🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. باب تَرَائِي أَهْلِ الْجَنَّةِ أَهْلَ الْغُرَفِ كَمَا يُرَى الْكَوْكَبُ فِي السَّمَاءِ:
باب: اس بات کے بیان میں کہ جنت والے جنت میں ایک دوسرے کے بالا خانے اس طرح دیکھیں گے جس طرح کہ تم آسمانوں میں ستاروں کو دیکھتے ہو۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2831 ترقیم شاملہ: -- 7144
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ . ح وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ لَيَتَرَاءَوْنَ أَهْلَ الْغُرَفِ مِنْ فَوْقِهِمْ، كَمَا تَتَرَاءَوْنَ الْكَوْكَبَ الدُّرِّيَّ الْغَابِرَ مِنَ الْأُفُقِ مِنَ الْمَشْرِقِ أَوِ الْمَغْرِبِ لِتَفَاضُلِ مَا بَيْنَهُمْ "، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تِلْكَ مَنَازِلُ الْأَنْبِيَاءِ لَا يَبْلُغُهَا غَيْرُهُمْ، قَالَ: " بَلَى، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ رِجَالٌ آمَنُوا بِاللَّهِ وَصَدَّقُوا الْمُرْسَلِينَ ".
عطاء بن یسار نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اہل جنت فضیلت میں باہمی فرق کی بنا پر اپنے اوپر بالاخانوں میں رہنے والوں کو اس طرح دیکھیں گے جس طرح تم آسمان کے مشرقی یا مغربی کنارے میں چمکتے ہوئے تنہا ستارے کو دیکھتے ہو“۔ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا وہ انبیاء علیہم السلام کے رہنے کی جگہیں ہوں گی جن تک دوسرا کوئی نہیں پہنچ سکتا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یہ ایسے مرد ہوں گے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور انہوں نے رسولوں کی تصدیق کی“۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7144]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اہل جنت اپنے سے اوپر بالا خانہ والوں کو اس طرح دیکھیں گے، جس طرح تم اس روشن ستارے کو دیکھتے ہو جو دور کے مشرقی یا مغربی کنارے میں جا رہا ہوتا ہے، اس فرق و امتیاز کی بنا پر جو ان میں باہمی ہو گا۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ انبیاء کے مقامات ہوں گے، دوسرے لوگ ان تک نہ پہنچ سکیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یہ وہ لوگ ہوں گے جو اللہ پر ایمان لائے اور انہوں نے رسولوں کی تصدیق کی۔“ یعنی جنہوں نے دل کی گہرائیوں سے صحیح اور حقیقی عملاً تصدیق کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7144]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2831
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيدصحابي
👤←👥عطاء بن يسار الهلالي، أبو محمد
Newعطاء بن يسار الهلالي ← أبو سعيد الخدري
ثقة
👤←👥صفوان بن سليم القرشي، أبو عبد الله، أبو الحارث
Newصفوان بن سليم القرشي ← عطاء بن يسار الهلالي
ثقة
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله
Newمالك بن أنس الأصبحي ← صفوان بن سليم القرشي
رأس المتقنين وكبير المتثبتين
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← مالك بن أنس الأصبحي
ثقة حافظ
👤←👥هارون بن سعيد السعدي، أبو جعفر
Newهارون بن سعيد السعدي ← عبد الله بن وهب القرشي
ثقة فاضل
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله
Newمالك بن أنس الأصبحي ← هارون بن سعيد السعدي
رأس المتقنين وكبير المتثبتين
👤←👥معن بن عيسى القزاز، أبو يحيى
Newمعن بن عيسى القزاز ← مالك بن أنس الأصبحي
ثقة ثبت
👤←👥عبد الله بن جعفر البرمكي، أبو محمد
Newعبد الله بن جعفر البرمكي ← معن بن عيسى القزاز
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
3256
أهل الجنة يتراءون أهل الغرف من فوقهم كما يتراءيون الكوكب الدري الغابر في الأفق من المشرق أو المغرب لتفاضل ما بينهم تلك منازل الأنبياء لا يبلغها غيرهم قال بلى والذي نفسي بيده رجال آمنوا بالله وصدقوا المرسلين
صحيح مسلم
7144
أهل الجنة ليتراءون أهل الغرف من فوقهم كما تتراءون الكوكب الدري الغابر من الأفق من المشرق أو المغرب لتفاضل ما بينهم تلك منازل الأنبياء لا يبلغها غيرهم قال بلى والذي نفسي بيده رجال آمنوا بالله وصدقوا المرسلين
جامع الترمذي
3658
أهل الدرجات العلى ليراهم من تحتهم كما ترون النجم الطالع في أفق السماء أبا بكر وعمر منهم وأنعما
سنن أبي داود
3987
الرجل من أهل عليين ليشرف على أهل الجنة فتضيء الجنة لوجهه كأنها كوكب دري أبا بكر وعمر لمنهم وأنعما
سنن ابن ماجه
96
أهل الدرجات العلى يراهم من أسفل منهم كما يرى الكوكب الطالع في الأفق من آفاق السماء أبا بكر وعمر منهم وأنعما
المعجم الصغير للطبراني
863
أهل الدرجات العلى ليراهم من هو أسفل منهم كما ترون الكوكب الدري في أفق السماء أبا بكر وعمر لمنهم وأنعما
المعجم الصغير للطبراني
877
أهل الدرجات العلى ليراهم من هم أسفل منهم كما ترون الكوكب الدري في أفق السماء أبا بكر وعمر لمنهم وأنعما
مسندالحميدي
772
إن أهل الدرجات العلا ليرون أهل عليين كما ترون الكوكب الدري في الأفق، وإن أبا بكر وعمر لمنهم، وأنعما
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6555
أهل الجنة ليتراءون الغرف في الجنة كما تتراءون الكوكب في السماء
صحيح مسلم
7144
أهل الجنة ليتراءون الغرفة في الجنة كما تراءون الكوكب في السماء
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 7144 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7144
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
الغابر:
چلنے والا،
جانے والا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7144]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3256
3256. حضرت ابو سعید خدری ؓسے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”اہل جنت بالائی منزل والوں کو اس طرح دیکھیں گے جس طرح لوگ آسمان کے مشرقی یا مغربی کنارے پر چمکتا ہوا ستارہ دیکھتے ہیں کیونکہ اہل جنت کا آپس میں فرق مراتب ضرور ہو گا۔“ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ تو انبیاء ؑ کے مقام ہیں، ان کے مراتب پر کوئی اور نہیں پہنچ سکتا؟ آپ نے فرمایا: ”کیوں نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جو لوگ اللہ پر ایمان لائے اور رسولوں کی تصدیق کی (وہ یقیناًان مراتب کو حاصل کریں گے۔“) [صحيح بخاري، حديث نمبر:3256]
حدیث حاشیہ:
جو لوگ دنیا میں انبیائی طریق کار پر کاربند رہے اور اسلام قبول کرکے اعمال صالحہ میں زندگی گزاری، یہ محل ان ہی کے ہوں گے۔
(اللهم اجعلنا منهم۔
آمین)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3256]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3987
باب:۔۔۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”علیین والوں میں سے ایک شخص جنتیوں کو جھانکے گا تو جنت اس کے چہرے کی وجہ سے چمک اٹھے گی گویا وہ موتی سا جھلملاتا ہوا ستارہ ہے۔‏‏‏‏“ راوی کہتے ہیں: اسی طرح «دري» دال کے پیش اور یا کی تشدید کے ساتھ حدیث وارد ہے دال کے زیر اور ہمزہ کے ساتھ نہیں اور آپ نے فرمایا ابوبکرو عمر رضی اللہ عنہما بھی انہیں میں سے ہیں بلکہ وہ دونوں ان سے بھی بہتر ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الحروف والقراءات /حدیث: 3987]
فوائد ومسائل:
سورہ نور کی آیت کریمہ (عربی میں لکھا ہے) (النور:35) میں یہ لفط دری کی معروف قراءت دال کے ضمہ را اور یا کی شد کے ساتھ ہے۔
جبکہ حمزہ اور ابوبکر اسے دال کے ضمہ اور ہمزہ کے ساتھ پڑھتے ہیں اور ابوعمر اور کسائی دال کےکسرہ اور ہمزہ کےساتھ۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3987]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث96
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلند درجے والوں کو (جنت میں) نیچے درجہ والے دیکھیں گے جس طرح چمکتا ہوا ستارہ آسمان کی بلندیوں میں دیکھا جاتا ہے، اور ابوبکرو عمر بھی انہیں میں سے ہیں، اور ان میں سب سے فائق و برتر ہیں“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 96]
اردو حاشہ:
(1)
اس روایت کو بھی ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے، اور مزید لکھا ہے کہ اس روایت کے کچھ حصے کا حسن درجے کا شاھد ملتا ہے، علاوہ ازیں شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے مجموعی طرق کے اعتبار سے اسے صحیح قرار دیا، دیکھئے: (الروض النضير في ترتيب و تخريج معجم الطبراني الصغير، حديث: 970)
لہٰذا معلوم ہوا کہ یہ روایت سندا ضعیف ہونے کے باوجود شواہد کی بنا پر قابل حجت ہے۔

(2)
جنت کے درجات کا فرق، کوئی معمولی فرق نہیں، اس لیے مومن کو بلند سے بلند درجات کے حصول کے لیے زیادہ سے زیادہ محنت اور کوشش کرنی چاہیے۔

(3)
افق میں طلوع ہونے والا ستارہ اگرچہ دیکھنے میں زیادہ بلند محسوس نہیں ہوتا، لیکن درحقیقت بہت بلندی پر ہوتا ہے۔
جنت کے مختلف درجات میں مذکور نعمتیں سرسری نظر میں ایک دوسری سے بہت زیادہ مختلف محسوس نہیں ہوتیں، مگر حقیقت میں ان کا باہمی فرق اتنا زیادہ ہے کہ اندازہ بھی نہیں لگا جا سکتا۔

(4)
آسمان میں چمکنے والا ستارہ زمین سے بہت زیادہ دور ہوتا ہے۔
اس طرح اہل جنت کے درجات کا فرق بھی بہت زیادہ ہے۔

(5)
اَنْعَمَا کا ایک مفہوم زیادہ ہونا ہے، یعنی شیخین رضی اللہ عنہما کا درجہ بہت زیادہ ہے۔
دوسرا یہ لفظ نعمت سے ماخوذ بھی ہو سکتا ہے۔
اس صورت میں مطلب یہ ہو گا کہ یہ حضرات بہت نعمتوں میں ہیں اور اللہ کے بے شمار انعامات سے سرفراز ہیں۔

(6)
اس حدیث میں حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے بلند درجات کی تصریح ہے۔
اس طرح اس حدیث میں ان دونوں جلیل القدر صحابیوں کے لیے جنت کی واضح خوشخبری ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 96]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3256
3256. حضرت ابو سعید خدری ؓسے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”اہل جنت بالائی منزل والوں کو اس طرح دیکھیں گے جس طرح لوگ آسمان کے مشرقی یا مغربی کنارے پر چمکتا ہوا ستارہ دیکھتے ہیں کیونکہ اہل جنت کا آپس میں فرق مراتب ضرور ہو گا۔“ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ تو انبیاء ؑ کے مقام ہیں، ان کے مراتب پر کوئی اور نہیں پہنچ سکتا؟ آپ نے فرمایا: ”کیوں نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جو لوگ اللہ پر ایمان لائے اور رسولوں کی تصدیق کی (وہ یقیناًان مراتب کو حاصل کریں گے۔“) [صحيح بخاري، حديث نمبر:3256]
حدیث حاشیہ:
1۔
تمام امتوں کے مومن جنت میں ہوں گے لیکن بلند منازل صرف اس امت مرحومہ کے اہل ایمان کو ملیں گی کیونکہ تمام رسولوں کی تصدیق صرف انھی سے متصور ہو سکتی ہے جامع ترمذی کی روایت میں ہے۔
کہ حضرت ابو بکر ؓاور حضرت عمر ؓان لوگوں میں سے ہوں گےحضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”جنت میں بلند منازل ہوں گی جن کا بیرون اندر سے اور اندرون باہر سے دیکھا جائے گا۔
“ ایک دیہاتی نے کہا:
اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !یہ منازل کن لوگوں کی ہوں گی فرمایا:
”یہ منازل ان لوگوں کے لیے ہیں جو نرم بات کرتے ہیں۔
ہمیشہ روزے سے رہتے ہیں اور رات کو اٹھ کر نماز پڑھتے ہیں جبکہ تمام لوگ سورہے ہوتے ہیں“ (جامع الترمذي، البر و الصلة، حدیث: 1984)
2۔
واضح رہے کہ جنت میں تمام اہل ایمان اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کرنے والے ہی ہوں گے لیکن یہ لوگ مذکورہ صفت کے باعث ان سے ممتاز اور نمایاں ہوں گے کیونکہ انھوں نےایمان وتصدیق کا حق ادا کیا ہوگا۔
(عمدة القاري: 610/10)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3256]

الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:772
772- سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”(جنت میں) بلند درجات والے لوگ ”علیین“ کے لوگوں کو یوں دیکھیں گے، جس طرح تم افق میں چمکتے ہوئے ستارے کودیکھتے ہو اور ابوبکر و عمر ان میں شامل ہیں۔ اور یہ دونوں بہت اچھے ہیں۔“ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:772]
فائدہ:
یہ حدیث ان الفاظ کے ساتھ صحیح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں بلند درجات والوں کو جو ان کے نیچے ہوں گے ایسے ہی دیکھیں گے جیسے تم آسمان کے افق پر طلوع ہونے والے ستارے کو دیکھتے ہو اور ابوبکر و عمر دونوں انھی میں سے ہوں گے اور کیا ہی خوب ہیں دونوں“۔ [سنن الترمذي 3658 صحيح]
اس حدیث میں جنت کے درجات بیان ہوئے ہیں نیز سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہم کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 773]

Sahih Muslim Hadith 7144 in Urdu