سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
45. باب : الفزع والأرق وما يتعوذ منه
باب: گھبراہٹ کے وقت اور نیند اچاٹ ہونے پر کیا دعا پڑھے؟
حدیث نمبر: 3547
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا وَهْيبٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ , عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ , عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ , أَنَّ ّالنَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا نَزَلَ مَنْزِلًا , قَالَ: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ , لَمْ يَضُرَّهُ فِي ذَلِكَ الْمَنْزِلِ شَيْءٌ حَتَّى يَرْتَحِلَ مِنْهُ".
خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی کسی مقام پر اترے تو وہ اس وقت یہ دعا پڑھے: «أعوذ بكلمات الله التامة من شر ما خلق- لم يضره في ذلك المنزل شيء حتى يرتحل منه» ”میں پناہ مانگتا ہوں اللہ تعالیٰ کے تمام کلمات کی ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کیا“ تو اس مقام پر کوئی چیز اسے ضرر نہیں پہنچا سکتی یہاں تک کہ وہ وہاں سے روانہ ہو جائے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3547]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الذکر والدعاء 16 (2708)، سنن الترمذی/الدعوات 41 (3437)، (تحفة الأشراف: 15826)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/ 337، 378، 409)، سنن الدارمی/الاستئذان 48 (2722) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
6878
| من نزل منزلا ثم قال أعوذ بكلمات الله التامات من شر ما خلق لم يضره شيء حتى يرتحل من منزله ذلك |
صحيح مسلم |
6879
| إذا نزل أحدكم منزلا فليقل أعوذ بكلمات الله التامات من شر ما خلق فإنه لا يضره شيء حتى يرتحل منه |
جامع الترمذي |
3437
| من نزل منزلا ثم قال أعوذ بكلمات الله التامات من شر ما خلق لم يضره شيء حتى يرتحل من منزله ذلك |
سنن ابن ماجه |
3547
| لو أن أحدكم إذا نزل منزلا قال أعوذ بكلمات الله التامة من شر ما خلق لم يضره في ذلك المنزل شيء حتى يرتحل منه |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3547 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3547
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
سفر میں کسی مقام پر دوپہر یا رات کو آرام کرنے کےلئے رکنا پڑے تو جانوروں کو بٹھا کر سامان اٹھا کر یہ دعا پڑھ لینی چاہیے۔
(2)
کسی ہوٹل میں ٹھرتے وقت بھی اپنے کمرے میں داخل ہوکر یہ دعا پڑھ لیں۔
(3)
اللہ کی تعریف کے کلمات اور اللہ تعالیٰ کے اسمائےحسنیٰٰ اور صفات مقدسہ کے ذکر میں بہت برکات ہیں۔
(4)
اللہ کی صفات کی پناہ لینے سے مراد اللہ کی ذات کی پناہ ہے۔
کیونکہ اللہ تعالیٰ ان صفات سے متصف ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
سفر میں کسی مقام پر دوپہر یا رات کو آرام کرنے کےلئے رکنا پڑے تو جانوروں کو بٹھا کر سامان اٹھا کر یہ دعا پڑھ لینی چاہیے۔
(2)
کسی ہوٹل میں ٹھرتے وقت بھی اپنے کمرے میں داخل ہوکر یہ دعا پڑھ لیں۔
(3)
اللہ کی تعریف کے کلمات اور اللہ تعالیٰ کے اسمائےحسنیٰٰ اور صفات مقدسہ کے ذکر میں بہت برکات ہیں۔
(4)
اللہ کی صفات کی پناہ لینے سے مراد اللہ کی ذات کی پناہ ہے۔
کیونکہ اللہ تعالیٰ ان صفات سے متصف ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3547]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3437
آدمی جب کسی منزل پر اترے تو کیا پڑھے؟
خولہ بنت حکیم سلمیہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی منزل پر اترے اور یہ دعا پڑھے: «أعوذ بكلمات الله التامات من شر ما خلق» ”میں اللہ کے مکمل کلموں کے ذریعہ اللہ کی پناہ میں آتا ہوں اس کی ساری مخلوقات کے شر سے“، تو جب تک کہ وہ اپنی اس منزل سے کوچ نہ کرے اسے کوئی چیز نقصان نہ پہنچائے گی۔“ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3437]
خولہ بنت حکیم سلمیہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی منزل پر اترے اور یہ دعا پڑھے: «أعوذ بكلمات الله التامات من شر ما خلق» ”میں اللہ کے مکمل کلموں کے ذریعہ اللہ کی پناہ میں آتا ہوں اس کی ساری مخلوقات کے شر سے“، تو جب تک کہ وہ اپنی اس منزل سے کوچ نہ کرے اسے کوئی چیز نقصان نہ پہنچائے گی۔“ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3437]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
میں اللہ کے مکمل کلموں کے ذریعہ اللہ کی پناہ میں آتا ہوں اس کی ساری مخلوقات کے شر سے۔
وضاحت:
1؎:
میں اللہ کے مکمل کلموں کے ذریعہ اللہ کی پناہ میں آتا ہوں اس کی ساری مخلوقات کے شر سے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3437]
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6878
حضرت خولہ بنت حکیم سلمیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا، "جس نے کہیں پڑاؤ کیا پھر یہ کلمات کہے میں اللہ کے کلمات تامہ کی پناہ لیتا ہوں، اس کی ساری مخلوقات کے شر سے تو جب تک وہ اس منزل سے روانہ نہ ہو جائے گا، اس کوکوئی چیز ضرر نہیں پہنچاسکے گی۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:6878]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اللہ کے کلمات تامہ سے مراد،
وہ کلمات ہیں جو ہر عیب و نقص سے پاک ہیں،
نفع اور شفا بخش ہیں،
پر زور تاثیر ہیں،
اس لیے بعض نے ان سے مراد،
قرآن لیا ہے کہ میں اس کی پناہ میں آتا ہوں اور قرآن اللہ کا کلام ہے اور اس کی صفت ہے،
اس کی صفت کی پناہ لینا جائز ہے۔
فوائد ومسائل:
اللہ کے کلمات تامہ سے مراد،
وہ کلمات ہیں جو ہر عیب و نقص سے پاک ہیں،
نفع اور شفا بخش ہیں،
پر زور تاثیر ہیں،
اس لیے بعض نے ان سے مراد،
قرآن لیا ہے کہ میں اس کی پناہ میں آتا ہوں اور قرآن اللہ کا کلام ہے اور اس کی صفت ہے،
اس کی صفت کی پناہ لینا جائز ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6878]
سعد بن أبي وقاص الزهري ← خولة بنت حكيم السلمية