صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
5. باب رفع العلم وقبضه وظهور الجهل والفتن في آخر الزمان:
باب: آخر زمانہ میں علم کی کمی ہونا۔
ترقیم عبدالباقی: 2671 ترقیم شاملہ: -- 6785
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ وَيَثْبُتَ الْجَهْلُ، وَيُشْرَبَ الْخَمْرُ وَيَظْهَرَ الزِّنَا ".
ابوتیاح نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کی علامات میں سے یہ (بھی) ہیں کہ علم اٹھ جائے گا، جہالت جاگزیں ہو جائے گی، شراب پی جانے لگے گی اور زنا کھل کر ہونے لگے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب العلم/حدیث: 6785]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کی علامت میں سے ہے علم اٹھا لیا جائے گا، جہالت پھیل جائے گی، شراب پی جائے گی اور زنا عام ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب العلم/حدیث: 6785]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2671
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
6785
| هلك المتنطعون |
سنن أبي داود |
4608
| هلك المتنطعون |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6785 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6785
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
علم اٹھنے اور جہالت کے جمنے یا پھیلنے سے مراد یہ ہے کہ علم دین میں رسول ختم ہو جائے گا،
آہستہ آہستہ پختہ کار اور باعمل علماء اٹھ جائیں گے اور ان کی جگہ کم علم،
بدعمل افراد آ جائیں گے،
جنہیں دینی مسائل کی واقفیت کم ہو گی،
بدعملی زیادہ ہو گی اور انہی کو لوگوں میں عزت و شرف حاصل ہو گا اور اس کا آغاز عرصہ دراز سے شروع ہو چکا ہے،
قاضی عیاض م 544ھ نے اپنے دور کے علماء کے بارے میں یہی لکھا ہے کہ ہمارے دور میں اس کا مصداق ظاہر ہو گیا ہے،
کیونکہ اب لوگوں نے جہلاء کو امیر بنا لیا ہے اور وہ اللہ کے دین میں اپنی رائے سے فتویٰ دے رہے ہیں اور اپنی رائے سے حکم لگا رہے ہیں،
آج کاغذی علم عام ہو گیا ہے،
کتابیں دن بہ دن نئی نئی آ رہی ہیں،
لیکن ان کو پڑھنے والے اور سمجھنے والے دن بہ دن کم ہو رہے ہیں،
دنیوی علوم کے مقابلہ میں دینی علوم کی کوئی اہمیت نہیں رہی،
سکولوں اور کالجوں میں تعداد دن بہ دن بڑھ رہی ہے اور دینی طلبہ کی کمی ہو رہی ہے،
شراب،
زنا عام ہے اور فحاشی اور عریانی کا سیلاب آیا ہوا ہے،
علانیہ فسق و فجور کا ارتکاب ہو رہا ہے۔
فوائد ومسائل:
علم اٹھنے اور جہالت کے جمنے یا پھیلنے سے مراد یہ ہے کہ علم دین میں رسول ختم ہو جائے گا،
آہستہ آہستہ پختہ کار اور باعمل علماء اٹھ جائیں گے اور ان کی جگہ کم علم،
بدعمل افراد آ جائیں گے،
جنہیں دینی مسائل کی واقفیت کم ہو گی،
بدعملی زیادہ ہو گی اور انہی کو لوگوں میں عزت و شرف حاصل ہو گا اور اس کا آغاز عرصہ دراز سے شروع ہو چکا ہے،
قاضی عیاض م 544ھ نے اپنے دور کے علماء کے بارے میں یہی لکھا ہے کہ ہمارے دور میں اس کا مصداق ظاہر ہو گیا ہے،
کیونکہ اب لوگوں نے جہلاء کو امیر بنا لیا ہے اور وہ اللہ کے دین میں اپنی رائے سے فتویٰ دے رہے ہیں اور اپنی رائے سے حکم لگا رہے ہیں،
آج کاغذی علم عام ہو گیا ہے،
کتابیں دن بہ دن نئی نئی آ رہی ہیں،
لیکن ان کو پڑھنے والے اور سمجھنے والے دن بہ دن کم ہو رہے ہیں،
دنیوی علوم کے مقابلہ میں دینی علوم کی کوئی اہمیت نہیں رہی،
سکولوں اور کالجوں میں تعداد دن بہ دن بڑھ رہی ہے اور دینی طلبہ کی کمی ہو رہی ہے،
شراب،
زنا عام ہے اور فحاشی اور عریانی کا سیلاب آیا ہوا ہے،
علانیہ فسق و فجور کا ارتکاب ہو رہا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6785]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4608
سنت کی پیروی ضروری ہے۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا: ”سنو، بہت زیادہ بحث و تکرار کرنے اور جھگڑنے والے ہلاک ہو گئے ۱؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4608]
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا: ”سنو، بہت زیادہ بحث و تکرار کرنے اور جھگڑنے والے ہلاک ہو گئے ۱؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4608]
فوائد ومسائل:
قرآن وحدیث کے عام فہم معنی پر عمل کرنا واجب ہے۔
بال کی کھال اتارنا اور دور دراز کی کوڑیاں لانا اور لا یعنی تکلفات میں پڑنا یا دوسروں کو اس میں مبتلا کرنا دین نہیں ہے۔
قرآن وحدیث کے عام فہم معنی پر عمل کرنا واجب ہے۔
بال کی کھال اتارنا اور دور دراز کی کوڑیاں لانا اور لا یعنی تکلفات میں پڑنا یا دوسروں کو اس میں مبتلا کرنا دین نہیں ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4608]
Sahih Muslim Hadith 6785 in Urdu
يزيد بن حميد الضبعي ← أنس بن مالك الأنصاري