🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. باب كراهة التداوي باللدود:
باب: منہ میں دوا ڈالنے کی کراہت کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2213 ترقیم شاملہ: -- 5761
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قالت: لَدَدْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ، فَأَشَارَ أَنْ لَا تَلُدُّونِي، فَقُلْنَا: كَرَاهِيَةَ الْمَرِيضِ لِلدَّوَاءِ، فَلَمَّا أَفَاقَ، قَالَ: " لَا يَبْقَى أَحَدٌ مِنْكُمْ إِلَّا لُدَّ غَيْرُ الْعَبَّاسِ فَإِنَّهُ لَمْ يَشْهَدْكُمْ ".
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض میں ہم نے آپ کی مرضی کے بغیر منہ کے کونے سے آپ کے دہن مبارک میں دوائی ڈالی، آپ نے اشارے سے روکا بھی کہ مجھے زبردستی دوائی نہ پلاؤ، ہم نے (آپس میں) کہا: یہ مریض کی طبعی طور پر دوائی کی ناپسندیدگی (کی وجہ سے) ہے۔ جب آپ کو افاقہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی نہ بچے، سب کو زبردستی (ہی) دوائی پلائی جائے، سوائے عباس رضی اللہ عنہما کے کیونکہ وہ تمہارے ساتھ موجود نہیں تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5761]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیماری میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو منہ کے ایک طرف سے دوائی پلانی چاہی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ سے فرمایا: مجھے منہ کے ایک طرف سے دوائی نہ پلاؤ تو ہم نے کہا بیمار دوا لینا پسند نہیں کرتاہے تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو افاقہ ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر فرد کو سوائے عباس کے لدود کیا جائے کیونکہ وہ تمھارے ساتھ موجود نہیں تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5761]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2213
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عبيد الله بن عبد الله الهذلي، أبو عبد الله
Newعبيد الله بن عبد الله الهذلي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه ثبت
👤←👥موسى بن أبي عائشة الهمداني، أبو الحسن، أبو بكر
Newموسى بن أبي عائشة الهمداني ← عبيد الله بن عبد الله الهذلي
ثقة يرسل
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← موسى بن أبي عائشة الهمداني
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← سفيان الثوري
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥محمد بن حاتم السمين، أبو عبد الله
Newمحمد بن حاتم السمين ← يحيى بن سعيد القطان
صدوق ربما وهم وكان فاضلا
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6886
لا يبقى أحد منكم إلا لد غير العباس فإنه لم يشهدكم
صحيح البخاري
4458
لا يبقى أحد في البيت إلا لد وأنا أنظر إلا العباس فإنه لم يشهدكم
صحيح البخاري
6897
لا يبقى منكم أحد إلا لد وأنا أنظر إلا العباس فإنه لم يشهدكم
صحيح مسلم
5761
لا يبقى أحد منكم إلا لد غير العباس فإنه لم يشهدكم
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5761 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5761
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
لددنا:
ہم نے(آپ کی مرضی کےخلاف)
آپ کے منہ ایک طرف سے دوائی پلائی،
کیونکہ لدود،
اس دوا کو کہتے ہیں،
جو منہ کے ایک جانب سے دی جائے۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے،
سمجھ میں آنے والا،
اشارہ تصریح کے قائم مقام ہے،
چونکہ لُدُود،
آپ کی بیماری کے مناسب نہ تھا،
اس لیے آپ نے اس سے منع فرمایا،
لیکن ازواج مطہرات نے خیال کیا،
آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہونے کے باعث دوا لینا پسند نہیں کر رہے،
اس لیے انہوں نے آپ کے حکم پر عمل نہ کیا تو آپ نے آئندہ حرکت سے باز رہنے کے لیے تادب و سرزنش کے طور پر سب حاضرین کو لدود کروایا،
یہ قصاص یا انتقام کے جذبہ کے تحت نہ تھا،
کیونکہ آپ کا معمول تو عفو و درگزر تھا،
انتقام لینا نہ تھا،
اس سے معلوم ہوتا ہے،
لدود کو ناپسند کرنا مخصوص حالات و ظروف کی بنا پر تھا،
اس لیے اس سے لدود کی ناپسندیدگی پر استدلال زیادہ وزنی نہیں ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5761]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4458
4458. حضرت عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بصورت لدود دوا پلانا چاہی تو آپ نے منع فرمایا۔ ہم سمجھے کہ آپ کا منع کرنا ایسا ہے جیسے ہر مریض دوا سے کراہت کرتا ہے۔ پھر آپ کو افاقہ ہوا تو آپ نے فرمایا: کیا میں تمہیں منع نہیں کرتا رہا کہ مجھے لدود کی صورت میں دوا مت پلاؤ؟ ہم نے عرض کی: مریض تو منع کیا ہی کرتا ہے۔ آپ نے فرمایا: گھر میں کوئی آدمی باقی نہ رہے، سب کے منہ میں دوا ڈالی جائے، صرف حضرت عباس کو چھوڑ دو کیونکہ وہ اس وقت تمہارے ساتھ موجود نہیں تھے۔ یہ روایت ابو الزناد نے بھی بیان کی ہے ہشام سے، انہوں نے اپنے والد (عروہ) سے، انہوں نے حضرت عائشہ‬ ؓ س‬ے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4458]
حدیث حاشیہ:

منہ کے ایک کنارے سے دوائی ڈالنے کو لدود، جو دوائی حلق میں ڈالی جائے اسے وجور اور جو ناک میں ڈالی جائے اسے سعوط کہا جاتا ہے۔
آپ کو نمونیا کی شکایت تھی۔
حضرت اُم سلمہ ؓ اور حضرت اسماء بنت عمیس ؓ نے کہا کہ قسط ہندی کو تیل میں ملا کر لدود کیا جائے۔
چنانچہ بصورت لدود آپ کو دوادی گئی تو آپ نے فرمایا۔
یہ عورتوں کا ٹوٹکا ہے۔
میرے روکنے کے باوجود تم نے ایسا کیا ہے اب تمھارے ساتھ بھی یہی سلوک کیا جائے گا حتی کہ اُم المومنین حضرت میمونہ ؓ روزے کی حالت میں تھیں ان کے ساتھ بھی یہ برتاؤ کیا گیا۔

واضح رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام اہل خانہ کو ادب سکھانے کے لیے بصورت لدود ان کے منہ میں دوا ڈالنے کا حکم دیا، تاکہ آئندہ ایسی حرکت نہ کریں۔
یہ اقدام قصاص یا انتقام کی وجہ سے نہ تھا۔
(فتح الباري: 185/8)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4458]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6886
6886. سیدہ عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے انہوں نے کہا: ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری میں آپ کے منہ میں آپ کی مرضی کے خلاف دوائی ڈالی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے حلق میں دوائی نہ ڈالو لیکن ہم نے خیال کیا کہ آپ بیمار ہونے کی وجہ سے دوائی کو پسند نہیں کر رہے۔ جب آپ کو افاقہ ہوا تو آپ نے فرمایا: تم جتنے لوگ گھر میں موجود ہو سب کے حلق میں ذبردستی دوا ڈالی جائے، سوائے عباس کے کیونکہ وہ اس وقت تمہارے ساتھ شامل نہیں تھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6886]
حدیث حاشیہ:
(1)
یہ مرض وفات کا واقعہ ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روکنے کے باوجود تمام اہل خانہ نے آپ کے منہ میں زبردستی دوا ڈال دی تو آپ نے بدلے کے طور پر تمام اہل مجلس کے منہ میں دوائی ڈالنے کا حکم دیا۔
چونکہ حضرت عباس رضی اللہ عنہما اس وقت وہاں موجود نہ تھے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اس سزا سے الگ رکھا۔
(2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
اس حدیث میں اشارہ ہے کہ اگر عورت کسی مرد کو کو زخمی کرتی ہے تو اس سے بھی بدلہ لیا جائے گا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں مرد اور عورتیں ہر قسم کے لوگ تھے، چنانچہ بعض روایات میں تصریح ہے کہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہما کے منہ میں بھی دوائی ڈالی گئی تھی، حالانکہ وہ روزے سے تھیں کیونکہ وہ بھی اس مجلس میں موجود تھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمومی امر دیا تھا جس کی زد میں وہ بھی آگئیں۔
(فتح الباري: 268/12)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6886]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6897
6897. سیدہ عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے انہوں نے کہا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے وقت آپ کے منہ میں دوائی ڈالی تو آپ نے ہمیں اشارہ فرمایا: تم ایسا نہ کرو۔ ہم نے سمجھا کا منع کرنا اس لیے ہے کہ بیمار کو دوا سے ناگواری ہوتی ہے، چنانچہ جب آپ کو افاقہ ہوا تو آپ نے فرمایا: میں نے تمہیں دوائی ڈالنے سے روکا تھا؟ ہم نے کہا: ہم یہ سمجھے تھے کہ دوا کی ناپسندیدگی کی وجہ سے آپ ایسا فرما رہے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر ایک کے منہ میں دوائی ڈالی جائے اور میں دیکھتا رہوں گا، البتہ عباس کے ساتھ یہ سلوک نہ کیا جائے کیونکہ وہ تمہارے ساتھ شامل نہیں تھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6897]
حدیث حاشیہ:
اس حدیث سے اگرچہ صاف طور پر قصاص ثابت نہیں ہوتا، تاہم یہ بات واضح ہے کہ ایک کام میں جو حضرات شریک تھے ان سب سے قصاص لیا گیا یا انھیں سزا دی گئی۔
بہرحال جب معمولی اشیاء میں قصاص ہے تو بڑے بڑے کاموں میں اگر کئی لوگ شریک ہو جائیں تو ان سے بطریق اولی قصاص لیا جائے گا، جیسے:
قتل اور چوری وغیرہ میں تمام شرکاء کو قصاص میں شامل کیا جائے گا۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6897]