🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
84. باب ادنى اهل الجنة منزلة فيها:
باب: جنتوں میں سب سے کم تر درجہ والے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 189 ترقیم شاملہ: -- 465
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الأَشْعَثِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، وَابْنِ أَبْجَرَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ رِوَايَةً إِنْ شَاءَ اللَّهُ. ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفُ بْنُ طَرِيفٍ ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ سَعِيدٍ، سمعا الشعبي يخبر، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُهُ عَلَى الْمِنْبَرِ يَرْفَعُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وحَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ ، وَابْنُ أَبْجَرَ ، سمعا الشعبي ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ يُخْبِرُ بِهِ النَّاسَ عَلَى الْمِنْبَرِ، قَالَ سُفْيَانُ: رَفَعَهُ أَحَدُهُمَا، أُرَاهُ ابْنَ أَبْجَرَ، قَالَ: " سَأَلَ مُوسَى رَبَّهُ: مَا أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً؟ قَالَ: هُوَ رَجُلٌ يَجِيءُ بَعْدَ مَا أُدْخِلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ، فَيُقَالُ لَهُ: ادْخُلِ الْجَنَّةَ، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ كَيْفَ؟ وَقَدْ نَزَلَ النَّاسُ مَنَازِلَهُمْ وَأَخَذُوا أَخَذَاتِهِمْ، فَيُقَالُ لَهُ: أَتَرْضَى أَنْ يَكُونَ لَكَ مِثْلُ مُلْكِ مَلِكٍ مِنْ مُلُوكِ الدُّنْيَا؟ فَيَقُولُ: رَضِيتُ رَبِّ، فَيَقُولُ: لَكَ ذَلِكَ، وَمِثْلُهُ، وَمِثْلُهُ، وَمِثْلُهُ، وَمِثْلُهُ، فَقَالَ: فِي الْخَامِسَةِ رَضِيتُ رَبِّ، فَيَقُولُ: هَذَا لَكَ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ، وَلَكَ مَا اشْتَهَتْ نَفْسُكَ وَلَذَّتْ عَيْنُكَ، فَيَقُولُ: رَضِيتُ رَبِّ، قَالَ: رَبِّ فَأَعْلَاهُمْ مَنْزِلَةً، قَالَ: أُولَئِكَ الَّذِينَ أَرَدْتُ غَرَسْتُ كَرَامَتَهُمْ بِيَدِي وَخَتَمْتُ عَلَيْهَا، فَلَمْ تَرَ عَيْنٌ، وَلَمْ تَسْمَعْ أُذُنٌ، وَلَمْ يَخْطُرْ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ، قَالَ: وَمِصْدَاقُهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَلا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ سورة السجدة آية 17 الآيَة ".
ہمیں سعید بن عمر اشعثی نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث سنائی، انہوں نے مطرف اور (عبدالملک) ابن ابجر سے، انہوں نے شعبی سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے، ان شاء اللہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کردہ) روایت کے طور پر سنا، نیز ابن ابی عمر نے سفیان سے، انہوں نے مطرف اور عبدالملک بن سعید سے اور ان دونوں نے شعبی سے سن کر حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے خبر دی، کہا: میں نے ان سے منبر پر سنا، وہ اس بات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کر رہے تھے، نیز بشر بن حکم نے مجھ سے بیان کیا (روایت کے الفاظ انہی کے ہیں) سفیان بن عیینہ نے ہمیں حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں مطرف اور ابن ابجر نے حدیث بیان کی، ان دونوں نے شعبی سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: میں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ سے سنا، وہ منبر پر لوگوں کو (یہ) حدیث سنا رہے تھے۔ سفیان نے کہا: ان دونوں (استادوں) میں سے ایک (میرا خیال ہے ابن ابجر) نے اس روایت کو مرفوعاً (جسے صحابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہو) بیان کیا، آپ نے فرمایا: موسیٰ علیہ السلام نے رب تعالیٰ سے پوچھا: ’جنت میں سب سے کم درجے کا (جنتی) کون ہو گا؟‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’وہ (ایسا) آدمی ہو گا جو تمام اہل جنت کو جنت میں بھیج دیے جانے کے بعد آئے گا تو اس سے کہا جائے گا: جنت میں داخل ہو جا۔‘ وہ کہے گا: ’میرے رب! کیسے؟ لوگ اپنی اپنی منزلوں میں قیام پذیر ہو چکے ہیں اور جو لینا تھا سب کچھ لے چکے ہیں۔‘ تو اس سے کہا جائے گا: ’کیا تم اس پر راضی ہو جاؤ گے کہ تمہیں دنیا کے بادشاہوں میں سے کسی بادشاہ کے ملک کے برابر مل جائے؟‘ وہ کہے گا: ’میرے رب! میں راضی ہوں۔‘ اللہ فرمائے گا: ’وہ (ملک) تمہارا ہوا، پھر اتنا اور، پھر اتنا اور، پھر اتنا اور، پھر اتنا اور۔‘ پانچویں بار وہ آدمی (بے اختیار) کہے گا: ’میرے رب! میں راضی ہو گیا۔‘ اللہ عز وجل فرمائے گا: ’یہ (سب بھی) تیرا اور اس سے دس گنا مزید بھی تیرا، اور وہ سب کچھ بھی تیرا جو تیرا دل چاہے اور جو تیری آنکھوں کو بھائے۔‘ وہ کہے گا: ’اے میرے رب! میں راضی ہوں۔‘ پھر (موسیٰ علیہ السلام نے) کہا: ’اے پروردگار! تو وہ سب سے اونچے درجے کا ہے؟‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’یہی لوگ ہیں جو میری مراد ہیں، ان کی عزت و کرامت کو میں نے اپنے ہاتھوں سے کاشت کیا اور اس پر مہر لگا دی (جس کے لیے چاہا محفوظ کر لیا۔) (عزت کا) وہ (مقام) نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال تک گزرا۔‘ فرمایا: اس کا مصداق اللہ عز وجل کی کتاب میں موجود ہے: کوئی ذی روح نہیں جانتا کہ ان کے لیے آنکھوں کی کیسی ٹھنڈک چھپا کر رکھی گئی ہے۔‘ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 465]
امام صاحب رحمہ اللہ مختلف اساتذہ کی سندوں سے شعبی رحمہ اللہ سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے منبر پر سنا، وہ لوگوں کو بتا رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: موسیٰ علیہ السلام نے اپنے رب سے پوچھا: جنت میں سب سے کم مرتبہ جنتی کون ہوگا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وہ ایک شخص ہے، جب جنتی جنت میں داخل کر دیے جائیں گے اس کے بعد وہ آئے گا، تو اسے کہا جائے گا: جنت میں داخل ہو جا! تو وہ کہے گا: اے میرے رب! کیونکر؟ لوگ اپنی اپنی جگہوں میں اتر چکے ہیں اور اپنی عزت و کرامت لے چکے ہیں (یا اپنے گھروں کا رخ کر چکے ہیں)۔ تو اسے کہا جائے گا: کیا تم اس پر راضی ہو کہ تمہیں جنت میں اتنا علاقہ دے دیا جائے جتنا دنیا کے بادشاہوں میں سے کسی بادشاہ کی ملکیت میں ہوتا ہے؟ تو وہ کہے گا: اے میرے رب! میں راضی ہوں۔ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تجھے اتنا دیا اور اتنا اور، اور اتنا اور، اور اتنا اور، اور اتنا اور۔ پانچویں بار وہ آدمی کہے گا: اے میرے رب! میں راضی ہوں۔ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: یہ تجھے دیا اور اس سے دس گنا اور دیا، اور تیرے لیے وہ ہے جس کو تیرا جی چاہے اور جو تیری آنکھوں کو بھائے۔ تو وہ کہے گا: میں راضی ہوں اے میرے رب! پھر موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا: اے میرے رب! تو سب سے بلند مرتبہ والوں کو کیا ملے گا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں جن کو میں نے چنا، ان کی عزت و راحت کو اپنے ہاتھوں سے جمایا اور میں نے اس پر مہر لگائی، (ان نعمتوں کو) کسی آنکھ نے نہیں دیکھا، کسی کان نے نہیں سنا اور کسی دل میں ان کا خیال نہیں گزرا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی تصدیق اللہ عزوجل کی کتاب میں موجود ہے: ﴿فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ أُخْفِيَ لَهُم مِّن قُرَّةِ أَعْيُنٍ﴾ [سورة السجدة: 17] کوئی نہیں جانتا کہ ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے کیا کیا نعمتیں چھپائی گئی ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 465]
ترقیم فوادعبدالباقی: 189
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه الترمذي في ((جامعه)) في التفسير، باب: ومن سورة السجدة وقال: هذا حديث حسن صحيح برقم (3198) انظر ((التحفة)) برقم (11503) 329»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥المغيرة بن شعبة الثقفي، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عيسىصحابي
👤←👥عامر الشعبي، أبو عمرو
Newعامر الشعبي ← المغيرة بن شعبة الثقفي
ثقة
👤←👥عبد الملك بن أبجر الهمداني، أبو عبد الرحمن
Newعبد الملك بن أبجر الهمداني ← عامر الشعبي
ثقة
👤←👥مطرف بن طريف الحارثي، أبو بكر، أبو عبد الرحمن
Newمطرف بن طريف الحارثي ← عبد الملك بن أبجر الهمداني
ثقة ثبت
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← مطرف بن طريف الحارثي
ثقة حافظ حجة
👤←👥بشر بن الحكم العبدي، أبو عبد الرحمن
Newبشر بن الحكم العبدي ← سفيان بن عيينة الهلالي
ثقة
👤←👥المغيرة بن شعبة الثقفي، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عيسى
Newالمغيرة بن شعبة الثقفي ← بشر بن الحكم العبدي
صحابي
👤←👥عامر الشعبي، أبو عمرو
Newعامر الشعبي ← المغيرة بن شعبة الثقفي
ثقة
👤←👥عبد الملك بن أبجر الهمداني، أبو عبد الرحمن
Newعبد الملك بن أبجر الهمداني ← عامر الشعبي
ثقة
👤←👥مطرف بن طريف الحارثي، أبو بكر، أبو عبد الرحمن
Newمطرف بن طريف الحارثي ← عبد الملك بن أبجر الهمداني
ثقة ثبت
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← مطرف بن طريف الحارثي
ثقة حافظ حجة
👤←👥محمد بن أبي عمر العدني، أبو عبد الله
Newمحمد بن أبي عمر العدني ← سفيان بن عيينة الهلالي
ثقة
👤←👥المغيرة بن شعبة الثقفي، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عيسى
Newالمغيرة بن شعبة الثقفي ← محمد بن أبي عمر العدني
صحابي
👤←👥عامر الشعبي، أبو عمرو
Newعامر الشعبي ← المغيرة بن شعبة الثقفي
ثقة
👤←👥عبد الملك بن أبجر الهمداني، أبو عبد الرحمن
Newعبد الملك بن أبجر الهمداني ← عامر الشعبي
ثقة
👤←👥مطرف بن طريف الحارثي، أبو بكر، أبو عبد الرحمن
Newمطرف بن طريف الحارثي ← عبد الملك بن أبجر الهمداني
ثقة ثبت
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← مطرف بن طريف الحارثي
ثقة حافظ حجة
👤←👥سعيد بن عمرو الأشعثي، أبو عثمان
Newسعيد بن عمرو الأشعثي ← سفيان بن عيينة الهلالي
ثقة
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 465 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 465
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
:
(1)
أَخَذُوا أَخَذَاتِهِمْ:
انہوں نے عطا کردہ چیزیں لے لی ہیں،
یا انہوں نے اپنی منازل کا رخ کر لیا ہے۔
(2)
أَرَدْتُ:
میں نے انہیں چن لیا،
منتخب کر لیا۔
(3)
غَرَسْتُ كَرَامَتَهُمْ:
خود میں نے ان کی عزت و شرف کو گاڑا ہے،
میری لگائی اور جمائی ہوئی عزت میں تغیر و تبدیلی کا امکان نہیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 465]

Sahih Muslim Hadith 465 in Urdu