الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
50. باب المرء مع من احب:
باب: آدمی اسی کے ساتھ ہو گا جس سے دو ستی رکھے۔
ترقیم عبدالباقی: 2640 ترقیم شاملہ: -- 6718
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ عُثْمَانُ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ تَرَى فِي رَجُلٍ أَحَبَّ قَوْمًا وَلَمَّا يَلْحَقْ بِهِمْ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ ".
جریر نے (سلیمان) اعمش سے، انہوں نے ابووائل سے، انہوں نے حضرت عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہ) سے روایت کی، کہا: ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس نے کہا: اللہ کے رسول! آپ اس شخص کو کیسے دیکھتے ہیں جو کسی قوم سے محبت کرتا ہے مگر ابھی تک اس کے ساتھ نہیں ملا؟ (اعمال میں ان سے بہت پیچھے ہے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی اسی کے ساتھ ہو گا جس سے وہ محبت کرتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6718]
حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر پوچھنے لگا،اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کا اس آدمی کے بارے میں کیا خیال ہے جو کچھ لوگوں سے محبت رکھتا اور ابھی تک ان جیسے عمل نہیں کر سکا؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"انسان کا انجام انہیں کے ساتھ ہو گا جن سے وہ محبت کرتا ہے۔" [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6718]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2640
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6718 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6718
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
یہ سوال کرنے والے مختلف صحابہ کرام،
ابو موسیٰ،
صفوان بن قدامہ اور ابوذر رضی اللہ عنہم وغیرہم ہیں۔
(فتح الباری ج،
بحوالہ تکملہ ج 5 ص 465)
فوائد ومسائل:
یہ سوال کرنے والے مختلف صحابہ کرام،
ابو موسیٰ،
صفوان بن قدامہ اور ابوذر رضی اللہ عنہم وغیرہم ہیں۔
(فتح الباری ج،
بحوالہ تکملہ ج 5 ص 465)
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6718]
شقيق بن سلمة الأسدي ← عبد الله بن مسعود