الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
6. باب النهي عن الانتباذ في المزفت والدباء والحنتم والنقير وبيان انه منسوخ وانه اليوم حلال ما لم يصر مسكرا:
باب: مرتبان اور تونبے اور سبز لاکھی برتن اور لکڑی کے برتن میں نبیذ بنانے کی ممانعت اور اس کی منسوخی کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2000 ترقیم شاملہ: -- 5210
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي عُمَرَ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: " لَمَّا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّبِيذِ فِي الْأَوْعِيَةِ؟، قَالُوا: لَيْسَ كُلُّ النَّاسِ يَجِدُ، فَأَرْخَصَ لَهُمْ فِي الْجَرِّ غَيْرِ الْمُزَفَّتِ ".
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (بعض خاص) برتنوں میں نبیذ (بنانے) سے منع فرمایا (اور مشکیزوں میں مشروب بنانے اور پینے کا حکم دیا) تو لوگوں نے کہا: ہر شخص کو (مشکیزے یا دوسرے برتن) میسر نہیں ہوتے، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹی کے ایسے گھڑوں کی اجازت دی جس میں روغن زفت ملا ہوا نہ ہو۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5210]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ برتنوں میں نبیذ بنانے سے روک دیا، لوگوں نے کہا: ہر انسان کے پاس (چمڑے، مشکیزے) نہیں ہیں، تو آپ نے لاکھی برتن کے سوا، عام برتنوں (گھڑوں) کی انہیں اجازت دے دی۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5210]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2000
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
5593
| رخص لهم في الجر غير المزفت |
صحيح مسلم |
5210
| نهى رسول الله عن النبيذ في الأوعية قالوا ليس كل الناس يجد فأرخص لهم في الجر غير المزفت |
سنن النسائى الصغرى |
5653
| رخص في الجر غير مزفت |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5210 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5210
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
پہلے آپ نے عام گھڑوں کی اجازت دی تھی،
روغنی سے منع فرمایا تھا،
بعد میں سب برتنوں میں نبیذ بنانے کی اجازت دے دی،
جیسا کہ حضرت بریدہ کی حدیث میں گزر چکا ہے۔
فوائد ومسائل:
پہلے آپ نے عام گھڑوں کی اجازت دی تھی،
روغنی سے منع فرمایا تھا،
بعد میں سب برتنوں میں نبیذ بنانے کی اجازت دے دی،
جیسا کہ حضرت بریدہ کی حدیث میں گزر چکا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5210]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5593
5593. سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکیزوں کے سوا دوسرے مخصوص برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا تو لوگوں نے آپ سے عرض کی: ہر کسی کو مشکیزہ کہاں سے مل سکتا ہے؟ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تارکول کے برتن کے علاوہ مٹکوں میں نبیذ بنانے کی اجازت دے دی عبداللہ بن محمد کہتے ہیں کہ ہم سے سفیان ثوری نے یہی بیان کیا۔ اس میں یہ الفاظ ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چند برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5593]
حدیث حاشیہ:
لفظی ترجمہ تو یوں ہے آپ نے مشکوں میں نبیذ بھگونے سے منع فرمایا مگر یہ مطلب صحیح نہیں ہو سکتا کیونکہ آگے یہ مذکور ہے کہ ہر شخص کو مشکیں کیسے مل سکتی ہیں؟ اس روایت میں غلطی ہوئی ہے اور صحیح یوں ہے۔
نھیٰ عن الانتباذ إلا في الأسقیة۔
بعض علماء نے ان ہی احادیث کی رو سے گھڑوں اور لاکھی برتنوں اور کدو کے تونبے میں اب بھی نبیذ بھگونا مکروہ رکھا ہے لیکن اکثر علماء یہ کہتے ہیں کہ یہ ممانعت آپ نے اس وقت کی تھی جب شراب کی حرمت نئی نئی نازل ہوئی تھی کہ کہیں شراب کے برتنوں میں نبیذ بھگوتے بھگوتے لوگ پھر شراب کی طرف مائل نہ ہو جائیں۔
جب شراب کی حرمت دلوں پر جم گئی تو آپ نے یہ قید اٹھا دی۔
ہر برتن میں نبیذ بھگونے کی اجازت دے دی۔
(وحیدی)
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے یہی بیان کیا اور اس میں یوں ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چند برتنوں میں نبیذ بھگونے سے منع فرمایا۔
یہ بھی اسی وقت کا ذکر ہے جبکہ شراب حرام کی گئی تھی اور شراب کے برتنوں کے استعمال سے بھی روک دیا گیا تھا۔
بعد میں یہ ممانعت اٹھا دی گئی تھی۔
لفظی ترجمہ تو یوں ہے آپ نے مشکوں میں نبیذ بھگونے سے منع فرمایا مگر یہ مطلب صحیح نہیں ہو سکتا کیونکہ آگے یہ مذکور ہے کہ ہر شخص کو مشکیں کیسے مل سکتی ہیں؟ اس روایت میں غلطی ہوئی ہے اور صحیح یوں ہے۔
نھیٰ عن الانتباذ إلا في الأسقیة۔
بعض علماء نے ان ہی احادیث کی رو سے گھڑوں اور لاکھی برتنوں اور کدو کے تونبے میں اب بھی نبیذ بھگونا مکروہ رکھا ہے لیکن اکثر علماء یہ کہتے ہیں کہ یہ ممانعت آپ نے اس وقت کی تھی جب شراب کی حرمت نئی نئی نازل ہوئی تھی کہ کہیں شراب کے برتنوں میں نبیذ بھگوتے بھگوتے لوگ پھر شراب کی طرف مائل نہ ہو جائیں۔
جب شراب کی حرمت دلوں پر جم گئی تو آپ نے یہ قید اٹھا دی۔
ہر برتن میں نبیذ بھگونے کی اجازت دے دی۔
(وحیدی)
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے یہی بیان کیا اور اس میں یوں ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چند برتنوں میں نبیذ بھگونے سے منع فرمایا۔
یہ بھی اسی وقت کا ذکر ہے جبکہ شراب حرام کی گئی تھی اور شراب کے برتنوں کے استعمال سے بھی روک دیا گیا تھا۔
بعد میں یہ ممانعت اٹھا دی گئی تھی۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5593]
عمير بن الأسود العنسي ← عبد الله بن عمرو السهمي