صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
7. باب الاستئذان:
باب: اذن چاہنے کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 2153 ترقیم شاملہ: -- 5629
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّ أَبَا مُوسَى أَتَى بَابَ عُمَرَ، فَاسْتَأْذَنَ، فَقَالَ عُمَرُ: وَاحِدَةٌ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ الثَّانِيَةَ، فَقَالَ عُمَرُ: ثِنْتَانِ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ عُمَرُ: ثَلَاثٌ ثُمَّ انْصَرَفَ، فَأَتْبَعَهُ فَرَدَّهُ، فَقَالَ: إِنْ كَانَ هَذَا شَيْئًا حَفِظْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهَا وَإِلَّا فَلَأَجْعَلَنَّكَ عِظَةً، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَأَتَانَا، فَقَالَ: أَلَمْ تَعْلَمُوا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الِاسْتِئْذَانُ ثَلَاثٌ "، قَالَ: فَجَعَلُوا يَضْحَكُونَ، قَالَ: فَقُلْتُ: أَتَاكُمْ أَخُوكُمُ الْمُسْلِمُ قَدْ أُفْزِعَ تَضْحَكُونَ انْطَلِقْ فَأَنَا شَرِيكُكَ فِي هَذِهِ الْعُقُوبَةِ، فَأَتَاهُ، فَقَالَ: هَذَا أَبُو سَعِيدٍ.
بشر بن مفضل نے کہا: ہمیں سعید بن یزید نے ابونضرہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دروازے پر گئے اور اجازت طلب کی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ ایک بار ہے۔ پھر انہوں نے دوبارہ اجازت طلب کی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ دوسری بار ہے۔ پھر انہوں نے تیسری بار اجازت طلب کی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ تیسری بار ہے، پھر وہ لوٹ گئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے (اگلے دن) کسی کو ان کے پیچھے روانہ کیا اور انہیں دوبارہ بلا بھیجا۔ پھر (حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے) ان سے کہا: اگر یہ ایسی بات ہے جو تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (سن کر) یاد رکھی ہے تو ٹھیک ہے، اگر نہیں تو میں تمہیں (دوسروں کے لیے نشان) عبرت بنا دوں گا۔ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا: تو وہ ہمارے ہاں آئے اور کہنے لگے: تمہیں علم نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”اجازت تین بار طلب کی جاتی ہے؟“ کہا: تو لوگ ہنسنے لگے، کہا: میں نے (لوگوں سے کہا:) تمہارے پاس تمہارا مسلمان بھائی ڈرا ہوا آیا ہے اور تم ہنس رہے ہو؟ (پھر حضرت موسیٰ رضی اللہ عنہ سے کہا:) چلیں میں اس سزا میں آپ کا حصہ دار بنوں گا پھر وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: یہ ابوسعید ہیں (یہ میرے گواہ ہیں۔) [صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5629]
حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابو موسیٰ، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے دروازہ پر آئے اور اجازت طلب کی تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے دل میں کہا، ایک دفعہ، پھر انہوں نے دوبارہ اجازت طلب کی تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے سوچا، دو دفعہ، پھر انہوں نے تیسری دفعہ اجازت طلب کی تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، تین دفعہ ہو گیا، پھر ابو موسیٰ رضی اللہ تعالی عنہ واپس چلے گئے تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے ان کے پیچھے آدمی بھیج کر انہیں واپس بلوایا اور کہا، اگر یہ ایسی چیز ہے، جو تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے تو شہادت پیش کرو، وگرنہ میں تمہیں عبرت بنا دوں گا، ابو سعید رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں، سو وہ ہمارے پاس آئے اور کہنے لگے، کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ”اجازت، تین دفعہ طلب کی جاتی ہے؟“ تو حاضرین ہنسنے لگے، میں نے کہا، تمہارا مسلمان بھائی تمہارے پاس گھبرایا ہوا آیا ہے اور تم ہنس رہے ہو؟ چلو، میں اس عقوبت میں تمہارا ساتھی ہوں تو وہ عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس آ کر کہنے لگے، یہ ابو سعید (میرا گواہ ہے) [صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5629]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2153
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
5629
| الاستئذان ثلاث |
صحيح مسلم |
5628
| الاستئذان ثلاث فإن أذن لك وإلا فارجع |
صحيح مسلم |
5626
| إذا استأذن أحدكم ثلاثا فلم يؤذن له فليرجع |
جامع الترمذي |
2690
| الاستئذان ثلاث فإن أذن لك وإلا فارجع |
سنن أبي داود |
5180
| إذا استأذن أحدكم ثلاثا فلم يؤذن له فليرجع |
سنن ابن ماجه |
3706
| استأذنت الاستئذان الذي أمرنا به رسول الله ثلاثا فإن أذن لنا دخلنا وإن لم يؤذن لنا رجعنا |
مسندالحميدي |
751
| إذا استأذن أحدكم ثلاثا فلم يؤذن له فليرجع |
مسندالحميدي |
791
| إذا استأذن أحدكم ثلاثا فلم يؤذن له، فليرجع |
أبو سعيد الخدري ← عبد الله بن قيس الأشعري