مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. مسند على بن ابي طالب رضي الله عنه
حدیث نمبر: 1187
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَسُفْيَانُ بْنُ وَكِيعِ بْنِ الْجَرَّاحِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ دِجَاجَةَ الْأَسَدِيِّ ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَبُو مَسْعُودٍ فَقَالَ لَهُ: يَا فَرُّوخُ، أَنْتَ الْقَائِلُ: لَا يَأْتِي عَلَى النَّاسِ مِائَةُ سَنَةٍ وَعَلَى الْأَرْضِ عَيْنٌ تَطْرِفُ؟ أَخْطَتْ اسْتُكَ الْحُفْرَةَ! إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَأْتِي عَلَى النَّاسِ مِائَةُ سَنَةٍ، وَعَلَى الْأَرْضِ عَيْنٌ تَطْرِفُ مِمَّنْ هُوَ الْيَوْمَ حَيٌّ"، وَإِنَّمَا رَخَاءُ هَذِهِ وَفَرَجُهَا بَعْدَ الْمِائَةِ.
نعیم بن دجاجہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا آپ ہی نے یہ بات فرمائی ہے کہ لوگوں پر سو سال نہیں گذریں گے کہ زمین پر کوئی آنکھ ایسی باقی نہ بچے گی جس کی پلکیں جھپکتی ہوں، یعنی سب لوگ مرجائیں گے؟ آپ سے اس میں خطا ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بات فرمائی تھی وہ یہ ہے کہ ”آج جو لوگ زندہ ہیں سو سال گذرنے پر ان میں سے کسی کی آنکھ ایسی نہ رہے گی کہ جس کی پلکیں جھپکتی ہوں“، یعنی قیامت مراد نہیں ہے، واللہ! اس امت کو سو سال کے بعد تو سہولیات ملیں گی۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1187]
حکم دارالسلام: إسناده قوي
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 1187 in Urdu
نعيم بن دجاجة الأسدي ← علي بن أبي طالب الهاشمي