صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
6. باب رجم اليهود اهل الذمة في الزنا:
باب: ذمی یہودی کو زنا میں سنگسار کرنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1704 ترقیم شاملہ: -- 4449
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ كِلَاهُمَا، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ وَالشَّكُّ فِي حَدِيثِهِمَا جَمِيعًا فِي بَيْعِهَا فِي الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ.
صالح اور معمر دونوں نے زہری سے، انہوں نے عبیداللہ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ اور حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، جس طرح امام مالک کی حدیث ہے۔ اور اس کی بیع تیسری بار ہے یا چوتھی بار، اس میں شک دونوں کی حدیث میں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحدود/حدیث: 4449]
امام صاحب اپنے دو اساتذہ کی سندوں سے زہری کی مذکورہ بالا سند ہی مالک کی حدیث نمبر 32 کی طرح بیان کرتے ہیں اور دونوں کی حدیث میں شک ہے کہ بیع تیسری دفعہ یا چوتھی دفعہ فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحدود/حدیث: 4449]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1704
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4449 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4449
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں،
اختلاف کا خلاصہ یہ ہے کہ چوتھی دفعہ کوڑے بیچنے سے پہلے مارے گا یا کوڑے مارے بغیر بیچ دے گا،
راجح بات یہی ہے کہ کوڑے مارنے کے بعد بیچے گا،
کیونکہ بیچنا سزا کے قائم مقام نہیں ہو سکتا اور کوڑے چھوڑے نہیں جا سکتے اور یہ تطبیق بھی ہو سکتی ہے کہ بیع تیسری دفعہ کے بعد کر دے گا کیونکہ یہ قطعی اور یقینی چیز ہے اور اکثر شرعی معاملات میں تین کے عدد کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔
(ج 12،
ص 202)
فوائد ومسائل:
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں،
اختلاف کا خلاصہ یہ ہے کہ چوتھی دفعہ کوڑے بیچنے سے پہلے مارے گا یا کوڑے مارے بغیر بیچ دے گا،
راجح بات یہی ہے کہ کوڑے مارنے کے بعد بیچے گا،
کیونکہ بیچنا سزا کے قائم مقام نہیں ہو سکتا اور کوڑے چھوڑے نہیں جا سکتے اور یہ تطبیق بھی ہو سکتی ہے کہ بیع تیسری دفعہ کے بعد کر دے گا کیونکہ یہ قطعی اور یقینی چیز ہے اور اکثر شرعی معاملات میں تین کے عدد کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔
(ج 12،
ص 202)
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4449]
أبو هريرة الدوسي ← زيد بن خالد الجهني