صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
49. باب عدد غزوات النبي صلى الله عليه وسلم:
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے جہاد کیے۔
ترقیم عبدالباقی: 1814 ترقیم شاملہ: -- 4695
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ . ح وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَرْمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ ، قَالَا جَمِيعًا، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " غَزَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعَ عَشْرَةَ غَزْوَةً، قَاتَلَ فِي ثَمَانٍ مِنْهُنَّ، وَلَمْ يَقُلْ أَبُو بَكْرٍ مِنْهُنَّ "، وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ.
ابوبکر بن ابی شیبہ نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں زید بن حباب نے حدیث بیان کی، نیز سعید بن محمد جرمی نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابوتمیلہ نے حدیث بیان کی، ان دونوں (زید اور ابوتمیلہ) نے کہا: ہمیں حسین بن واقد نے عبداللہ بن بریدہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انیس غزوے کیے، آپ نے ان میں سے آٹھ میں لڑائی کی۔ ابوبکر نے "منہن" (ان میں سے) روایت نہیں کیا اور انہوں نے اپنی حدیث میں کہا: مجھے عبداللہ بن بریدہ نے حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4695]
عبداللہ بن بریدہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انیس (19) غزوات میں شرکت کی اور ان میں سے آٹھ میں جنگ لڑی، ابوبکر کی روایت میں منهن [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4695]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1814
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
4473
| غزا مع رسول الله صلي الله عليه وسلم ست عشرة غزوة |
صحيح مسلم |
4696
| غزا مع رسول الله ست عشرة غزوة |
صحيح مسلم |
4695
| غزا رسول الله تسع عشرة غزوة قاتل في ثمان منهن ولم يقل أبو بكر منهن |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4695 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4695
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے،
بدر،
احد،
مریسیع،
خندق،
قریظہ،
خیبر،
مکہ،
حنین اور طائف کے غزوات میں جنگ میں حصہ لیا،
حضرت بریدہ نے خندق اور قریظہ کو یا حنین اور طائف کو ایک شمار کیا،
اس لیے تعداد آٹھ بتائی،
اس طرح قریبی غزوات کو ایک شمار کرنے سے تعداد غزوات کم ہو جاتی ہے۔
فوائد ومسائل:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے،
بدر،
احد،
مریسیع،
خندق،
قریظہ،
خیبر،
مکہ،
حنین اور طائف کے غزوات میں جنگ میں حصہ لیا،
حضرت بریدہ نے خندق اور قریظہ کو یا حنین اور طائف کو ایک شمار کیا،
اس لیے تعداد آٹھ بتائی،
اس طرح قریبی غزوات کو ایک شمار کرنے سے تعداد غزوات کم ہو جاتی ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4695]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4473
4473. حضرت بریدہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سولہ (16) غزوات میں شرکت کی تھی۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4473]
حدیث حاشیہ:
1۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات کی تعداد میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔
قابل اعتماد بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھارہ جنگیں لڑی ہیں۔
آٹھ میں قتل و غارت ہوئی۔
ان میں بدر، اُحد، احزاب، فریظہ، بئر معونہ، غزوہ بنو مصطلق، خیبر اور آٹھواں غزوہ فتح مکہ ہے۔
اس میں حنین اور طائف کا معرکہ بھی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ابو اسحاق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات اور ان کی تعداد کے متعلق بہت دلچسپی رکھتے تھے۔
یہی وجہ ہے کہ انھوں نے زید بن ارقم، حضرت براء بن عازب ؓ اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین سے اس کے متعلق سوالات کیے ہیں۔
(فتح الباري: 192/8)
امام بخاری ؒ نے کتب المغازی کو اس عنوان پر ختم کیا ہے تاکہ آغاز اور اختتام میں یکسانیت پیدا ہو جائے۔
واللہ اعلم علمه أتم۔
1۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات کی تعداد میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔
قابل اعتماد بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھارہ جنگیں لڑی ہیں۔
آٹھ میں قتل و غارت ہوئی۔
ان میں بدر، اُحد، احزاب، فریظہ، بئر معونہ، غزوہ بنو مصطلق، خیبر اور آٹھواں غزوہ فتح مکہ ہے۔
اس میں حنین اور طائف کا معرکہ بھی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ابو اسحاق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات اور ان کی تعداد کے متعلق بہت دلچسپی رکھتے تھے۔
یہی وجہ ہے کہ انھوں نے زید بن ارقم، حضرت براء بن عازب ؓ اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین سے اس کے متعلق سوالات کیے ہیں۔
(فتح الباري: 192/8)
امام بخاری ؒ نے کتب المغازی کو اس عنوان پر ختم کیا ہے تاکہ آغاز اور اختتام میں یکسانیت پیدا ہو جائے۔
واللہ اعلم علمه أتم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4473]
عبد الله بن بريدة الأسلمي ← بريدة بن الحصيب الأسلمي