الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
976. حديث أبى أمامة الباهلي
حدیث نمبر: 22159
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ , حَدَّثَنَا رَبَاحٌ , عَنْ مَعْمَرٍ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ , عَنْ جَدِّهِ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ يَقُولُ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: مَا الْإِثْمُ؟ فَقَالَ: " إِذَا حَكَّ فِي نَفْسِكَ شَيْءٌ فَدَعْهُ" , قَالَ: فَمَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ:" إِذَا سَاءَتْكَ سَيِّئَتُكَ , وَسَرَّتْكَ حَسَنَتُكَ , فَأَنْتَ مُؤْمِنٌ" .
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ایمان کیا ہوتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تمہیں اپنی برائی سے غم اور نیکی سے خوشی ہو تو تم مؤمن ہو گناہ کیا ہوتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی چیز تمہارے دل میں کھٹکے تو اسے چھوڑ دو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22159]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وفي سماع يحيى بن أبى كثير من زيد بن سلام خلاف، وقد توبع
الرواة الحديث:
ممطور الأسود الحبشي ← صدي بن عجلان الباهلي