صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
2. باب الخسف بالجيش الذي يؤم البيت:
باب: بیت اللہ کے ڈھانے کا ارادہ کرنے والے لشکر دھنسائے جانے کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 2882 ترقیم شاملہ: -- 7240
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ابْنِ الْقِبْطِيَّةِ ، قَالَ: دَخَلَ الْحَارِثُ بْنُ أَبِي رَبِيعَةَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَفْوَانَ، وَأَنَا مَعَهُمَا عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، فَسَأَلَاهَا عَنِ الْجَيْشِ الَّذِي يُخْسَفُ بِهِ، وَكَانَ ذَلِكَ فِي أَيَّامِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، فَقَالت: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَعُوذُ عَائِذٌ بِالْبَيْتِ فَيُبْعَثُ إِلَيْهِ بَعْثٌ، فَإِذَا كَانُوا بِبَيْدَاءَ مِنَ الْأَرْضِ خُسِفَ بِهِمْ "، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَكَيْفَ بِمَنْ كَانَ كَارِهًا؟، قَالَ: يُخْسَفُ بِهِ مَعَهُمْ، وَلَكِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى نِيَّتِهِ "، وَقَالَ أَبُو جَعْفَرٍ: هِيَ بَيْدَاءُ الْمَدِينَةِ،
جریر نے عبدالعزیز بن رفیع سے اور انہوں نے عبداللہ بن قبطیہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: حارث بن ابی ربیعہ، عبداللہ بن صفوان اور میں بھی ان کے ساتھ تھا۔ ہم ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان دونوں نے ان سے اس لشکر کے متعلق سوال کیا جس کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا، یہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ (کی خلافت) کا زمانہ تھا۔ (ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک پناہ لینے والا بیت اللہ میں پناہ لے گا، اس کی طرف ایک لشکر بھیجا جائے گا، جب وہ لوگ زمین کے بنجر ہموار حصے میں ہوں گے تو ان کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔“ میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! جو مجبور ان کے ساتھ (شامل) ہو گا اس کا کیا بنے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے بھی ان کے ساتھ دھنسا دیا جائے گا، البتہ قیامت کے دن اس کو اس کی نیت کے مطابق اٹھایا جائے گا۔“ اور ابوجعفر نے کہا: یہ مدینہ (کے قریب) کا چٹیل حصہ ہوگا (جہاں ان کو دھنسا دیا جائے گا۔) [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7240]
عبید اللہ بن قبطیہ رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں حارث بن ابی ربیعہ اور عبداللہ بن صفوان، ام المومنین حضرت اُم سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور میں بھی ان کے ساتھ تھا انھوں نے ان سے اس لشکر کے بارے میں دریافت کیا جسے دھنسا دیا جائے گا اور یہ حضرت ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہدکی بات ہے تو حضرت اُم سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے جواب دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"ایک پناہ لینے والا بیت اللہ کی پناہ لے گا۔ اس کی طرف ایک لشکر بھیجا جائے گا جب وہ لشکری ایک چٹیل میدان میں پہنچیں گے۔ انہیں دھنسا دیا جائے گا۔"تو میں نے پوچھا اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! تو جو لوگ مجبوراًشریک ہوں گے، ان کا کیا بنے گا؟آپ نے فرمایا:"اس کو بھی ان کے ساتھ دھنسا دیا جائے گا۔ لیکن قیامت کے دن اسے اپنی نیت پر اٹھا یا جائے گا۔"ابو جعفر کہتے ہیں اس میدان سے مراد مدینہ کا مقام بیداء ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7240]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2882
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
7240
| يعوذ عائذ بالبيت فيبعث إليه بعث فإذا كانوا ببيداء من الأرض خسف بهم فقلت يا رسول الله فكيف بمن كان كارها قال يخسف به معهم ولكنه يبعث يوم القيامة على نيته |
جامع الترمذي |
2171
| إنهم يبعثون على نياتهم |
سنن أبي داود |
4286
| يكون اختلاف عند موت خليفة فيخرج رجل من أهل المدينة هاربا إلى مكة فيأتيه ناس من أهل مكة فيخرجونه وهو كاره فيبايعونه بين الركن والمقام ويبعث إليه بعث من أهل الشام فيخسف بهم بالبيداء بين مكة والمدينة فإذا رأى الناس ذلك أتاه أبدال الشام وعصائب أهل العراق فيبا |
سنن أبي داود |
4289
| يخسف بهم ولكن يبعث يوم القيامة على نيته |
سنن ابن ماجه |
4065
| إنهم يبعثون على نياتهم |
مهاجر بن القبطية المكي ← أم سلمة زوج النبي