشيري، أبو محمد، أبو بكر | ثقة متقن | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← داود بن أبي هند القشيري | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥معاوية بن هشام الأسدي، أبو الحسن معاوية بن هشام الأسدي ← سفيان الثوري | صدوق له أوهام | |
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر ابن أبي شيبة العبسي ← معاوية بن هشام الأسدي | ثقة حافظ صاحب تصانيف | |
👤←👥يحيى بن زكريا الهمداني، أبو سعيد يحيى بن زكريا الهمداني ← ابن أبي شيبة العبسي | ثقة متقن | |
👤←👥سريح بن يونس المروروذي، أبو الحارث سريح بن يونس المروروذي ← يحيى بن زكريا الهمداني | ثقة |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4430 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4430
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
واقعات کے بیان میں راویوں میں بعض جزئیات کے بیان میں کچھ اختلاف ہو جاتا ہے،
لیکن اصل واقعہ کے بیان میں سب متفق ہوتے ہیں اس لیے وہ جزئی اختلاف کوئی زیادہ اہمیت نہیں رکھتا،
اس لیے اس حدیث میں کہیں دو دفعہ واپس کرنے کا ذکر ہے کہیں تین اور کسی روایت میں چار دفعہ،
صحیح یہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دفعہ اس کو ٹالنے کی کوشش کی،
لیکن جب وہ باز نہ آیا تو چوتھی دفعہ اس سے بدکاری کی کیفیت کے بارے میں سوال کیا اور اس کے بیان کے بعد،
اس کو رجم کرنے کا حکم دیا،
جس سے معلوم ہوتا ہے چار دفعہ اقرار کرانا مقصود نہ تھا اور رجم کے بعد فوری طور پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے دعا نہیں کی تاکہ لوگوں کے اندر اس سے باز رہنے کا جذبہ پیدا ہو اور برا بھی نہیں کہا،
کیونکہ اپنے آپ کو حد جھیلنے کے لیے پیش کرنا معمولی کام نہیں ہے،
بہت مضبوط ایمان والا ہی یہ کام کر سکتا ہے۔
فوائد ومسائل:
واقعات کے بیان میں راویوں میں بعض جزئیات کے بیان میں کچھ اختلاف ہو جاتا ہے،
لیکن اصل واقعہ کے بیان میں سب متفق ہوتے ہیں اس لیے وہ جزئی اختلاف کوئی زیادہ اہمیت نہیں رکھتا،
اس لیے اس حدیث میں کہیں دو دفعہ واپس کرنے کا ذکر ہے کہیں تین اور کسی روایت میں چار دفعہ،
صحیح یہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دفعہ اس کو ٹالنے کی کوشش کی،
لیکن جب وہ باز نہ آیا تو چوتھی دفعہ اس سے بدکاری کی کیفیت کے بارے میں سوال کیا اور اس کے بیان کے بعد،
اس کو رجم کرنے کا حکم دیا،
جس سے معلوم ہوتا ہے چار دفعہ اقرار کرانا مقصود نہ تھا اور رجم کے بعد فوری طور پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے دعا نہیں کی تاکہ لوگوں کے اندر اس سے باز رہنے کا جذبہ پیدا ہو اور برا بھی نہیں کہا،
کیونکہ اپنے آپ کو حد جھیلنے کے لیے پیش کرنا معمولی کام نہیں ہے،
بہت مضبوط ایمان والا ہی یہ کام کر سکتا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4430]
سفيان الثوري ← داود بن أبي هند القشيري