مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
294. حديث عقبة بن الحارث رضي الله تعالى عنه
حدیث نمبر: 16151
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ سَرِيعًا، فَدَخَلَ عَلَى بَعْضِ نِسَائِهِ، ثُمَّ خَرَجَ، وَرَأَى مَا فِي وُجُوهِ الْقَوْمِ مِنْ تَعَاجُبِهِمْ وَلُيِسَ عَلَيْهِ، قَالَ:" ذَكَرْتُ وَأَنَا فِي الصَّلَاةِ تِبْرًا عِنْدَنَا، فَكَرِهْتُ أَنْ يُمْسِيَ، أَوْ يَبِيتَ عِنْدَنَا، فَأَمَرْتُ بِقِسْمَتِهِ".
سیدنا عقبہ بن حارث سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے عصر کی نماز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی سلام پھیرنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم تیزی سے اٹھے اور کسی زوجہ محترمہ کے حجرے میں چلے گئے تھوڑی دیر بعد باہر آئے اور دیکھا کہ لوگوں کے چہروں پر تعجب کے آثار ہیں تو فرمایا کہ مجھے نماز میں یہ بات یاد آگئی تھی کہ ہمارے پاس چاندی کا ایک ٹکڑا پڑا رہ گیا ہے میں نے اس بات کو گوارہ نہ کیا کہ شام تک یا رات تک وہ ہمارے پاس ہی رہتا اس لئے تقسیم کرنے کا حکم دے کر آیا ہوں۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16151]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1221
الرواة الحديث:
عبد الله بن أبي مليكة القرشي ← عقبة بن الحارث القرشي