🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
47. باب من فضائل غفار واسلم وجهينة واشجع ومزينة وتميم ودوس وطيئ:
باب: قبیلہ غفار، اسلم، جہینہ، اشجع، مزینہ، تمیم، دوس اور طی کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2525 ترقیم شاملہ: -- 6451
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : " لَا أَزَالُ أُحِبُّ بَنِي تَمِيمٍ مِنْ ثَلَاثٍ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: هُمْ أَشَدُّ أُمَّتِي عَلَى الدَّجَّالِ، قَالَ: وَجَاءَتْ صَدَقَاتُهُمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَذِهِ صَدَقَاتُ قَوْمِنَا، قَالَ: وَكَانَتْ سَبِيَّةٌ مِنْهُمْ عِنْدَ عَائِشَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَعْتِقِيهَا فَإِنَّهَا مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ ".
حارث نے ابوزرعہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں بنو تمیم کے ساتھ تین باتوں کی وجہ سے جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنیں محبت کرتا آرہا ہوں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: یہ میری امت میں سے دجال کے خلاف زیادہ سخت ہوں گے۔ کہا: اور ان لوگوں کے صدقات (زکاۃ کے اموال) آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ہماری اپنی قوم کے صدقات ہیں۔ کہا: ان میں سے جنگ میں پکڑی ہوئی ایک باندی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھی۔ آپ نے ان سے فرمایا: اسے آزاد کردو۔ یہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6451]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،میں بنوتمیم سے تین باتوں کے سبب جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہیں،محبت کرتارہوں گا،میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کویہ فرماتے سنا،"وہ میری اُمت میں سے سب سے زیادہ دجال کے لیے سخت ثابت ہوں گے۔"اور آپ کے پاس ان کے صدقات پہنچے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"یہ ہماری قوم کے صدقات ہیں،"اور ان میں سے ایک لونڈی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی ملکیت میں تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"اسے آزاد کردو،کیونکہ یہ حضرت اسماعیل کی اولاد میں سے ہے۔" [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6451]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2525
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥أبو زرعة بن عمرو البجلي، أبو زرعة
Newأبو زرعة بن عمرو البجلي ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥الحارث بن يزيد التيمي
Newالحارث بن يزيد التيمي ← أبو زرعة بن عمرو البجلي
ثقة ثقة
👤←👥المغيرة بن مقسم الضبي، أبو هشام، أبو هاشم
Newالمغيرة بن مقسم الضبي ← الحارث بن يزيد التيمي
ثقة مدلس
👤←👥جرير بن عبد الحميد الضبي، أبو عبد الله
Newجرير بن عبد الحميد الضبي ← المغيرة بن مقسم الضبي
ثقة
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← جرير بن عبد الحميد الضبي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
4366
هم أشد أمتي على الدجال وكانت فيهم سبية عند عائشة فقال أعتقيها فإنها من ولد إسماعيل وجاءت صدقاتهم فقال هذه صدقات قوم أو قومي
صحيح البخاري
2543
هم أشد أمتي على الدجال قال وجاءت صدقاتهم فقال رسول الله هذه صدقات قومنا وكانت سبية منهم عند عائشة فقال أعتقيها فإنها من ولد إسماعيل
صحيح مسلم
6451
هم أشد أمتي على الدجال قال وجاءت صدقاتهم فقال النبي هذه صدقات قومنا قال وكانت سبية منهم عند عائشة فقال رسول الله أعتقيها فإنها من ولد إسماعيل
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6451 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6451
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
بنو تمیم چونکہ حضرت اسماعیل کی اولاد سے ہیں،
اس لیے آپ نے ان کو اپنی قوم قرار دیا،
بنو تمیم کا نسب آپ کے ساتھ الیاس بن مضر پر جا کر مل جاتا ہے،
مذکورہ بالا روایات میں پانچ قبائل کو بنو تمیم پر برتری اور فضیلت بخشی گئی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے،
یہ کسی خوبی یا کمال کے حامل نہیں ہیں،
اور یہ ہر قسم کی فضیلت سے محروم ہیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6451]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2543
2543. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا: میں بنو تمیم سے برابر محبت کرتا رہتا ہوں، جب سے میں نے ان کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تین باتیں سنی ہیں۔ آپ فرماتے تھے: میری امت میں سے دجال پر یہی لوگ زیادہ سخت ہوں گے۔ ابوہریرہ ؓ کابیان ہے کہ ایک دفعہ ان کی طرف سے زکاۃ آئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ہماری قوم کی زکاۃ ہے۔ اور ان میں سے ایک لونڈی حضرت عائشہ ؓ کے پاس تھی جس کے متعلق آپ نے فرمایا: اسے آزاد کردے کیونکہ یہ حضرت اسماعیل ؑ کی اولاد سے ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2543]
حدیث حاشیہ:
حدیث ہذا میں ذکر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لونڈی عورت کے آزاد کرنے کا حضرت عائشہ ؓ کو حکم فرمایا اور ساتھ ہی ارشاد ہوا کہ یہ عورت حضرت اسماعیل ؑ کے خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔
لہٰذا معزز ترین خاندانی عورت ہے اسے آزاد کردو۔
اس سے مقصد باب ثابت ہوا کہ عربوں کو بھی غلام لونڈی بنایا جاسکتا ہے۔
اس عورت کا تعلق بنوتمیم سے تھا اور بنو تمیم کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ شرف عطا فرمایا کہ ان کو اپنی قوم قرار دیا، کیوں کہ یہ ایک عظیم عرب قبیلہ تھا جو تمیم بن مرہ کی طرف منسوب تھا۔
جس کا نسب نامہ یوں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتا ہے۔
تمیم بن مرہ بن ادبن طانحہ بن الیاس بن مضر۔
یہاں پہنچ کر یہ نسب نامہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مل جاتا ہے۔
اس قبیلہ نے بعد میں اسلام قبول کرلیا تھا۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت میں دجال کے مقابلہ پر یہ قبیلہ بہت سخت ہوگا جو لڑائی میں سختی کے ساتھ دجال کا مقابلہ کرے گا۔
ایک مرتبہ بنو تمیم کی زکوٰۃ وصول ہوکر دربار رسالت میں پہنچی تو آپ نے ازراہ کرم فرمایا یہ ہماری قوم کی زکوٰۃ ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بحالت کفر بھی اس خاندان کی اس قدر عزت افزائی فرمائی کہ اس سے تعلق رکھنے والی ایک لونڈی خاتون کو آزاد کردیا اور فرمایا یہ اولاد اسماعیل سے ہے۔
اس حدیث سے نسبی شرافت پر بھی کافی روشنی پڑتی ہے۔
اسلام نے نسبی شرافت میں غلو سے منع فرمایا ہے اور حد اعتدال میں نسبی شرافت کو آپ نے قائم رکھا ہے جیسا کہ اس حدیث سے پیچھے مذکور شدہ واقعات سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ حنین کے موقع پر اپنے آپ کو عبدالمطلب کا فرزند ہونے پر اظہار فخر فرمایا تھا۔
معلوم ہوا کہ اسلام سے پہلے کے غیرمسلم آباء و اجداد پر ایک مناسب حد تک فخر کیا جاسکتا ہے لیکن اگر یہی فخر باعث گھمنڈ و غرور بن جائے کہ دوسرے لوگ نگاہ میں حقیر نظر آئیں تو اس حالت میں خاندانی فخر کفر کا شیوہ ہے جو مسلمان کے لیے ہرگز لائق نہیں۔
فتح مکہ پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کی اس نخوت کے خلاف اظہار ناراضگی فرماکر قریش کو آگاہ فرمایاتھا کہ کُلُکُم بَنُو آدمَ و آدمُ مِن تُراب۔
تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم کی پیدائش مٹی سے ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2543]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4366
4366. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں اس وقت سے ہمیشہ بنو تمیم سے محبت کرتا ہوں جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی ان کی تین خوبیاں سنی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق فرمایا: بنو تمیم دجال کے خلاف میری امت میں سب سے زیادہ سخت لوگ ثابت ہوں گے۔ بنو تمیم کی ایک قیدی خاتون حضرت عائشہ‬ ؓ ک‬ے پاس تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے آزاد کر دو کیونکہ یہ اسماعیل ؑ کی اولاد میں سے ہے۔ بنو تمیم کے صدقات آئے تو آپ نے فرمایا: یہ ایک قوم یا میری قوم کے صدقات ہیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4366]
حدیث حاشیہ:
کیونکہ بنو تمیم الیاس بن مضر میں جاکر آنحضر ت صلی اللہ علیہ وسلم سے مل جاتے ہیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4366]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2543
2543. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا: میں بنو تمیم سے برابر محبت کرتا رہتا ہوں، جب سے میں نے ان کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تین باتیں سنی ہیں۔ آپ فرماتے تھے: میری امت میں سے دجال پر یہی لوگ زیادہ سخت ہوں گے۔ ابوہریرہ ؓ کابیان ہے کہ ایک دفعہ ان کی طرف سے زکاۃ آئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ہماری قوم کی زکاۃ ہے۔ اور ان میں سے ایک لونڈی حضرت عائشہ ؓ کے پاس تھی جس کے متعلق آپ نے فرمایا: اسے آزاد کردے کیونکہ یہ حضرت اسماعیل ؑ کی اولاد سے ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2543]
حدیث حاشیہ:

قبیلۂ بنو تمیم کا تعلق عرب قبائل سے ہے۔
یہ قبیلہ تمیم بن مرہ کی طرف منسوب تھا۔
اس قبیلے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ شرف عطا فرمایا کہ انہیں اپنی قوم قرار دیا۔
حدیث پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ عربوں کو غلام لونڈی بنایا جا سکتا ہے کیونکہ اس لونڈی کا تعلق حضرت اسماعیل ؑ کے خاندان سے تھا جسے حضرت عائشہ ؓ نے آزاد کیا تھا۔
(2)
حضرت عائشہ ؓ نے نذر مانی تھی کہ اسماعیلی غلام آزاد کروں گی کیونکہ حضرت اسماعیل ؑ کی اولاد سے غلام آزاد کرنا اللہ کے ہاں بہت مقام رکھتا ہے۔
علامہ اسماعیلی کی روایت کے مطابق جب قبیلۂ بنو تمیم کی شاخ بنو عنبر کے قیدی آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ ؓ سے فرمایا:
اسے خرید کر آزاد کر دو کیونکہ یہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد سے ہیں۔
اس سے معلوم ہوا کہ عرب لونڈی غلام کو فروخت بھی کیا جا سکتا ہے اور انہیں خریدا بھی جا سکتا ہے۔
(فتح الباري: 213/5)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2543]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4366
4366. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں اس وقت سے ہمیشہ بنو تمیم سے محبت کرتا ہوں جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی ان کی تین خوبیاں سنی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق فرمایا: بنو تمیم دجال کے خلاف میری امت میں سب سے زیادہ سخت لوگ ثابت ہوں گے۔ بنو تمیم کی ایک قیدی خاتون حضرت عائشہ‬ ؓ ک‬ے پاس تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے آزاد کر دو کیونکہ یہ اسماعیل ؑ کی اولاد میں سے ہے۔ بنو تمیم کے صدقات آئے تو آپ نے فرمایا: یہ ایک قوم یا میری قوم کے صدقات ہیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4366]
حدیث حاشیہ:

مذکورہ عنوان پہلے عنوان کا تکملہ ہے۔
پہلی حدیث میں بنو تمیم کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اظہار ناراضی فرمایا۔
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ بنو تمیم قبیلہ ایسا نہیں تھا بلکہ ان کے چند افراد سے یہ غلطی ہوئی تھی۔

اس حدیث میں بنو تمیم کی فضیلت بیان کی گئی ہے اور ان کی تین خصلتیں ذکر کی ہیں جن کی بنا پر حضرت ابوہریرہ ؓ اس قبیلے سے محبت کرتے تھے۔
آج بھی سعودی عرب میں جہاں بنوتمیم رہتے ہیں وہ کتاب وسنت پر بڑی سختی سے عمل پیرا ہیں اور سنت کے مطابق رفع الیدین سے نمازیں ادا کرتے ہیں۔
امام بخاری ؒ نے بنوتمیم کی فضیلت ثابت کرنے کے لیے یہ حدیث بیان کی ہے تاکہ پہلی حدیث سے جو شبہ پیدا ہوتا تھا وہ دور ہوجائے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4366]