Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. باب تحريم مناجاة الاثنين دون الثالث بغير رضاه:
باب: تین آدمی ہوں تو ان میں دو چپکے چپکے سرگوشی نہ کریں بغیر تیسرے کی رضا کے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2184 ترقیم شاملہ: -- 5696
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ مَنْصُورٍ . ح وحدثنا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وإسحاق بن إبراهيم، واللفظ لزهير، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قال: قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً فَلَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ الْآخَرِ حَتَّى تَخْتَلِطُوا بِالنَّاسِ مِنْ أَجْلِ أَنْ يُحْزِنَهُ ".
منصور نے ابووائل (شقیق) سے، انہوں نے عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہما) سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم تین لوگ (ایک ساتھ) ہو تو ایک کو چھوڑ کر دو آدمی باہم سرگوشی نہ کریں، یہاں تک کہ تم بہت سے لوگوں میں مل جاؤ، کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ (دو کی سرگوشی) اسے غم زدہ کر دے۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5696]
امام صاحب کے پاس اساتذہ، تین سندوں سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم تین افراد ہو تو دو، تیسرے کو چھوڑ کر باہمی سرگوشی نہ کرو، حتی کہ لوگوں سے گھل مل جاؤ، اس لیے کہ اس سے اسے غم ہو گا۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5696]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2184
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥شقيق بن سلمة الأسدي، أبو وائل
Newشقيق بن سلمة الأسدي ← عبد الله بن مسعود
مخضرم
👤←👥منصور بن المعتمر السلمي، أبو عتاب
Newمنصور بن المعتمر السلمي ← شقيق بن سلمة الأسدي
ثقة ثبت
👤←👥جرير بن عبد الحميد الضبي، أبو عبد الله
Newجرير بن عبد الحميد الضبي ← منصور بن المعتمر السلمي
ثقة
👤←👥إسحاق بن راهويه المروزي، أبو يعقوب
Newإسحاق بن راهويه المروزي ← جرير بن عبد الحميد الضبي
ثقة حافظ إمام
👤←👥عثمان بن أبي شيبة العبسي، أبو الحسن
Newعثمان بن أبي شيبة العبسي ← إسحاق بن راهويه المروزي
وله أوهام، ثقة حافظ شهير
👤←👥زهير بن حرب الحرشي، أبو خيثمة
Newزهير بن حرب الحرشي ← عثمان بن أبي شيبة العبسي
ثقة ثبت
👤←👥منصور بن المعتمر السلمي، أبو عتاب
Newمنصور بن المعتمر السلمي ← زهير بن حرب الحرشي
ثقة ثبت
👤←👥سلام بن سليم الحنفي، أبو الأحوص
Newسلام بن سليم الحنفي ← منصور بن المعتمر السلمي
ثقة متقن
👤←👥هناد بن السري التميمي، أبو السري
Newهناد بن السري التميمي ← سلام بن سليم الحنفي
ثقة
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← هناد بن السري التميمي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6290
إذا كنتم ثلاثة فلا يتناجى رجلان دون الآخر حتى تختلطوا بالناس أجل أن يحزنه
صحيح مسلم
5696
إذا كنتم ثلاثة فلا يتناجى اثنان دون الآخر حتى تختلطوا بالناس من أجل أن يحزنه
صحيح مسلم
5697
إذا كنتم ثلاثة فلا يتناجى اثنان دون صاحبهما إن ذلك يحزنه
جامع الترمذي
2825
إذا كنتم ثلاثة فلا يتناجى اثنان دون صاحبهما
سنن ابن ماجه
3775
إذا كنتم ثلاثة فلا يتناجى اثنان دون صاحبهما إن ذلك يحزنه
بلوغ المرام
1239
‏‏‏‏إذا كنتم ثلاثة فلا يتناجى اثنان دون الآخر حتى تختلطوا بالناس من اجل ان ذلك يحزنه
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5696 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5696
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
جب تین افراد اور لوگوں سے گھل مل جائیں گے تو دو افراد کی سرگوشی کی صورت میں تیسرا اور آدمیوں سے محو گفتگو ہو سکے گا،
اس طرح اسے پریشانی لاحق نہیں ہو گی۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5696]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عبدالسلام بن محمد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 1239
دو آدمی تیسرے آدمی کی موجودگی میں سرگوشی نہ کریں
«وعن ابن مسعود رضى الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: ‏‏‏‏إذا كنتم ثلاثة فلا يتناجى اثنان دون الآخر حتى تختلطوا بالناس من اجل ان ذلك يحزنه، متفق عليه واللفظ لمسلم»
اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم تین ہو تو دو آدمی تیسرے کے بغیر آپس میں سرگوشی نہ کریں یہاں تک کہ تم دوسرے لوگوں کے ساتھ مل جاؤ کیونکہ یہ چیز اسے غمگین کرے گی۔ متفق علیہ اور یہ الفاظ مسلم کے ہیں۔ [بلوغ المرام/كتاب الجامع/باب الأدب: 1239]
تخریج:
[بخاري:2688] ،
[مسلم، السلام 5696] ،
[بلوغ المرام: 1237]
[تحفة الأشراف 56/7]

مفردات:
«يحزنه» زاء کے کسرہ کے ساتھ «أكرم يكرم» کی طرح اور زاء کے ضمہ کے ساتھ «نصر ينصر» کی طرح متعدی ہے دونوں کا معنی غمگین کرنا ہے «ولا يحزنك الذين يسارعون فى الكفر» کفر میں آگے بڑھنے والے لوگ تجھے غمناک نہ کریں [آل عمران: 19] البتہ زاء کے فتحہ کے ساتھ «سمع» لازم ہے اس کا معنی غمگین ہونا ہے۔ «لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّـهَ مَعَنَا» غمگین نہ ہو بےشک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ [9-التوبة:40]

فوائد:
➊ دو آدمیوں کی آپس میں سرگوشی سے تیسرے ساتھی کے غمگین ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اسے خیال گزرے گا کہ یہ میرے خلاف کوئی منصوبہ بنا رہے ہیں یا کم از کم اتنی بات ضرور ہے کہ انہوں نے مجھے اس قابل نہیں سمجھا کہ مجھے اپنے راز میں شریک کریں۔
➋ دوسرے لوگوں سے مل جانے کے بعد دو آدمی آپس میں سرگوشی کر سکتے ہیں خواہ ایک آدمی بھی مزید مل جائے۔ کیونکہ دو آدمیوں کے آپس میں سرگوشی کرنے کی صورت میں تیرا اکیلا نہیں بلکہ اس کے ساتھ بھی ایک آدمی موجود ہے وہ آپس میں بات چیت کر سکتے ہیں۔ مالک نے عبداللہ بن دینار سے بیان کیا ہے کہ ایک دفعہ میں اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بازار میں خالد بن عقبہ کے گھر کے پاس تھے ایک آدمی آیا جو ان سے کوئی پوشیدہ بات کرنا چاہتا تھا اور اس وقت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس میرے علاوہ کوئی اور نہیں تھا تو انہوں نے ایک اور آدمی کو بلایا اور مجھ سے اور اس آدمی سے کہا: تم دونوں ذرا ٹھہرو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے پھر انہوں نے یہ حدیث بیان کی کہ جب تم تین آدمی ہو۔۔۔ الخ [موطا]
➌ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: ایک ساتھی کو چھوڑ کر دو آدمی سرگوشی نہیں کر سکتے تو دو سے زیادہ آدمی بھی ایک ساتھی کو اکیلا چھوڑ کر سرگوشی نہیں کر سکتے مثلاً تین یا دس آدمی اپنے کسی ایک ساتھی کو علیحدہ کر کے آپس میں سرگوشی کریں گے تو یہ چیز دو آدمیوں کے علیحدہ ہو کر سرگوشی کرنے سے بھی زیادہ باعث غم ہو گی۔ اس لئے جب تک اس کے ساتھ کوئی اور آدمی نہ ہو دوسرے ساتھیوں کو آپس میں سرگوشی کرنا جائز نہیں۔ [فتح الباري]
➍ دو آدمی اگر آپس میں کوئی راز کی بات کر رہے ہیں اور کوئی تیسرا اسے سننے کے لئے آ جائے تو یہ اس کے لئے جائز نہیں نہ ہی اس کے آنے سے ان کے لئے آپس میں سرگوشی منع ہو گی۔ سعید مقبری فرماتے ہیں کہ میں عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس سے گزرا ان کے ساتھ ایک آدمی باتیں کر رہا تھا میں ان کے پاس کھڑا ہو گیا تو انہوں نے میرے سینے میں دھکا دے کر کہا: جب تم دو آدمیوں کو بات کرتے ہوئے دیکھو تو جب تک اجازت نہ لے لو نہ ان کے پاس کھڑے ہو نہ بیٹھو۔ [صحيح الأدب المفرد للبخاري 1166/889]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ایسے لوگوں کی بات کان لگا کر سنے جو اس سے بھاگتے ہوں قیامت کے دن اس کے کانوں میں سیسہ ڈالا جائے گا۔ [عن ابن عباس احمد، ابوداود، الترمذي، صحيح الجامع 6370]
[شرح بلوغ المرام من ادلۃ الاحکام کتاب الجامع، حدیث/صفحہ نمبر: 34]

علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 1239
ادب کا بیان
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم تین (آدمی) ہو تو دو آدمی تیسرے کو الگ کر کے سرگوشی نہ کریں تاوقتیکہ وہ لوگوں کے ساتھ مل جل نہ جائیں کیونکہ اس طرح یہ چیز اسے غمگین اور رنجیدہ خاطر کرتی ہے۔ (بخاری و مسلم) اور یہ الفاظ مسلم کے ہیں۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1239»
تخریج:
«أخرجه البخاري، الاستئذان، باب إذا كانوا أكثر من ثلاثة...، حديث:6290، ومسلم، السلام، باب تحريم مناجاة الثنين دون الثالث بغير رضاه، حديث:2184.»
تشریح:
اس حدیث میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ ساتھی کو نظر انداز کر کے کانا پھوسی اور سرگوشی کرنا منع ہے۔
اس سے انسانی جذبات و احساسات کا احترام ملحوظ رکھنے کا سبق ملتا ہے کہ ایسا کام انجام نہ دیا جائے جس سے دوسرے کو تکلیف ہوتی ہو اور اسے خیال گزرے کہ یہ مجھے اپنا نہیں بلکہ غیر تصور کرتے ہیں یا اسے کھٹکا اور اندیشہ پیدا ہو کہ یہ دونوں میرے خلاف ساز باز کر رہے ہیں اور مجھے دھوکا دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس سے دوسرے کے جذبات و احساسات کو ٹھیس پہنچتی ہے‘ اس لیے تین آدمیوں کی مجلس میں دو کا علیحدہ ہو کر کانا پھوسی اور سرگوشی کرنا منع کیا گیا ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1239]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6290
6290. حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم تین آدمی ہوتو تیسرے ساتھی کو چھوڑ کر دو آدمی آپس میں سر گوشی نہ کیا کریں کیونکہ ایسا کرنے سے تیسرے کو رنج ہوگا۔ اگر لوگ آپس میں ملے جلے ہوں تو کوئی حرج نہیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6290]
حدیث حاشیہ:
(1)
یہ حدیث مفہوم مخالف کے اعتبار سے عنوان کے ساتھ مطابقت رکھتی ہے، یعنی اگر تین سے زیادہ ہوں تو ان میں سے دو آدمی خفیہ بات کرسکتے ہیں، چنانچہ ایک روایت میں ہے کہ راوئ حدیث ابو صالح نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا کہ اگر چار افراد ہوں تو؟ انھوں نے کہا:
اس میں کوئی حرج نہیں۔
(سنن أبي داود، الأدب، حدیث: 4852) (2)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کا یہ عمل تھا کہ اگر تین آدمیوں کی موجودگی میں کسی سے راز کی بات کرنا چاہتے تو کسی چوتھے آدمی کو ساتھ ملا لیتے۔
بہرحال تیسرے کو چھوڑ کو آپس میں سرگوشی کرنا یا کسی ایسی زبان میں بات کرنا جو اس کی سمجھ میں نہ آتی ہو اس کے لیے ازحد تکلیف کا باعث ہے اور اس کی عزت وکرامت کے بھی خلاف ہے۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6290]