صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
16. باب في التعوذ من سوء القضاء ودرك الشقاء وغيره:
باب: بری قضا اور بدبختی سے پناہ مانگنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2708 ترقیم شاملہ: -- 6878
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ يَعْقُوبَ ، أَنَّ يَعْقُوبَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ خَوْلَةَ بِنْتَ حَكِيمٍ السُّلَمِيَّةَ ، تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ نَزَلَ مَنْزِلًا، ثُمَّ قَالَ: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ، لَمْ يَضُرَّهُ شَيْءٌ حَتَّى يَرْتَحِلَ مِنْ مَنْزِلِهِ ذَلِكَ ".
لیث نے یزید بن ابی حبیب سے اور انہوں نے حارث بن یعقوب سے روایت کی کہ یعقوب بن عبداللہ نے انہیں حدیث سنائی، انہوں نے بسر بن سعید کو یہ کہتے ہوئے سنا، میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا، کہا: میں نے حضرت خولہ بنت حکیم سلمیہ سے سنا، وہ کہتی تھیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص کسی (بھی) منزل پر اترا اور اس نے یہ کلمات کہے: «اعوذ بکلمات اللہ التامات من شر ما خلق» میں اللہ (سے اس) کے مکمل ترین کلمات کی پناہ طلب کرتا ہوں ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی، تو اس شخص کو اس منزل سے چلے جانے تک کوئی چیز نقصان نہیں پہنچائے گی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار/حدیث: 6878]
حضرت خولہ بنت حکیم سلمیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا، "جس نے کہیں پڑاؤ کیا پھر یہ کلمات کہے میں اللہ کے کلمات تامہ کی پناہ لیتا ہوں، اس کی ساری مخلوقات کے شر سے تو جب تک وہ اس منزل سے روانہ نہ ہو جائے گا، اس کوکوئی چیز ضرر نہیں پہنچاسکے گی۔ [صحيح مسلم/كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار/حدیث: 6878]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2708
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
6878
| من نزل منزلا ثم قال أعوذ بكلمات الله التامات من شر ما خلق لم يضره شيء حتى يرتحل من منزله ذلك |
صحيح مسلم |
6879
| إذا نزل أحدكم منزلا فليقل أعوذ بكلمات الله التامات من شر ما خلق فإنه لا يضره شيء حتى يرتحل منه |
جامع الترمذي |
3437
| من نزل منزلا ثم قال أعوذ بكلمات الله التامات من شر ما خلق لم يضره شيء حتى يرتحل من منزله ذلك |
سنن ابن ماجه |
3547
| لو أن أحدكم إذا نزل منزلا قال أعوذ بكلمات الله التامة من شر ما خلق لم يضره في ذلك المنزل شيء حتى يرتحل منه |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6878 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6878
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اللہ کے کلمات تامہ سے مراد،
وہ کلمات ہیں جو ہر عیب و نقص سے پاک ہیں،
نفع اور شفا بخش ہیں،
پر زور تاثیر ہیں،
اس لیے بعض نے ان سے مراد،
قرآن لیا ہے کہ میں اس کی پناہ میں آتا ہوں اور قرآن اللہ کا کلام ہے اور اس کی صفت ہے،
اس کی صفت کی پناہ لینا جائز ہے۔
فوائد ومسائل:
اللہ کے کلمات تامہ سے مراد،
وہ کلمات ہیں جو ہر عیب و نقص سے پاک ہیں،
نفع اور شفا بخش ہیں،
پر زور تاثیر ہیں،
اس لیے بعض نے ان سے مراد،
قرآن لیا ہے کہ میں اس کی پناہ میں آتا ہوں اور قرآن اللہ کا کلام ہے اور اس کی صفت ہے،
اس کی صفت کی پناہ لینا جائز ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6878]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3547
گھبراہٹ کے وقت اور نیند اچاٹ ہونے پر کیا دعا پڑھے؟
خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی کسی مقام پر اترے تو وہ اس وقت یہ دعا پڑھے: «أعوذ بكلمات الله التامة من شر ما خلق- لم يضره في ذلك المنزل شيء حتى يرتحل منه» ”میں پناہ مانگتا ہوں اللہ تعالیٰ کے تمام کلمات کی ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کیا“ تو اس مقام پر کوئی چیز اسے ضرر نہیں پہنچا سکتی یہاں تک کہ وہ وہاں سے روانہ ہو جائے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3547]
خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی کسی مقام پر اترے تو وہ اس وقت یہ دعا پڑھے: «أعوذ بكلمات الله التامة من شر ما خلق- لم يضره في ذلك المنزل شيء حتى يرتحل منه» ”میں پناہ مانگتا ہوں اللہ تعالیٰ کے تمام کلمات کی ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کیا“ تو اس مقام پر کوئی چیز اسے ضرر نہیں پہنچا سکتی یہاں تک کہ وہ وہاں سے روانہ ہو جائے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3547]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
سفر میں کسی مقام پر دوپہر یا رات کو آرام کرنے کےلئے رکنا پڑے تو جانوروں کو بٹھا کر سامان اٹھا کر یہ دعا پڑھ لینی چاہیے۔
(2)
کسی ہوٹل میں ٹھرتے وقت بھی اپنے کمرے میں داخل ہوکر یہ دعا پڑھ لیں۔
(3)
اللہ کی تعریف کے کلمات اور اللہ تعالیٰ کے اسمائےحسنیٰٰ اور صفات مقدسہ کے ذکر میں بہت برکات ہیں۔
(4)
اللہ کی صفات کی پناہ لینے سے مراد اللہ کی ذات کی پناہ ہے۔
کیونکہ اللہ تعالیٰ ان صفات سے متصف ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
سفر میں کسی مقام پر دوپہر یا رات کو آرام کرنے کےلئے رکنا پڑے تو جانوروں کو بٹھا کر سامان اٹھا کر یہ دعا پڑھ لینی چاہیے۔
(2)
کسی ہوٹل میں ٹھرتے وقت بھی اپنے کمرے میں داخل ہوکر یہ دعا پڑھ لیں۔
(3)
اللہ کی تعریف کے کلمات اور اللہ تعالیٰ کے اسمائےحسنیٰٰ اور صفات مقدسہ کے ذکر میں بہت برکات ہیں۔
(4)
اللہ کی صفات کی پناہ لینے سے مراد اللہ کی ذات کی پناہ ہے۔
کیونکہ اللہ تعالیٰ ان صفات سے متصف ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3547]
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3437
آدمی جب کسی منزل پر اترے تو کیا پڑھے؟
خولہ بنت حکیم سلمیہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی منزل پر اترے اور یہ دعا پڑھے: «أعوذ بكلمات الله التامات من شر ما خلق» ”میں اللہ کے مکمل کلموں کے ذریعہ اللہ کی پناہ میں آتا ہوں اس کی ساری مخلوقات کے شر سے“، تو جب تک کہ وہ اپنی اس منزل سے کوچ نہ کرے اسے کوئی چیز نقصان نہ پہنچائے گی۔“ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3437]
خولہ بنت حکیم سلمیہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی منزل پر اترے اور یہ دعا پڑھے: «أعوذ بكلمات الله التامات من شر ما خلق» ”میں اللہ کے مکمل کلموں کے ذریعہ اللہ کی پناہ میں آتا ہوں اس کی ساری مخلوقات کے شر سے“، تو جب تک کہ وہ اپنی اس منزل سے کوچ نہ کرے اسے کوئی چیز نقصان نہ پہنچائے گی۔“ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3437]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
میں اللہ کے مکمل کلموں کے ذریعہ اللہ کی پناہ میں آتا ہوں اس کی ساری مخلوقات کے شر سے۔
وضاحت:
1؎:
میں اللہ کے مکمل کلموں کے ذریعہ اللہ کی پناہ میں آتا ہوں اس کی ساری مخلوقات کے شر سے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3437]
سعد بن أبي وقاص الزهري ← خولة بنت حكيم السلمية