مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1176. حديث أم سلمة زوج النبى صلى الله عليه وسلم
حدیث نمبر: 26694
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، قَالَ: دَخَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، فَقَالَ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، إِنِّي أَخْشَى أَنْ أَكُونَ قَدْ هَلَكْتُ، إِنِّي مِنْ أَكْثَرِ قُرَيْشٍ مَالًا، بِعْتُ أَرْضًا لِي بِأَرْبَعِينَ أَلْفَ دِينَارٍ، فَقَالَتْ: أَنْفِقْ يَا بُنَيَّ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ مِنْ أَصْحَابِي مَنْ لَا يَرَانِي بَعْدَ أَنْ أُفَارِقَهُ" ، فَأَتَيْتُ عُمَرَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَأَتَاهَا، فَقَالَ: بِاللَّهِ أَنَا مِنْهُمْ؟ قَالَتْ: اللَّهُمَّ لَا، وَلَنْ أُبَرِّئَ أَحَدًا بَعْدَكَ.
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عبدالرحمن بن عوف ان کے پاس آئے اور کہنے لگے اماں جان مجھے اندیشہ ہے کہ مال کی کثرت مجھے ہلاک نہ کردے۔ کیونکہ میں قریش میں سب سے زیادہ مالدار ہوں انہوں نے جواب دیا کہ بیٹا اسے خرچ کرو کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میرے بعض ساتھی ایسے بھی ہوں گے کہ میری ان سے جدائی ہونے کے بعد وہ مجھے دوبارہ کبھی نہ دیکھ سکیں گے، حضرت عبدالرحمن بن عوف جب باہر نکلے تو راستے میں حضرت عمر سے ملاقات ہوگئی انہوں نے حضرت عمر کو یہ بات بتائی حضرت عمر خود حضرت ام سلمہ کے پاس پہنچے اور گھر میں داخل ہو کر فرمایا اللہ کی قسم کھا کر بتائیے کیا میں بھی ان میں سے ہوں؟ انہوں نے فرمایا نہیں لیکن آپ کے بعد میں کسی کے متعلق یہ بات نہیں کہہ سکتی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26694]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أم سلمة زوج النبي، أم سلمة | صحابية | |
👤←👥شقيق بن سلمة الأسدي، أبو وائل شقيق بن سلمة الأسدي ← أم سلمة زوج النبي | مخضرم | |
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد سليمان بن مهران الأعمش ← شقيق بن سلمة الأسدي | ثقة حافظ | |
👤←👥محمد بن عبيد الطنافسي، أبو عبد الله محمد بن عبيد الطنافسي ← سليمان بن مهران الأعمش | ثقة يحفظ |
Musnad Ahmad Hadith 26694 in Urdu
شقيق بن سلمة الأسدي ← أم سلمة زوج النبي