صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
2. باب تامير الإمام الامراء على البعوث ووصيته إياهم بآداب الغزو وغيرها:
باب: امام امیروں کو لڑائی پر کیونکر بھیجے اور ان کو طریقے کیونکر بتلائے۔
ترقیم عبدالباقی: 1731 ترقیم شاملہ: -- 4522
ح وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا أَمَّرَ أَمِيرًا عَلَى جَيْشٍ أَوْ سَرِيَّةٍ أَوْصَاهُ فِي خَاصَّتِهِ بِتَقْوَى اللَّهِ وَمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ خَيْرًا، ثُمَّ قَالَ: اغْزُوا بِاسْمِ اللَّهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، قَاتِلُوا مَنْ كَفَرَ بِاللَّهِ اغْزُوا، وَلَا تَغُلُّوا وَلَا تَغْدِرُوا وَلَا تَمْثُلُوا وَلَا تَقْتُلُوا وَلِيدًا، وَإِذَا لَقِيتَ عَدُوَّكَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَادْعُهُمْ إِلَى ثَلَاثِ خِصَالٍ أَوْ خِلَالٍ فَأَيَّتُهُنَّ مَا أَجَابُوكَ، فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَكُفَّ عَنْهُمْ ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ، فَإِنْ أَجَابُوكَ، فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَكُفَّ عَنْهُمْ ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى التَّحَوُّلِ مِنْ دَارِهِمْ إِلَى دَارِ الْمُهَاجِرِينَ، وَأَخْبِرْهُمْ أَنَّهُمْ إِنْ فَعَلُوا ذَلِكَ، فَلَهُمْ مَا لِلْمُهَاجِرِينَ وَعَلَيْهِمْ مَا عَلَى الْمُهَاجِرِينَ، فَإِنْ أَبَوْا أَنْ يَتَحَوَّلُوا مِنْهَا، فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّهُمْ يَكُونُونَ كَأَعْرَابِ الْمُسْلِمِينَ يَجْرِي عَلَيْهِمْ حُكْمُ اللَّهِ الَّذِي يَجْرِي عَلَى الْمُؤْمِنِينَ، وَلَا يَكُونُ لَهُمْ فِي الْغَنِيمَةِ وَالْفَيْءِ شَيْءٌ إِلَّا أَنْ يُجَاهِدُوا مَعَ الْمُسْلِمِينَ، فَإِنْ هُمْ أَبَوْا فَسَلْهُمُ الْجِزْيَةَ، فَإِنْ هُمْ أَجَابُوكَ، فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَكُفَّ عَنْهُمْ، فَإِنْ هُمْ أَبَوْا، فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ وَقَاتِلْهُمْ، وَإِذَا حَاصَرْتَ أَهْلَ حِصْنٍ، فَأَرَادُوكَ أَنْ تَجْعَلَ لَهُمْ ذِمَّةَ اللَّهِ وَذِمَّةَ نَبِيِّهِ، فَلَا تَجْعَلْ لَهُمْ ذِمَّةَ اللَّهِ وَلَا ذِمَّةَ نَبِيِّهِ وَلَكِنْ اجْعَلْ لَهُمْ ذِمَّتَكَ وَذِمَّةَ أَصْحَابِكَ، فَإِنَّكُمْ أَنْ تُخْفِرُوا ذِمَمَكُمْ وَذِمَمَ أَصْحَابِكُمْ أَهْوَنُ مِنْ أَنْ تُخْفِرُوا ذِمَّةَ اللَّهِ وَذِمَّةَ رَسُولِهِ، وَإِذَا حَاصَرْتَ أَهْلَ حِصْنٍ فَأَرَادُوكَ أَنْ تُنْزِلَهُمْ عَلَى حُكْمِ اللَّهِ، فَلَا تُنْزِلْهُمْ عَلَى حُكْمِ اللَّهِ وَلَكِنْ أَنْزِلْهُمْ عَلَى حُكْمِكَ، فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي أَتُصِيبُ حُكْمَ اللَّهِ فِيهِمْ أَمْ لَا؟ "، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: هَذَا أَوْ نَحْوَهُ وَزَادَ إِسْحَاقُ فِي آخِرِ حَدِيثِهِ، عَنْ يَحْيَي بْنِ آدَمَ، قَالَ: فَذَكَرْتُ هَذَا الْحَدِيثَ لِمُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ ، قَالَ يَحْيَي: يَعْنِي أَنَّ عَلْقَمَةَ يَقُولُهُ لِابْنِ حَيَّانَ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي مُسْلِمُ بْنُ هَيْصَمٍ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ،
نیز عبداللہ بن ہاشم نے کہا۔۔ الفاظ انہی کے ہیں۔۔ مجھے عبدالرحمان بن مہدی نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں سفیان نے علقمہ بن مرثد سے حدیث بیان کی، انہوں نے سلیمان بن بریدہ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی بڑے لشکر یا چھوٹے دستے پر کسی کو امیر مقرر کرتے تو اسے خاص اس کی اپنی ذات کے بارے میں اللہ سے ڈرنے کی اور ان تمام مسلمانوں کے بارے میں، جو اس کے ساتھ ہیں، بھلائی کی تلقین کرتے، پھر فرماتے: ”اللہ کے نام سے اللہ کی راہ میں جہاد کرو، جو اللہ تعالیٰ سے کفر کرتے ہیں ان سے لڑو، نہ خیانت کرو، نہ بدعہدی کرو، نہ مثلہ کرو اور نہ کسی بچے کو قتل کرو اور جب مشرکوں میں سے اپنے دشمن سے ٹکراؤ تو انہیں تین باتوں کی طرف بلاؤ، ان میں سے جسے وہ تسلیم کر لیں، (اسی کو) ان کی طرف سے قبول کر لو اور ان (پر حملے) سے رک جاؤ، انہیں اسلام کی دعوت دو، اگر وہ مان لیں تو اسے ان (کی طرف) سے قبول کر لو اور (جنگ سے) رک جاؤ، پھر انہیں اپنے علاقے سے مہاجرین کے علاقے میں آ جانے کی دعوت دو اور انہیں بتاؤ کہ اگر وہ ایسا کریں گے تو ان کے لیے وہی حقوق ہوں گے جو مہاجرین کے ہیں اور ان پر وہی ذمہ داریاں ہوں گی جو مہاجرین پر ہیں۔ اگر وہ وہاں سے نقل مکانی کرنے پر انکار کریں تو انہیں بتاؤ کہ پھر وہ بادیہ نشیں مسلمانوں کی طرح ہوں گے، ان پر اللہ کا وہی حکم نافذ ہو گا جو مومنوں پر نافذ ہوتا ہے اور غنیمت اور فے میں سے ان کے لیے کچھ نہ ہو گا مگر اس صورت میں کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر جہاد کریں۔ اگر وہ انکار کریں تو ان سے جزیے کا مطالبہ کرو، اگر وہ تسلیم کر لیں تو ان کی طرف سے قبول کر لو اور رک جاؤ اور اگر وہ انکار کریں تو اللہ سے مدد مانگو اور ان سے لڑو اور جب تم کسی قلعے (میں رہنے) والوں کا محاصرہ کرو اور وہ تم سے چاہیں کہ تم انہیں اللہ اور اس کے نبی کا عہدوپیمان عطا کرو تو انہیں اللہ اور اس کے نبی کا عہدوپیمان نہ دو بلکہ اپنی اور اپنے ساتھیوں کی طرف سے عہد و امان دو، کیونکہ یہ بات کہ تم لوگ اپنے اور اپنے ساتھیوں کے عہدوپیمان کی خلاف ورزی کر بیٹھو، اس کی نسبت ہلکی ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا عہدوپیمان توڑ دو۔ اور جب تم قلعہ بند لوگوں کا محاصرہ کرو اور وہ تم سے چاہیں کہ تم انہیں اللہ کے حکم پر (قلعے سے) نیچے اترنے دو تو انہیں اللہ کے حکم پر نیچے نہ اترنے دو بلکہ اپنے حکم پر انہیں نیچے اتارو کیونکہ تمہیں معلوم نہیں کہ تم ان کے بارے میں اللہ کے صحیح حکم پر پہنچ پاتے ہو یا نہیں۔“ (ابن ہشام نے کہا:) عبدالرحمان نے یہی کہا یا اسی طرح کہا۔ اسحاق نے اپنی حدیث کے آخر میں یہ اضافہ کیا: یحییٰ بن آدم سے روایت ہے کہ (علقمہ نے) کہا: میں نے یہ حدیث مقاتل بن حیان سے بیان کی۔۔ یحییٰ نے کہا: یعنی علقمہ نے ابن حیان سے بیان کی۔۔ تو انہوں نے کہا: مجھے مسلم بن ہیصم نے حضرت نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4522]
سلیمان بن بریدہ اپنے والد (حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ) سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کو لشکر یا دستے کا امیر مقرر کرتے تو اسے اس کی ذات کے سلسلے میں اللہ کے تقویٰ اور مسلمان ساتھیوں کے بارے میں بھلائی کی وصیت فرماتے، پھر فرماتے: ” «بِسْمِ اللَّهِ» ”اللہ کا نام لے کر“ اللہ کے راستے میں نکلو، اللہ کے ساتھ کفر کرنے والوں سے لڑائی کرو، جنگ کرو اور خیانت نہ کرو اور غدر (بد عہدی) سے باز رہو، کسی کے اعضا نہ کاٹو اور کسی بچے کو قتل نہ کرو، اور جب تمہارا مشرک دشمن سے مقابلہ ہو تو انہیں تین باتوں (خوبیوں) کی دعوت دو، سب سے پہلے انہیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دو، اگر وہ اسے مان لیں تو اسے قبول کر لو اور ان سے لڑائی کرنے سے رک جاؤ، پھر انہیں اپنے علاقے سے ہجرت کر کے مہاجرین کے علاقے میں آنے کی دعوت دو اور انہیں بتا دو کہ اگر انہوں نے ایسا کر لیا (ہجرت کر لی) تو انہیں مہاجرین والے حقوق حاصل ہوں گے اور ان پر مہاجرین والی ذمہ داریاں ہوں گی، اگر وہ اپنے علاقے کو چھوڑنے کے لیے تیار نہ ہوں تو انہیں بتا دو کہ وہ بدوی (جنگلی) مسلمانوں کی طرح ہوں گے، ان پر اللہ کا وہ حکم جاری ہوگا جو دوسرے مسلمانوں پر نافذ ہوتا ہے اور انہیں غنیمت اور فے سے کچھ نہیں ملے گا، الا یہ کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ جہاد میں شریک ہوں، اور اگر وہ اسلام لانے سے انکار کر دیں تو ان سے جزیہ دینے کا مطالبہ کرو، اگر وہ تمہاری اس بات کو قبول کر لیں تو ان سے اسے قبول کر لو اور ان سے جنگ کرنے سے باز رہو، اور اگر وہ اس سے بھی انکار کر دیں تو اللہ تعالیٰ سے مدد مانگ کر ان سے جنگ کرو، اور جب کسی قلعے والوں کا محاصرہ کرو اور وہ تم سے اللہ اور اس کے رسول کا عہد و پیمان مانگیں تو انہیں نہ اللہ کا عہد دو اور نہ اس کے رسول کا عہد دو، لیکن انہیں اپنا اور اپنے ساتھیوں کا عہد دو، کیونکہ اگر تم اپنا عہد اور اپنے ساتھیوں کا عہد توڑو تو یہ اس سے ہلکا ہے کہ تم اللہ کا عہد توڑو، اور جب تم کسی قلعے والوں کا محاصرہ کر لو اور وہ تم سے یہ چاہیں کہ انہیں اللہ کے حکم پر اتارو تو انہیں اللہ کے حکم پر نہ اتارو، بلکہ اپنے حکم پر اتارو، کیونکہ تمہیں معلوم نہیں کہ تم ان کے بارے میں اللہ کے حکم تک رسائی پاتے ہو یا نہیں؟“ عبدالرحمٰن نے کہا: یہی یا اس کی طرح، اور یحییٰ بن آدم سے اسحاق اپنی روایت میں یہ اضافہ کرتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث مقاتل بن حیان سے بیان کی، یحییٰ کہتے ہیں: یعنی علقمہ نے ابن حیان سے بیان کی تو اس نے کہا: مجھے سلم بن ہیصم نے حضرت نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے ہم معنی روایت سنائی۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4522]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1731
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
4522
| اغزوا باسم الله في سبيل الله قاتلوا من كفر بالله اغزوا ولا تغلوا ولا تغدروا ولا تمثلوا ولا تقتلوا وليدا |
سنن ابن ماجه |
2858
| اغزوا باسم الله وفي سبيل الله قاتلوا من كفر بالله اغزوا ولا تغدروا ولا تغلوا ولا تمثلوا ولا تقتلوا وليدا |
Sahih Muslim Hadith 4522 in Urdu
مسلم بن هيصم العبدي ← النعمان بن المقرن المزني