🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
49. باب عدد غزوات النبي صلى الله عليه وسلم:
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے جہاد کیے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1814 ترقیم شاملہ: -- 4695
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ . ح وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَرْمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ ، قَالَا جَمِيعًا، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " غَزَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعَ عَشْرَةَ غَزْوَةً، قَاتَلَ فِي ثَمَانٍ مِنْهُنَّ، وَلَمْ يَقُلْ أَبُو بَكْرٍ مِنْهُنَّ "، وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ.
ابوبکر بن ابی شیبہ نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں زید بن حباب نے حدیث بیان کی، نیز سعید بن محمد جرمی نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابوتمیلہ نے حدیث بیان کی، ان دونوں (زید اور ابوتمیلہ) نے کہا: ہمیں حسین بن واقد نے عبداللہ بن بریدہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انیس غزوے کیے، آپ نے ان میں سے آٹھ میں لڑائی کی۔ ابوبکر نے "منہن" (ان میں سے) روایت نہیں کیا اور انہوں نے اپنی حدیث میں کہا: مجھے عبداللہ بن بریدہ نے حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4695]
عبداللہ بن بریدہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انیس (19) غزوات میں شرکت کی اور ان میں سے آٹھ میں جنگ لڑی، ابوبکر کی روایت میں منهن [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4695]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1814
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥بريدة بن الحصيب الأسلمي، أبو سهل، أبو ساسان، أبو عبد الله، أبو الحصيبصحابي
👤←👥عبد الله بن بريدة الأسلمي، أبو سهل
Newعبد الله بن بريدة الأسلمي ← بريدة بن الحصيب الأسلمي
ثقة
👤←👥الحسين بن واقد المروزي، أبو علي، أبو عبد الله
Newالحسين بن واقد المروزي ← عبد الله بن بريدة الأسلمي
صدوق حسن الحديث
👤←👥يحيى بن واضح الأنصاري، أبو تميلة
Newيحيى بن واضح الأنصاري ← الحسين بن واقد المروزي
ثقة
👤←👥سعيد بن محمد الجرمي، أبو محمد، أبو عبد الله
Newسعيد بن محمد الجرمي ← يحيى بن واضح الأنصاري
صدوق رمي بالتشيع
👤←👥زيد بن الحباب التميمي، أبو الحسين
Newزيد بن الحباب التميمي ← سعيد بن محمد الجرمي
صدوق حسن الحديث
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← زيد بن الحباب التميمي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
4473
غزا مع رسول الله صلي الله عليه وسلم ست عشرة غزوة
صحيح مسلم
4696
غزا مع رسول الله ست عشرة غزوة
صحيح مسلم
4695
غزا رسول الله تسع عشرة غزوة قاتل في ثمان منهن ولم يقل أبو بكر منهن
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4695 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4695
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے،
بدر،
احد،
مریسیع،
خندق،
قریظہ،
خیبر،
مکہ،
حنین اور طائف کے غزوات میں جنگ میں حصہ لیا،
حضرت بریدہ نے خندق اور قریظہ کو یا حنین اور طائف کو ایک شمار کیا،
اس لیے تعداد آٹھ بتائی،
اس طرح قریبی غزوات کو ایک شمار کرنے سے تعداد غزوات کم ہو جاتی ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4695]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4473
4473. حضرت بریدہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سولہ (16) غزوات میں شرکت کی تھی۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4473]
حدیث حاشیہ:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات کی تعداد میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔
قابل اعتماد بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھارہ جنگیں لڑی ہیں۔
آٹھ میں قتل و غارت ہوئی۔
ان میں بدر، اُحد، احزاب، فریظہ، بئر معونہ، غزوہ بنو مصطلق، خیبر اور آٹھواں غزوہ فتح مکہ ہے۔
اس میں حنین اور طائف کا معرکہ بھی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ابو اسحاق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات اور ان کی تعداد کے متعلق بہت دلچسپی رکھتے تھے۔
یہی وجہ ہے کہ انھوں نے زید بن ارقم، حضرت براء بن عازب ؓ اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین سے اس کے متعلق سوالات کیے ہیں۔
(فتح الباري: 192/8)
امام بخاری ؒ نے کتب المغازی کو اس عنوان پر ختم کیا ہے تاکہ آغاز اور اختتام میں یکسانیت پیدا ہو جائے۔
واللہ اعلم علمه أتم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4473]