مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. مُسْنَدُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 14197
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ . ح وَرَوْحٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ الْأَعْرَجِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ،" أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَعْطَى أُمَّهُ حَدِيقَةً مِنْ نَخْلٍ حَيَاتَهَا، فَمَاتَتْ، فَجَاءَ إِخْوَتُهُ، فَقَالُوا: نَحْنُ فِيهِ شَرْعٌ سَوَاءٌ، فَأَبَى، فَاخْتَصَمُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَسَمَهَا بَيْنَهُمْ مِيرَاثًا".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصار آدمی نے اپنی والدہ کو تا قیامت کھجور کا ایک باغ دے دیا جب اس کی والدہ کا انتقال ہو گیا تو اس کے بھائی آئے اور کہنے لگے کہ ہم سب کا اس میں برابر کا حصہ ہے لیکن اس نے انکار کر دیا لوگ یہ مقدمہ لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ان سب کے درمیان وراثت کے طور پر تقسیم فرما دیا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 14197]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، محمد بن إبراهيم التيمي لم يسمع من جابر، وأنظر فى مسلم: 1625، "أعمَرَتِ امرَأَة بِالمَدِينَةِ حَائِطًا لَهَا ابنًا لَهَا"
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 14197 in Urdu
محمد بن إبراهيم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري