🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب الناس تبع لقريش والخلافة في قريش:
باب: خلیفہ قریش میں سے ہونا چاہیئے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1821 ترقیم شاملہ: -- 4710
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ . ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: انْطَلَقْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعِي أَبِي، فَسَمِعْتُهُ، يَقُولُ: " لَا يَزَالُ هَذَا الدِّينُ عَزِيزًا مَنِيعًا إِلَى اثْنَيْ عَشَرَ خَلِيفَةً، فَقَالَ كَلِمَةً صَمَّنِيهَا النَّاسُ، فَقُلْتُ لِأَبِي: مَا قَالَ؟، قَالَ: كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ ".
عبداللہ بن عون نے شعبی سے، انہوں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گیا، میرے ساتھ میرے والد تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: بارہ خلفاء (کے عہد) تک مسلسل یہ دین غالب اور (دشمنوں سے) محفوظ رہے گا۔ پھر آپ نے کوئی کلمہ فرمایا جسے لوگوں نے مجھے سننے نہ دیا، میں نے اپنے والد سے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا؟ انہوں نے کہا: آپ نے فرمایا: وہ سب قریش میں سے ہوں گے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4710]
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں، میں اپنے باپ کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تو میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا، یہ دین غالب اور محفوظ رہے گا، یہاں تک کہ بارہ خلیفہ ہو جائیں گے۔ اور آپ نے ایک بات کہی، جو لوگوں (کے شور) نے مجھے سننے نہیں دی، تو میں نے اپنے باپ سے پوچھا، آپ نے کیا فرمایا؟ اس نے کہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب قریش میں سے ہوں گے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4710]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1821
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن سمرة العامري، أبو خالد، أبو عبد اللهصحابي
👤←👥عامر الشعبي، أبو عمرو
Newعامر الشعبي ← جابر بن سمرة العامري
ثقة
👤←👥عبد الله بن عون المزني، أبو عون
Newعبد الله بن عون المزني ← عامر الشعبي
ثقة ثبت فاضل
👤←👥أزهر بن سعد الباهلي، أبو بكر
Newأزهر بن سعد الباهلي ← عبد الله بن عون المزني
ثقة
👤←👥أحمد بن عثمان النوفلي، أبو الجوزاء، أبو عثمان
Newأحمد بن عثمان النوفلي ← أزهر بن سعد الباهلي
ثقة
👤←👥عبد الله بن عون المزني، أبو عون
Newعبد الله بن عون المزني ← أحمد بن عثمان النوفلي
ثقة ثبت فاضل
👤←👥يزيد بن زريع العيشي، أبو معاوية
Newيزيد بن زريع العيشي ← عبد الله بن عون المزني
ثقة ثبت
👤←👥نصر بن علي الأزدي، أبو عمرو
Newنصر بن علي الأزدي ← يزيد بن زريع العيشي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
7223
يكون اثنا عشر أميرا كلهم من قريش
صحيح مسلم
4711
لا يزال الدين قائما حتى تقوم الساعة يكون عليكم اثنا عشر خليفة كلهم من قريش عصيبة من المسلمين يفتتحون البيت الأبيض بيت كسرى أو آل كسرى بين يدي الساعة كذابين فاحذروهم إذا أعطى الله أحدكم خيرا فليبدأ بنفسه وأهل بيته
صحيح مسلم
4706
لا يزال أمر الناس ماضيا ما وليهم اثنا عشر رجلا كلهم من قريش
صحيح مسلم
4709
لا يزال هذا الأمر عزيزا إلى اثني عشر خليفة كلهم من قريش
صحيح مسلم
4708
لا يزال الإسلام عزيزا إلى اثني عشر خليفة كلهم من قريش
صحيح مسلم
4710
لا يزال هذا الدين عزيزا منيعا إلى اثني عشر خليفة كلهم من قريش
جامع الترمذي
2223
يكون من بعدي اثنا عشر أميرا كلهم من قريش
سنن أبي داود
4279
لا يزال هذا الدين قائما حتى يكون عليكم اثنا عشر خليفة كلهم تجتمع عليه الأمة كلهم من قريش
سنن أبي داود
4280
لا يزال هذا الدين عزيزا إلى اثني عشر خليفة كلهم من قريش
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4710 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4710
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
مَنِيعً:
قوت وزوروالا،
محفوظ۔
(2)
صَمَّنِيهَا النَّاسُ:
لوگوں نے مجھے اس سے بہرہ کردیا،
یعنی لوگوں کے شور کی وجہ سے میں اسے سن نہ سکا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4710]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 7223
7223. سیدنا جابر بن سمرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: میری امت میں بارہ امیر ہوں گے۔ پھر آپ نے کوئی ایسی بات کہی جو میں نہ سن سکا۔ بعد میں میرے والد گرامی نے بتایا کہ آپ نے فرمایا تھا: وہ سب کے سب قریش کے خاندان سے ہوں گے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:7223]
حدیث حاشیہ:
دوسری روایت میں ہے یہ دین برابر عزت سے رہے گا، بارہ خلیفوں کے زمانہ تک۔
ابوداؤد کی روایت میں یوں ہے کہ یہ دین برابر قائم رہے گا، یہاں تک کہ تم پر بارہ خلیفے ہوں گے اور سب پر اتفاق کرے گی۔
یہ بارہ خلیفے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں گزر چکے ہیں۔
حضرت صدیق﷜ سے لے کر عبدالعزیز  تک چودہ شخص حاکم ہوئے ہیں۔
ان میں سے دو کا زمانہ بہت قلیل رہا۔
ایک معاویہ بن یزید، دوسرے مروان کا۔
ان کو نکال ڈالو تو وہی بارہ خلیفہ ہوتے ہیں جنہوں نے بہت زور شور کے ساتھ خلافت کی۔
عمر بن عبدالعزیز کے بعد پھر زمانہ کا رنگ بدل گیا اور حضرت حسن اور عبداللہ بن زبیر﷢ پر گو سب لوگ جمع نہیں ہوئے تھے مگر اکثر لوگ تو پہلے جمع ہوگئے اس لیے ان دونوں صاحبوں کی بھی خلافت حق اور صحیح ہے۔
امامیہ نے اس حدیث سے یہ دلیل لی ہے کہ بارہ امام مراد ہیں یعنی حضرت علی﷜ سے لے کر جناب محمد بن حسن مہدی تک مگر اس میں یہ شبہ ہوتا ہے کہ حضرت حسن﷜ کے بعد پھر کسی امام پر لوگ جمع نہیں ہوئے نہ ان کو شوکت اور حکومت حاصل ہوئی بلکہ اکثر جان کے ڈر سے چھپے رہے تو یہ لوگ اس حدیث سے کیسےمراد ہوسکتے ہیں۔
واللہ أعلم
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7223]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:7223
7223. سیدنا جابر بن سمرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: میری امت میں بارہ امیر ہوں گے۔ پھر آپ نے کوئی ایسی بات کہی جو میں نہ سن سکا۔ بعد میں میرے والد گرامی نے بتایا کہ آپ نے فرمایا تھا: وہ سب کے سب قریش کے خاندان سے ہوں گے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:7223]
حدیث حاشیہ:

صحیح بخاری کی یہ روایت انتہائی مختصر ہے کیونکہ اس میں بارہ خلفاء کے اوصاف بیان نہیں ہوئے، صرف یہی ذکر ہوا ہے کہ وہ خاندان قریش سے ہوں گے۔
دیگر روایات سے پتا چلتا ہے کہ ان کے دورامارت میں اسلام خوب پھلے پھولے گا اور اسے غلبہ ہوگا اور اس کے ماننے والوں کی مخالفت ہوگی لیکن انھیں کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔
(صحیح مسلم، الأمارة، حدیث: 4708(1821)
اس حدیث میں دو باتیں مزید بیان کی جاتی ہیں جو سند کے اعتبار سے صحیح نہیں:
۔
ان خلفاء پر امت کا اتفاق ہوگا۔
۔
ان کے بعد قتل وغارت ہوگا جیسا کہ علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کے متعلق تفصیل سے لکھاہے۔
(سلسلة الأحادیث الصحیحة، رقم: 376)

ان خلفاء کی تعین کے متعلق بہت اختلاف ہے، اس لیے ہم نے دانستہ اس سے پہلوتہی کی ہے، البتہ شیعہ حضرات کہتے ہیں کہ ان سے مراد ان کے مزعومہ بارہ امام ہیں جو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے شروع ہوکر محمد بن حسن مہدی پر ختم ہوتے ہیں لیکن یہ اس لیےغلط ہے کہ ان کے دورحکومت میں اسلام کی کوئی شان وشوکت نہیں ملی بلکہ ان میں سے اکثر اپنی جان بچانے کے لیے چھپے رہے۔
ہمارے نزدیک شیعہ کا یہ موقف مبنی برحقیقت نہیں ہے۔
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7223]